جرمنی نے اسرائیل کو غزہ میں استعمال ہونے والا عسکری سامان برآمد کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق جرمن چانسلر فریڈرِک مرز نے کہا ہے کہ جرمنی اب اسرائیل کو وہ فوجی ساز و سامان فراہم نہیں کرے گا جو غزہ میں استعمال ہو سکتا ہے۔چانسلر مرز نے بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا جواز سمجھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، اور اگلے نوٹس تک غزہ میں استعمال ہونے والے کسی بھی قسم کے فوجی سامان کی برآمد روک دی گئی ہے۔دوسری جانب، ڈچ وزیر خارجہ کیسپر ویلڈ کیمپ نے بھی اسرائیل کی غزہ میں کارروائیاں تیز کرنے کے فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ غزہ میں انسانی صورت حال تباہ کن ہے اور فوری بہتری کی ضرورت ہے۔ڈچ وزیر خارجہ کے مطابق اسرائیلی کارروائیاں یرغمالیوں کی واپسی میں مددگار ثابت نہیں ہوں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈچ حکومت کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ غزہ فلسطینیوں کا ہے۔
یورپی ممالک کی جانب سے اسرائیل کی پالیسیوں پر بڑھتی تنقید عالمی سطح پر ایک نئے سفارتی دباؤ کی نشاندہی کر رہی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ پر سخت سزاؤں کی تجویز
بنوں ،سیکیورٹی فورسز کا بڑا ایکشن، 14 سہولت کار گرفتار، 3 ٹھکانے تباہ
شہباز شریف کی اسرائیلی کابینہ کے فیصلے کی شدید مذمت
پاکستانی کرکٹر مبینہ زیادتی کا الزام، مانچسٹر پولیس کی تفتیش جاری