شانِ پاکستان
تحریر سعد فاروق
زمین کے ہر گوشے میں کوئی نہ کوئی کہانی چھپی ہوتی ہے۔ کہیں کسی پہاڑ کی چوٹی صدیوں سے ہوا کو چیرتی کھڑی ہے، کہیں کوئی دریا اپنی موجوں میں صدیوں کا سفر سمائے بہہ رہا ہے، اور کہیں کسی دھرتی کا ذرّہ بھی اپنی پہچان، اپنی عظمت اور اپنی کہانی کا امین ہوتا ہے۔ ہماری دھرتی — پاکستان — بھی ایسی ہی ایک کہانی ہے، جو وقت کے اوراق پر سنہری حروف میں لکھی گئی ہے۔ یہ سرزمین صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک خواب کی تعبیر، ایک قربانی کا صلہ، اور ایک ایسی روشنی کا مینار ہے جو اندھیروں میں بھٹکتے انسان کو راستہ دکھاتا ہے۔
پاکستان کی بنیاد کسی لالچ یا اقتدار کی ہوس پر نہیں رکھی گئی، بلکہ یہ ایک نظریہ تھا، ایک وعدہ تھا، اور ایک ایمان تھا۔ یہ وعدہ محمد علی جناحؒ اور ان کے ساتھیوں نے ایک ایسی قوم سے کیا، جو غلامی کی زنجیروں میں جکڑی تھی۔ یہ ایمان علامہ اقبالؒ نے اپنے اشعار میں بیدار کیا، وہ خواب جو انہوں نے دیکھا، ہر لفظ میں ایک عزم کی صدا تھی۔ اقبال کا یہ خواب محض سیاسی نقشہ نہیں بلکہ روحانی انقلاب کا پیش خیمہ تھا۔
یہ سرزمین گنگا جمنا کی تہذیب کی دھرتی بھی ہے اور قرآن کی ہدایت کا مرکز بھی۔ یہاں کے پہاڑوں میں ہمالیہ کی سادگی اور وقار جھلکتا ہے، تو صحراؤں میں ریت کے ذروں کی صدیوں پرانی دانائی چھپی ہے۔ وادیٔ سندھ کی گواہی دینے والے کھنڈرات آج بھی بتاتے ہیں کہ یہ خطہ تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے۔ ہڑپہ اور موہنجو داڑو کی مٹی میں نہ جانے کتنے قصے دفن ہیں، جو وقت کی زبان میں کہے جانے کے منتظر ہیں۔
پاکستان کی شان اس کے قدرتی حسن میں بھی ہے۔ شمال کے برف پوش پہاڑ، وادیٔ ہنزہ کے شفاف جھرنے، سوات کی سبز وادیاں، گلگت کے چمکتے گلیشیئرز، اور بحیرۂ عرب کے نیلگوں پانی—یہ سب مل کر قدرت کا ایسا شاہکار بناتے ہیں، جو دنیا میں نایاب ہے۔ دنیا کے دوسرے حصے میں لوگ کروڑوں خرچ کر کے ایسی فضا تلاش کرتے ہیں، جو یہاں ہر سانس میں گھلتی ہے۔
مگر پاکستان کی اصل شان صرف اس کی مٹی، پہاڑ یا دریا نہیں، بلکہ اس کے لوگ ہیں۔ وہ کسان جو دھوپ میں جل کر، پسینے کو بارش بنا کر فصل اگاتے ہیں۔ وہ مزدور جو اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں محنت کا نقشہ کھینچتے ہیں۔ وہ سپاہی جو اپنی نیند قربان کر کے ہماری نیند کی حفاظت کرتا ہے۔ وہ استاد جو کچے سکول میں بیٹھ کر بھی علم کا چراغ جلاتا ہے۔ یہ سب پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں وہ لمحے بھی ہیں جب دشمن نے اس کی طرف میلی نظر ڈالی، مگر اس دھرتی کے بیٹے دیوار کی طرح کھڑے ہو گئے۔ 1965 کی جنگ میں لاہور کی فضاؤں میں گونجتے ہوئے نعرے، 1971 کی آزمائش میں بھی عزم کا مینار، اور کارگل کی برفانی چوٹیوں پر بہادری کی داستانیں—یہ سب پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ ہمارے سپاہی اپنی جان دے کر بھی دشمن کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ یہ دھرتی کبھی خالی نہیں ہوگی، یہاں ہمیشہ ایک سپاہی کھڑا ہوگا، ایک جوان سانس لے گا، اور ایک ماں اپنے بیٹے پر فخر کرے گی۔
پاکستان کی شان اس کے نوجوان ہیں، جن کے خواب ستاروں سے بھی اونچے ہیں۔ یہ نوجوان جب قلم پکڑتے ہیں تو علم کے میدان میں جھنڈے گاڑ دیتے ہیں، جب ہنر دکھاتے ہیں تو دنیا حیران رہ جاتی ہے، اور جب کرکٹ کے میدان میں اترتے ہیں تو پوری قوم ایک ساتھ دھڑکتی ہے۔ عبدالستار ایدھی جیسے لوگ اس شان کو انسانیت کی معراج تک لے جاتے ہیں، جن کی زندگی ایک پیغام تھی کہ محبت اور خدمت سے بڑا کوئی ہتھیار نہیں۔
یہ سرزمین مشکلات سے بھی گزری ہے—سیلابوں کا قہر، زلزلوں کا زخم، معاشی بحرانوں کا بوجھ—مگر پاکستانی قوم نے ہر بار راکھ سے اٹھ کر نیا جنم لیا۔ یہاں کا بچہ بھی اگر کھلونا ٹوٹ جائے تو لکڑی اور ڈبے سے نیا بنا لیتا ہے، یہ قوم بھی اسی بچے کی طرح ہر مشکل میں سے راستہ نکال لیتی ہے۔
پاکستان کی شان اس کے رنگ، اس کی زبانیں، اس کی ثقافت اور اس کی محبت میں چھپی ہے۔ پنجابی کی مٹھاس، سندھی کا وقار، بلوچی کی بہادری، پشتون کا غیرت مند دل، اور کشمیری کی وفاداری—یہ سب ایک ہی پرچم کے سائے تلے جُڑ کر ایک ایسی قوسِ قزح بناتے ہیں، جسے دیکھ کر ہر دل فخر سے بھر جاتا ہے۔
پاکستان کا پرچم صرف کپڑے کا ٹکڑا نہیں، یہ قربانیوں کی چادر ہے۔ اس کا سبز رنگ امید اور ایمان کا نشان ہے، اس کا سفید رنگ اقلیتوں کی عزت اور محبت کی علامت ہے۔ جب یہ پرچم ہوا میں لہراتا ہے، تو اس کے سائے میں لاکھوں شہیدوں کی ارواح مسکراتی ہیں۔
آج کا پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک چیلنج اور ایک موقع دونوں ہے۔ یہ ملک اپنی صلاحیت، اپنے وسائل اور اپنی نوجوان نسل کی طاقت سے وہ سب کر سکتا ہے جو بڑے بڑے ملک بھی نہیں کر پاتے۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہوگا جب ہم اپنی شان کو پہچانیں، اپنے اختلافات کو بھول کر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں، اور اس عزم کو زندہ رکھیں جو 1947 میں ہمارے بڑوں کے دل میں تھا۔
شانِ پاکستان یہ ہے کہ ہم نہ صرف اپنی پہچان پر فخر کریں بلکہ دنیا کو دکھائیں کہ یہ قوم محنت، محبت اور قربانی سے کیا کچھ کر سکتی ہے۔ یہ شان ہمیں ورثے میں ملی ہے، اور ہمیں اسے آنے والی نسلوں تک امانت کے طور پر پہنچانا ہے۔ کیونکہ پاکستان صرف ہمارا آج نہیں، یہ ہمارے کل کا ضامن بھی ہے۔
پاکستان زندہ باد۔