پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے کہا ہے کہ خیبر پختونخواہ کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،گلگت میں بھی ہمارے رضاکار امدادی کاموں میں مصروف ہیں،پنجاب کے 30 اضلاع میں مرکزی مسلم لیگ کام کر رہی ہے،کشتی سروس کے ذریعے شہریوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے،لاہور سمیت سیلاب متاثرہ اضلاع میں دس ہزار سے زائد رضاکار متحرک ہیں،پکی پکائی خوراک کشتیوں کے ذریعے بھی متاثرین تک پہنچائی جا رہی ہے.

ان خیالات کا اظہار انہوں نے 365 نیوز کے سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ کے فلڈ پر خصوصی پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے کیا، تابش قیوم کا کہنا تھا کہ 15 دن ہو گئے ہیں ہم سیلاب زدہ علاقے میں ہیں، بونیر میں سیلاب آیا وہاں پہنچے ،امدادی کام شروع کیا، مینگورہ میں سیلاب آیا تو وہاں ٹیمیں پہنچیں،مینگورہ میں دو دریا نالے آپس میں ملتے ہیں، کئی محلے ہیں جہاں سینکڑوں گھر ہیں، ایسی گلیاں ہیں جہاں صرف ٹرالیاں جا سکتی ہے،گھروں میں پانی آیا تو پانچ چھ چھ فٹ مٹی گھروں میں ہے،مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار ٹرالیوں کے ذریعے گھروں سے مٹی نکال رہے ہیں،شاید دو گھر بھی مکمل کلیئر نہ ہوئے ہوں اتنی مٹی وہاں ہے،

ایک اور سوال کے جواب میں تابش قیوم کاکہنا تھا کہ لوگ اپنے طور پر کام کر رہے تھے، ہمارے رضاکار پہنچے کنویں دب گئے،صاف پانی کے ٹینکر پہنچائے، وہاں پر تھے تو پتہ چلا کہ غذر میں سیلاب آ گیا، ہزاروں ایکڑ کے باغات تباہ ہو گئے، چالیس چالیس فٹ ملبہ پہاڑوں سے اترا ہے، اب وہ لوگ کہتے ہیں کہ پانی کے پائپ دے دیں، ایک لاکھ فٹ پانی کا پائپ وہاں پہنچایا ہم شگر کی طرف جانا چاہ رہے تھے کہ پنجاب میں سیلاب آ گیا، پنجاب میں 30 اضلاع میں مرکزی مسلم لیگ ریسکیو و ریلیف آپریشن جاری ہے، راوی میں پانی کم ہوا ہے لیکن اگلے تین چار دن بارشیں ہونی ہیں،پانی میں پھر ا ضافہ ہو گا،غذر میں دائین گاؤں میں مصنوعی جھیل بن گئی اور آبادی کا کوئی راستہ نہیں رہا، ہم کشتی پر وہاں جا رہے تھے تو ہماری کشتی تقریبا الٹ گئی تو پانی کتنا ٹھنڈا ہے اور کتنی شدت ہے، کشتی چلانا کتنا مشکل کا کام ہے،وہ گلیشئر کا پانی تھا،

Shares: