پاکستان نے یومِ آزادی کے موقع پر ایک تاریخی اور انقلابی دفاعی قدم اٹھاتے ہوئے آرمی راکٹ فورس کمانڈ (ARFC) کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے 14 اگست کو قوم سے خطاب میں اس نئی فورس کے قیام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنانے اور دشمن کی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، آرمی راکٹ فورس پاکستان کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی "کویڈ پرو کو پلس” کے تحت مؤثر انداز میں عملدرآمد کی مکمل صلاحیت فراہم کرے گی۔ یہ فورس نہ صرف بھارت کی بڑھتی عسکری سرگرمیوں اور میزائل دوڑ کا جواب ہے، بلکہ پاکستان کی روایتی جنگی صلاحیتوں میں کئی گنا اضافہ کرے گی۔حال ہی میں ہونے والے معرکۂ حق میں پاکستان نے "فتح-1” اور "فتح-2” راکٹ سسٹمز کے ذریعے بھارتی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا۔ ان حملوں میں بھارت کی متعدد دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے دشمن کو بھاری نقصان پہنچا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی نے بھارتی افواج کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا اور یہ واضح کر دیا کہ پاکستان اپنے دفاع کے لیے ہر سطح پر تیار ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، آرمی راکٹ فورس کمانڈ محض ایک عارضی یا علامتی اقدام نہیں بلکہ پاکستان کی طویل المدتی دفاعی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے۔ اس کے ذریعے پاکستان کو دشمن کے خلاف کسی بھی محاذ پر گہرے، تیز اور درست حملے کرنے کی طاقت حاصل ہو گی۔
مودی سرکار کے بڑھتے ہوئے جنگی جنون اور عسکری جنونیت کے پیش نظر پاکستان کا یہ فیصلہ بروقت اور فیصلہ کن ثابت ہوا ہے۔ نئی راکٹ فورس نہ صرف بھارت کے لیے ایک مستقل دفاعی چیلنج ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن بھی قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔