امریکی فضائی کمپنی امریکن ایئرلائنز نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ سال مارچ 2026 سے اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں بحال کرے گی۔
ترجمان کے مطابق یہ پروازیں نیو یارک کے جے ایف کینیڈی ایئرپورٹ سے تل ابیب کے لیے چلائی جائیں گی، جن کا باقاعدہ آغاز 28 مارچ سے ہوگا۔کمپنی نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے اور اس کے بعد شروع ہونے والی دو سالہ جنگ کے باعث اپنا فضائی آپریشن معطل کر دیا تھا۔حماس کے حملے کے بعد متعدد غیر ملکی ایئرلائنز نے تل ابیب کے لیے پروازیں بند کر دی تھیں، جبکہ گزشتہ دو برس کے دوران ایران اور یمن کی جانب سے میزائل فائرنگ کے باعث فضائی سروسز طویل عرصے تک معطل رہیں۔
اس دوران بین الاقوامی پروازوں کا بوجھ زیادہ تر اسرائیلی قومی ایئرلائن ایل آل اور دیگر مقامی کمپنیوں نے اٹھایا، تاہم پروازوں کی قلت کے باعث ٹکٹوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔اب جبکہ امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پا چکا ہے، تو مختلف غیر ملکی ایئرلائنز تل ابیب کے لیے پروازیں بحال کر رہی ہیں۔ ان میں برٹش ایئرویز، ایس اے ایس، آئبیریا اور سوئس ایئر شامل ہیں، جو اسی ہفتے اپنی پروازیں دوبارہ شروع کر رہی ہیں۔
امریکن ایئرلائنز کے دوبارہ آپریشن کے بعد وہ امریکا سے اسرائیل کے لیے بلاوقفہ پروازیں چلانے والی پانچویں ایئرلائن بن جائے گی۔
اس فہرست میں پہلے سے ایل آل، آرکیا، ڈیلٹا اور یونائیٹڈ ایئرلائنز شامل ہیں۔یونائیٹڈ ایئرلائنز اس وقت نیوآرک سے تل ابیب کے لیے روزانہ پروازیں چلا رہی ہے اور آئندہ واشنگٹن اور شکاگو سے بھی فضائی سروس کے آغاز کا ارادہ رکھتی ہے
ہلاک یرغمالیوں کی تلاش کے لیے مصری ٹیم کو غزہ میں داخلے کی اجازت
دہشت گردوں کے مالی وسائل ختم کرنا ضروری ہے ،اسلامی فوجی اتحاد
سندھ میں ڈینگی کیسز کی تعداد 1083 ، کراچی سب سے زیادہ متاثر








