گزشتہ دنوں عالمی سطح پر دہشتگردی کے واقعات میں افغانستان کا کردار کھل کر سامنے آگیا۔
پاکستان میں دہشتگردی، امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں چینی ملازمین پر ڈرون حملہ اسی کی کڑی ہے،یو این رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم کا دہشتگرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا خطے کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہے،رپورٹ کے مطابق ساری دنیا افغانستان کی سرزمین پردہشتگردوں کی موجودگی پرمہر ثبت کرچکی ہے مگر بھارت افغانستان کے ساتھ روابط بڑھا رہا ہے،ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارت، افغانستان ایک دوسرے کے ملک میں اپنے سفارتخانوں میں تجارتی نمائندے تعینات کریں گے،افغانستان اور بھارت کے بڑھتے تعلقات نے جنوبی ایشیاکی بدلتی سیاسی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
گزشتہ ماہ کی بات کی جائے تو افغانستان کے وزیرخارجہ امیر خان متقی نے اکتوبر میں بھارت کا دورہ کیا اور متعدد معاہدے کیے۔جب افغان وزیرخارجہ دورہ بھارت پر تھےتو اسی وقت پاکستان پر افغانستان کی جانب ست بلااشتعال جارحیت بھی کی گئی۔







