سیکورٹی فورسز کی خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں

پشاور کے علاقے بورڈ تاج آباد میں جمعے کے روز فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے میں نامور مذہبی عالم اور جامعہ اسریہ کے مہتمم شیخ عزت اللہ اپنے بیٹے سمیت جاں بحق ہوگئے، جبکہ دوسرا بیٹا شدید زخمی ہے۔ پولیس کے مطابق موٹر سائیکل سوار نامعلوم حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں شیخ عزت اللہ اور ایک بیٹا موقع پر دم توڑ گئے۔اس واقعے کی ذمہ داری داعش خراسان (ISIS-K) نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں قبول کرلی۔ ایف آئی آر کے مطابق شیخ عزت اللہ کو گزشتہ کئی ماہ سے داعش کی جانب سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔ واقعے کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کرلیا گیا ہے۔

ضلع مہمند میں سکیورٹی ذرائع نے ایک سنگین انکشاف کیا ہے کہ دہشتگردوں نے ایک مسجد کو اسلحے، بارودی مواد اور کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے بطور ٹھکانہ استعمال کیا۔ حکام کے مطابق مسجد کے اندر سے ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ برآمد ہوا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسند مذہبی مقامات کو منصوبہ بندی، سازش اور عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔علاقہ سکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے لیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

بنوں کے علاقہ جانی خیل سے تعلق رکھنے والے مبینہ ٹی ٹی پی کمانڈر خالد کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے جس میں اسے ڈرون چلانے کی تربیت حاصل کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق شدت پسند تنظیمیں جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً ڈرونز، کو حملوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی دہشتگرد ڈرونز کے ذریعے آئی ای ڈیز گرانے کی کوشش کر چکے ہیں، جس سے سکیورٹی فورسز اور شہری دونوں متاثر ہوئے۔ ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق ابھی باقی ہے۔

کرم ضلع میں پاک افغان سرحد کے قریب مشکوک افراد کی نقل و حرکت دیکھ کر سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔ اطلاعات کے مطابق مسلح افراد پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے بعد درانداز افغانستان کی جانب فرار ہوگئے۔ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چند روز قبل ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا تھا کہ افغان فورسز کبھی کبھار دہشتگردوں اور اسمگلرز کو کور فراہم کرتی ہیں۔علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور ہر قسم کی سرحدی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

شمالی وزیرستان کے نکہوری ہل اور سنی شوران کے درمیان سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر مبنی ایک اہم کارروائی کی جس میں چار دہشتگرد مارے گئے۔ کارروائی کے دوران راکٹ لانچر، تھرمل امیجنگ ڈیوائسز، اسلحہ اور دہشتگردوں کی استعمال شدہ موٹر سائیکلز برآمد ہوئیں۔فورسز نے علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کرنے کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

واشک کے علاقے مشکِل بازار میں نامعلوم افراد نے ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کرکے دو افراد کو قتل کردیا۔ حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ لاشوں کو ایم آر ہیڈکوارٹر منتقل کیا گیا ہے۔

کوئٹہ کے علاقے محلہ بالا روڈ پر کرائم سین یونٹ (CSU) کی گاڑی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ پہلے دھماکے کی جگہ جا رہی تھی۔ ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے ہونے والے دھماکے میں گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا لیکن کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

کمبرانی روڈ پر سکیورٹی فورسز کی معمول کی گشت کے دوران ایک دھماکہ ہوا جس سے گاڑی جزوی طور پر متاثر ہوئی، تاہم تمام اہلکار محفوظ رہے۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو سیل کرکے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

قلات کے مضافات میں ایک خفیہ اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی جس کے دوران دہشتگردوں کے ساتھ شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس جھڑپ میں چھ دہشتگرد مارے گئے۔ دہشتگردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔حکام کے مطابق ہلاک دہشتگرد متعدد سنگین وارداتوں میں مطلوب تھے۔ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

کوئٹہ کے سریاب علاقے میں دہشتگردوں نے ریلوے ٹریک کو دھماکے سے اڑادیا، جس کے باعث ٹرینوں کی آمدورفت روکنا پڑی۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے، جبکہ پولیس نے علاقے میں وسیع سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

Shares: