وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے پر غور شروع کر دیا ہے، جس کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے۔
’جیو نیوز‘ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے بتایا کہ صوبے میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور سرحدی صورتحال کے پیش نظر گورنر راج پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات گورنر راج کا تقاضہ کرتے ہیں، جسے ابتدائی طور پر دو ماہ کے لیے نافذ کیا جا سکتا ہے اور حالات کے مطابق اس میں توسیع بھی ممکن ہے۔بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے حالات سب کے سامنے ہیں اور وفاق یہ نہیں چاہتا کہ صوبے کے شہری مزید بے یار و مددگار رہیں۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے مشیرِ اطلاعات شفیع جان نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر گورنر راج لگانا چاہتے ہیں، تو آج ہی لگا دیں‘‘۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے کسی بھی اقدام کا ردِعمل وفاق کو معلوم ہو جائے گا
نیتن یاہو کی کرپشن کیس میں صدر سے معافی کی درخواست
چاغی میں افغان مہاجرین کا کیمپ خالی، تمام افراد افغانستان منتقل
اسحٰق ڈار سے چینی سفیر کی ملاقات، علاقائی امور پر تبادلۂ خیال
بنگلادیش، خالدہ ضیاء کی حالت نازک، آئی سی یو میں زیر علاج








