ورلڈ ہیڈر ایڈ

نام نہاد نعت خواں عبدالرزاق جامی اور بیٹے کی لوٹ مار ، انکشافات ہی انکشافات ، کارروائی کا مطالبہ

چکوال: آمدن سے زائد اثاثہ جات اور مختلف ناموں پر جائیداد کی منتقلی اور ہر دور حکومت میں سرکار سے پرکشش مراعات، پلاٹ،گھر اور سرکاری عہدے حاصل کرنے والے نام نہاد نعت خواں عبدالرزاق جامی اور اس کے بیٹے سابق چیئرمین ڈسٹرکٹ زکوٰۃ وعشر کمیٹی چکوال سلطان رضا جامی کے بارے میں معلومات اور ضابطہ کی کارروائی کرنے کی استدعاکی گئی ہے

درخواست گذار نے کہا کہ بندہ جناب کے ادارہ کو معاشرے کے ایک ایسے بلیک میلر اور بہروپیے،خوشآمدی کے بارے میں معلومات فراہم کررہا ہے جس نے ہر دور حکومت میں سرکاری وسائل کو بے دریغ استعمال کیا،سرکاری خرچ پر حج اور عمرے ادا کیے اور سرکار سے ذاتی فائدے حاصل کرتا رہا،اس طرح سے مذکور نے قومی خزانے کو مختلف حیلوں،بہانوں اور ہتھکنڈوں سے لوٹا،اس کے بارے میں درج ذیل گزارشات پیش خدمت ہیں کہ ایسے لوگوں کے بارے میں مکمل تحقیقات کرکے معاشرے کو ایسے ناسوروں سے نہ صرف نجات دلائی جائے بلکہ قومی خزانے سے خرچ کی جانیوالی بیش بہا قومی دولت کو واپس لیکر قومی مفادات پر خرچ کیا جائے،

درخواست گزار نے انکشاف کیا ہے کہ مذکورہ بالا نعت خواں نے 1972ء کے دوران جب شہید ذوالفقار علی بھٹو دور حکومت تھا محکمہ اوقاف پنجاب میں اس دور کے صوبائی وزیر اوقاف ملک حاکمین خان سے محکمہ اوقاف میں ایک گھوسٹ پوسٹ جس کا نام مبلغین دین رکھوا کر راولپنڈی ڈویژن میں اپنی سرکاری تعیناتی کروائی اور 2002ء تک اسی پوسٹ کی ماہانہ تنخواہیں، مراعات اور بوگس سفری الاؤنس حاصل کرتا رہا اور 2002ء سے اب تک باقاعدہ طور پر پنشن وصول کررہا ہے،

عبدالرزاق جامی سے متعلق درخواست گذار نے کہا کہ محکمہ اوقاف میں یہ واحد مبلغ کی پوسٹ ہے جس کا محکمہ ہذا میں آج تک کوئی سرکاری وجود یا نام نہیں ہے،مذکورہ پوسٹ کی آڑ میں دربار”شاہ دی ٹاہلیاں“واقع مری روڈ راولپنڈی کے مقام پر محکمہ اوقاف پنجاب سے سرکاری جگہ پر ایک عالی شان ڈبل سٹوری بلڈنگ تعمیر کروائی اور خود ہی اس پر قابض ہوگیا اور اس کی مرمت کی مد میں لاکھوں روپےسالانہ سرکاری خزانے سے وصول کرتا رہا،

ذرائع کے مطابق درخواست گزار نے کاہ کہ عبدالرزاق جامی نے صدر پاکستان ضیاء الحق مرحوم کے دور حکومت میں قومی خزانے سے سرکاری خرچ پر حج بیت اللہ کی سعادت بھی حاصل کی،یہ کہ علاوہ ازیں مذکورہ بالا نے صدر پاکستان فاروق لغاری کے دور میں بھی صدارتی کوٹہ اور سرکاری خرچ پر دوبارہ حج ادا کیا،مذکورہ بالا نے محترمہ بے نظیر بھٹو دور میں سرکاری خرچ پر عمرہ ادا کیا،یہ کہ معزول سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت اور جلاوطنی کے دور میں متعدد مرتبہ نہ صرف خیراتی عمرے ادا کیے بلکہ موصوف کے دور میں متعدد مرتبہ لندن تک کا سفر بھی سرکاری خرچ پرکیااورمذکورکاپاسپورٹ ریکارڈ حاصل کرکے تمام بیرون ملک کے دورے چیک کیے جائیں،

عبدالرزاق جامی اس قدر تیزآدمی پایا گیا کہ اس نے معزول سابق وزیراعظم نواز شریف جب وزیراعلیٰ پنجاب تھے اس دور میں سرکاری کوٹے میں سے مختلف ہاؤسنگ سکیموں سے پلاٹ حاصل کرتا رہا، جن میں ایک سبزہ زار ہاؤسنگ سکیم لاہور میں ایک پلاٹ کا حصول،تلہ گنگ ہاؤسنگ سکیم سے اپنی بیوی کے نام پر پلاٹ الاٹ کروایا،اٹک ہاؤسنگ سکیم سے اپنے برادرم غلام مصطفی ولد غلام محمد کے نام پرایک قیمتی پلاٹ الاٹ کروایا،علاوہ ازیں کئی مختلف لوگوں کے نام پر اور بھی بوگس اور خفیہ پلاٹوں کی الاٹمنٹ کرواتا رہا،یہ کہ مذکورہ نے بحریہ ٹاؤن راولپنڈی میں ملک ریاض کی آڑ میں محکمہ جنگلات کی سرکاری زمین پر ایک عالیشان گھر(جامی ہاؤس)تعمیرکیاہواہےجہاں پر پرتعیش زندگی گزارنے میں مصروف ہے،اس گھر کی محکمہ مال کے ریکارڈ میں نہ رجسٹری ہے اور نہ انتقال ہے،محکمہ جنگلات کی سرکاری زمین پر ناجائز قبضہ ہے،

درخواست میں‌کہا ہے یہ کہ مذکورہ بالا شخص نے 1988ء سے شریف فیملی کے گھر کی رکنیت حاصل کی ہوئی ہے، 1998ء میں شہباز شریف سے سرکاری فنڈ حاصل کر کے اپنے آبائی گاؤں موضع بھرپور تحصیل کلرکہار ضلع چکوال میں”بیت النعت“ کے نام سے اکیڈمی تعمیر کروائی اور جسے بعد میں اپنے ذاتی مصرف میں لا کر اس کی حیثیت ایک گیسٹ ہاؤس میں تبدیل کردی،جس کا واضح ثبوت شہباز شریف کے نام سے اس کی افتتاحی تختی اب بھی تاحال نصب شدہ ہے، یہ کہ علاوہ ازیں مذکورہ بالا نعت خواں نے ضلع چکوال کی تحصیل کلرکہار کے مواضعات بھرپور کلاں، بھرپور تلہ گنگ،کلرکہار، موضع چھنبی،موضع رتہ، موضع کلو،موضع حطار،تلہ گنگ بائی پاس،دودیال روڈ تلہ گنگ اور راولپنڈی میں بحریہ ٹاؤن میں پلاٹ اور مختلف جگہوں پر مختلف ناموں سے سرکاری فنڈ سے جو کہ شریف فیملی کی طرف سے اسے بے نامی جائیدادیں بنانے کیلئے دیا جاتا تھا

ذرائع کے مطابق اس شخص کی کرپشن اور چال بازی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ تقریباً پانچ سو کنال کمرشل اور زرعی زمینیں 2013ء کے بعد خریدی گئی اور مندرجہ ذیل ناموں پر منتقل کرائی محکمہ مال سے جس کی تصدیق کروائی جاسکتی ہے نام مندرجہ ذیل ہیں، عبدالرزاق جامی ولد غلام محمد37405-08564420-9،سلطان رضا جامی ولد عبدالرزاق37201-8073125-1،ارسلان رزاق ولد عبدالرزاق،محمد سلیم رضا ولد عبدالرزاق،محمودہ دختر عبدالرزاق،نگہت سلطانہ دختر عبدالرزاق، محمود سلطانہ ولد عبدالرزاق،عاشق رسول ولد فیاض حسین 37204- 7339246-3، فیاض حسین ولد فیروز خان 37201-1584176-3ندیم حیدر قریشی ولد منصف خان37201-6681074-9، صائمہ نورین جامی زوجہ سلطان رضا 37204- 0101529-4، شبانہ شال زوجہ ندیم حیدر 37204- 0173244-8، ملک آصف مقصود ولد ملک سجاد حسین37201-1598050-3مذکورہ بالا کے شناختی کارڈ نمبر کی روشنی میں بینک اکاؤنٹس بھی چیک کراکر حسب ضابطہ کارروائی کی جائے،

عبدالرزاق جامی نے 2014ء میں اپنے بیٹے سلطان رضا جامی کو چیئر مین ضلعی زکوٰۃ کمیٹی چکوال تعینات کرایا اور 2018ء تک محکمہ زکوٰہ چکوال کا سارا بجٹ بوگس نام ڈال کر اپنے کھاتہ میں استعمال کیا جس کے ثبوت کے طور پر چکوال زکوٰۃ آفس کا ریکارڈ حاصل کرکے اسپیشل آڈٹ کراکر تحقیقات کی جاسکتی ہیں کہ کتنی زکوٰۃ کی رقوم خرد برد ہوئیں،یہ کہ اپنے بیٹے سلطان رضا جامی کو DHA-1ہاؤسنگ سکیم میں آئیڈیل گولڈ سنٹر کے نام سے جیولری کی ایک اربوں روپے کی لاگت سے دکان جعلی اور فرضی ناموں پر کھلوا کر دی ہوئی ہے

بحریہ ٹاؤن میں بھی دو جیولری کی دکانیں اور ایک پراپرٹی دفتر بھی کھولا ہوا ہے چار عالیشان اپ ماڈل گاڑیاں بھی ان کی ملکیت میں ہیں،یہ کہ شبہاز شریف کے پچھلے دور حکومت میں تلہ گنگ، کلر کہار روڈ کی مرمت کیلئے خصوصی طو رپر وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈ سے ایک ڈائریکٹو2016ءمیں مالیتی 5کروڑ 77لاکھ اور دوسرا 2017-18کے بجٹ سے9 کروڑ 20لاکھ حاصل کیے اور سڑک پر تارکول ڈالنے کیلئے دو کروڑ کی علیحدہ منظوری حاصل کی گئی اور محکمہ ہائی وے چکوال کے مندرجہ ذیل سٹاف،مجتبیٰ سب انجنیئر خالد سب انجنیر،عدیل ایس ڈی او، نوید بھٹی ایکسین کے ساتھ ساز باز کرکے ممتاز اینڈ کمپنی کے نام پر مصری خان ٹھیکیدار کو مذکورہ بالا سڑک تلہ گنگ، کلر کہار روڈ کی مرمت کا ٹھیکہ دیا گیا،موقع پر 17 کروڑ فنڈ کی بجائے دو کروڑ کا کام بھی نہیں ہوا، سڑک کی اسپیشل انسپکشن کروا کر بذریعہ لیبارٹری تحقیقات کرائی جائیں،

درخواست میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہےکہ2016ء میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف، عبدالرزاق جامی کی بیوی کی وفات پر تعزیت کیلئے اس کے گھر جامی ہاؤس موضع بھرپور تحصیل کلر کہار ضلع چکوال تشریف لائے اور سرکاری فنڈ کا بے دریغ استعمال کیاگیا، مذکورہ گھر کی تمام تزئین وآرائش جواب بھی موجود ہے، سرکاری فنڈ سے کی گئی اس سرکاری فنڈ کی تحقیقات بھی ضروری ہیں، جناب عالی! پاکستان کا ایک وفادار شہری ہونے کے ناطہ سے مندرجہ بالا حقائق جو کہ اس ملک کے ساتھ، اس قوم کے ساتھ ایسے معاشرہ کے گھٹیا کرداروں نے ادا کیے ہیں،

حکومت زور پر اور یہ تمام اثاثہ جات سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی فیملی کی کرپشن سے حاصل کردہ رقوم کو چھپانے کیلئے ان ناموں پر یہ اثاثہ جات بنائے گئے ہیں چونکہ عبدالرزاق جامی کی اپنی 2000ء سے پہلے کوئی ذاتی حیثیت نہیں ہے یہ اپنے موضع میں اپنے خاندان چند کنال کا مالک ہے اور اب ان مندرجہ بالا دیہات کا کل رقبہ جو کہ 2013ء کے بعد سرکاری رقوم سے خرید کیا گیا ہے تقریباً پچاس کنال سے اوپر بنتا ہے،اس میں شہری پلاٹ ہیں،کمرشل جگہیں ہیں تمام ریکارڈ چیک کرکے ان جائیدادوں کو نیلام کرکے سرکاری فنڈز میں جمع کرائی جائیں،جناب عالی!سائل ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہے مذکورہ نعت خواں عبدالرزاق جامی اور اس کا بیٹا سلطان رضا جامی اب بھی ہر لحاظ سے بااثر ہیں ایک تو سائل کو تحفظ فراہم کیا جائے اور سائل کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.