نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان عدلیہ پر حکومت کا کوئی اختیار نہیں ہے اور میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا، اگر کسی کو انگریزی نہیں آتی تو وہ سیکھ لے۔
وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ رواں سال جولائی میں پاکستان کے پاس اقوام متحدہ کی صدارت تھی، جس دوران مسئلہ فلسطین پر بھرپور موقف اپنایا گیا کانفرنس کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر سے ملاقات کی، جبکہ واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی ملاقات ہوئی جو بہت کامیاب رہی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران 3 اہم میٹنگز ہوئیں۔
انہوں نے بتایا کہ او آئی سی کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقاتیں ہوئیں اور پاکستان کے دور صدارت میں متفقہ قرارداد منظور کی گئی،کئی سالوں بعد فلسطین کے حوالے سے سلامتی کونسل میں پاکستان کی قرارداد منظور ہوئی جسے اب مختلف فورمز پر بطور حوالہ پیش کیا جارہا ہے،فلسطین کانفرنس میں غزہ کے مسئلے پر بھی بھرپور آواز اٹھائی گئی اپنے دورے کے دوران پاکستانی برادری، تاجروں اور صحافیوں سے بھی ملاقات کی گئی جبکہ مشرق وسطیٰ اور ایران کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یکم ستمبر سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان
نائب وزیر اعظم کے مطابق کابل اور ڈھاکہ کے دورے بھی کامیاب رہے، برطانیہ میں سندھ طاس معاہدے کے ماہرین اور کشمیری رہنماؤں سے بھی ملاقات کی گئی، قومی ایئر لائن کی مانچسٹر کے لیے براہ راست پرواز رواں سال ستمبر تک شروع ہو جائے گی جبکہ برطانیہ میں پاکستانیوں کے لیے پاسپورٹ کا ون ونڈو آپریشن بھی شروع کیا گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی عدلیہ پر حکومت کا کوئی اختیار نہیں ہے، اور عدلیہ سے متعلق ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اگر کسی کو انگریزی نہیں آتی تو وہ سیکھ لے۔
فیلڈ مارشل کا پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ
ان کا کہنا تھا کہ 20 اگست کو کابل کا دورہ کیا، کابل میں پاکستان، چین اور افغانستان کا سہ فریقی اجلاس ہوا، افغان وزیر خارجہ سے دوطرفہ ملاقات بھی ہوئی، اپریل میں دورہ افغانستان کے دوران جو اعلانات کیے گئے تھے اس پر عمل درآمد ہوا، افغان وزیر خارجہ نے پاکستان کی اس بات کو سرہا، پاکستان نے گریٹر اسرائیل کا منصوبہ مسترد کیا ہے پاکستان اپنی پالیسی پر قائم ہےفغان قیادت سے ملاقات میں چین اور پاکستان دونوں کو سیکیورٹی تحفظات تھے، ہمارے تحفظ ٹی ٹی پی سے متعلق تھے، ہم نے افغانستان سے کہا یا تو ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کریں یا ہمارے حوالے کریں۔
نائب وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ چین کے وزیر خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا، چینی وزیر نے پاکستان میں مختلف ملاقاتیں کی، چینی وزیر خارجہ سے سی پیک ٹو پر بات ہوئی، ایم ایل ون اور قراقرم ہائی وے اس میں سر فہرست منصوبے ہیں۔