ڈپٹی وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان نے پاکستان کے سفیر کو ڈرون حملوں کے الزام میں ایک خط (ڈی مارش) جاری کیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ افغان حکام نے پاکستانی سفیر کو یہ خط دیا ہے، جسے سفارتی زبان میں ڈی مارش کہا جاتا ہے۔ اسحاق ڈار کے مطابق وہ بیرونِ ملک سے واپس آئے ہیں اور معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔افغان حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ ننگرہار اور خوست صوبوں میں مبینہ طور پر پاکستانی ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد ہلاک اور 7 زخمی ہوئے، تاہم تاحال افغان حکام نے کوئی شواہد پیش نہیں کیے اور پاکستان کی جانب سے بھی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ معاملہ تحقیقات کا متقاضی ہے اور فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ انہوں نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا کہ آیا پاکستان ان مبینہ حملوں میں ملوث ہے یا نہیں۔اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان کی کابل سے صرف ایک ہی درخواست ہے کہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف کارروائی کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے افغان حکام سے کہا ہے کہ یا تو ان عناصر کو سرحد سے ہٹائیں یا پھر ہمارے حوالے کر دیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کی ترقی اور استحکام پاکستان کے مفاد میں ہے۔ ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریلوے منصوبے کی تکمیل سے پورے خطے کو فائدہ ہوگا اور وسطی ایشیائی ممالک سے براہِ راست روابط قائم ہوں گے۔

وزیر آباد، مریم نواز کے دورے کے بعد فلڈ ریلیف کیمپ ختم، متاثرین پریشان

اتحاد ٹاؤن میں کن کن لوگوں کی انویسمنٹ،مبشر لقمان کا مریم نواز سے معصومانہ سوال

خیبرپختونخوا سے گلگت،پنجاب،ہر سیلاب متاثرہ ضلع میں مرکزی مسلم لیگ نظر آئے گی،تابش قیوم

Shares: