fbpx

کاشانہ لاہور معاملہ: افشاں لطیف شوہر سمیت گرفتار، وزیر قانون نے ہمارے خلاف غلط مقدمہ درج کرایا ہے،افشاں کا انکشاف

افشاں لطیف جو کاشانہ لاہور کی سپریڈنٹ تھیں اور جنہوں نے یہ انکشاف کیا تھا کہ کاشانہ لاہور سے یتیم اور بے سہارا بچیوں کو تحریک انصاف کے وزیر اجمل چیمہ اور دیگر اپنی رات رنگین کرنے کے لئے لے جاتے ہیں-

باغی ٹی وی : افشاں لطیف کے اس انکشاف کے بعد ان کا گھر جلادیا گیا اور پھر اس الزام کی گواہ لڑکی کائنات کی پراسرار طریقے سے موت ہو گئی اور اب چند روز قبل افشاں اور ان کے خاوند کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے جس کے متعلق افشا ں کا کہنا ہے کہ یہ راجہ بشارت نے ایک جھوٹا مقدمہ درج کروا رکھا ہے-

اس وقت یہ خاتون اپنے خاوند کے ساتھ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہی ہیں حکام بالا کو چاہیے کہ اگر عورت کا کوئی اگر معمولی سا قصور بھی ہے تو بڑے پن کا مظاہرہ کر کے اس کی جان خلاصی کی جائے-
افشاں لطیف کے خدشات درست ثابت،کاشانہ اسکینڈل کے اہم راز جاننے والی اقرا کائنات کی پراسرار حالات میں موت

سابق سپرنٹنڈنٹ کاشانہ کے گھرپر فائرنگ، افشاں لطیف تھانے پہنچ گئی

واضح رہے کہ افشاں لطیف کا کہنا تھا کہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ کائنات کو مار دیا جائے گا اور ایسا ہی ہوا اقرا کا انتقال گزشتہ سال 5 فروری کو ہسپتال میں ہوا جس سے قبل اس کو تشویشناک حالت میں ایدھی سنٹر لایا گیا تھا۔پہلے ایدھی سینٹر کی جانب سے یہ کہا جا رہا تھا کہ اقرا کو لاوارث قرار دے کر دفنایا جائے گا جس پر افشاں لطیف نے مزاحمت کی۔

پہلے بھی اقرا کا شوہر اس کا حال پوچھنے بہت بار آچکا ہے، تاہم ایدھی سینٹر نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی ہے اور اقرا کو لاوارث لاش کے طور پر نہیں دفنایا جائے گا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو میں کاشانہ کی سابق انچارج افشاں لطیف کا کہنا تھا کہ اقراء کو زبردستی ان کے خلاف انڈر ایج شادی کرنے کا بیان دینے پر مجبور کیا گیا۔ حالانکہ کہ اقراء کی شادی 22 سال کی عمر میں کرائی گئی۔ شادی کی تقریب میں 250 لوگ شریک تھے۔ 16 دسمبر 2019ء کو اقرا کائنات اپنے گھر سے غائب ہوئی جس کے بعد اس کے شوہر عابد اور سسرالیوں نے بھی رابطے منقطع کر لیے اور پھر اچانک خبر ملی کہ اقراء کی لاش ایدھی سرد خانے لائی گئی جس کی رجسٹریشن لاوارث کے طور پر کی گئی۔

افشاں لطیف کا کہنا تھا کہ اس لڑکی کے پاس تمام معلومات تھیں۔ اس طرح کاشانہ کی کئی بچیوں کی جانوں کو خطرہ ہے۔ افشاں لطیف نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ اقراء کی لاش کو لاوارث قرار دے کر دفن نہ کی جائے بلکہ اس کے حوالے کر دی جائے۔
کاشانہ معاملہ، افشاں لطیف کا حکومت کے خلاف انتہائی اقدام

کاشانہ کیس، ن لیگ بھی میدان میں آ گئی، عظمیٰ بخاری نے بڑا مطالبہ کر دیا

اس سے قبل افشاں لطیف کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ کاشانہ ویلفیئر ٹرسٹ کی ایک یتیم لڑکی جس کا نام اقراء کائنات ہے اس وقت بلقیس ایدھی فیمیل سنٹر گرین ٹاؤن میں انتہائی تشویشناک حالت میں موجود ہے۔ اقراء کائنات کے شوہر نے بتایا ہے کہ اقراء کو اس کے سسرال سے اغوا کیا گیا اور دو ماہ تک اغوا کیے رکھا گیا۔ وہ بلقیس ایدھی سنٹر میں زندگی اور موت کی لڑائی لڑ رہی ہے۔ اگر اس کو بروقت طبی سہولیات نہ فراہم کی گئیں تو وہ جان کی بازی ہار جائے گی۔ اقراء کائنات کو کاشانہ سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد اس کے سسرال سے سوشل ویلفیئر کے وزیر بشارت نے اٹھوایا اور چائلڈ پروٹیکشن سنٹر منتقل کر کے میرے خلاف استعمال کیا۔

افشاں لطیف کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت وہ کاشانہ کی سابق سپراٹنڈنٹ کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ماں کی حیثیت سے بات کر رہی ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ مذکورہ لڑکی اقراء کو جلد از جلد سکیورٹی فراہم کر کے پتہ چلایا جائے کہ کس کے کہنے پر ان معصوم لڑکیوں کو غلط کاموں میں لگایا جاتا ہے؟ اب اس لڑکی کے بارے میں افشاں لطیف نے بتایا کہ وہ اپنی جان کی بازی ہار گئی ہے۔

کاشانہ شیلٹر ہوم سکینڈل میں سابق صوبائی وزیر اجمل چیمہ کوکلین چٹ ملنے پر سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کاردعمل بھی آگیا۔انہوں نے وزیراعلیٰ کو پیش کی گئی رپورٹ کو حقائق کے منافی قراردے دیا۔

افشاں لطیف کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر پرویز احمد خان نے کاشانہ کیس رپورٹ بنائی تھی،سی ایم آئی ٹی کی وجہ سے آج بھی کاشانہ کی فضا بچیوں کی آہ وپکارسے گونج رہی ہے۔جس رپورٹ میں اجمل چیمہ کو کلیئر قرار دیاگیا وہ رپورٹ میرے لئے نئی نہیں ہے۔

خیال رہے کہ کاشانہ سکینڈل میں سابق صوبائی وزیر اجمل چیمہ کو کلین چٹ دے دی گئی تھی کاشانہ سکینڈل میں انسپکشن ٹیم نے رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کی تھی رپورٹ کے مطابق کسی بچی سے زیادتی یا بچیوں کو کہیں بھجوانے کے ثبوت نہیں ملے ہیں۔چیئرمین سی ایم آئی ٹی ڈاکٹر راحیل احمد صدیقی کا کہنا تھا کہ سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کے سابق صوبائی وزیر پر لگائے گئے کئی الزامات کی تحقیقات کی لیکن الزامات درست ثابت نہیں ہوئے.

کاشانہ کیس،اخلاقی کرپشن، عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ سامنے آ گیا

اس قوم کے بخت سنورگئے جس نے درخت لگا ئے:افشاں لطیف

کاشانہ کی بیٹیوں کی پرخلوص دعاﺅں نے وزیراعلیٰ پنجاب کوحادثہ سے بچالیا ،افشاں لطیف

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں یتیم کمسن بچیوں کی شادی نہ کروانے کے جرم میں کاشانہ کی سپرینڈنٹ افشاں لطیف کو گرفتار کیا گیا تھا، گرفتاری کے وقت افشاں لطیف نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجھے شوہر سمیت گرفتار کیا جا رہا ہے۔مجھے نہیں معلوم اب مجھے کہا لے کر جایا جائے گا اب یہ بچیاں آپ سب کی ذمہ داری ہیں۔ بعد ازاں افشاں لطیف کو رہا کر دیا گیا

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سوشل میڈیا پر کا شانہ کے بارے میں وائرل ہونے والی ویڈیوکے معاملہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے صوبائی سیکرٹری سوشل ویلفیئر سے رپورٹ طلب کی تھی-وزیراعلیٰ نے حکم دیاتھا کہ معاملے کی ہر پہلو سے انکوائری کی جائے اور الزامات کی مکمل چھان بین کر کے حقائق منظر عام پر لائے جائیں -وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ تحقیقات میں جو بھی قصوروار ہوا اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی- کاشانہ میں رہائش پذیر بچیو ں کومکمل تحفظ دیں گے اور میں بے آسرا بچیوں کے ساتھ ناروا سلوک کسی صورت برداشت نہیں کروں گا-

قبل ازیں افشاں لطیف نے کاشانہ معاملے پر مدد کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے نام بھی ایک خط لکھا تھا جس میں اپنے متعلق سیکیورٹی تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا،خط میں انہوں نے لکھا کہ یتیم بچیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کو سامنے لانے کی سزا دی جارہی ہے اور مجھ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ سارے الزامات واپس لوں۔انہوں نے مزید لکھا تھا کہ میری فیملی اور مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں لہٰذا فیملی اور مجھے تحفظ فراہم کیا جائے۔

کم عمر بچیوں کی شادی نہ کروانے پر کاشانہ کی سپرنٹنڈنٹ کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟

کاشانہ کیس،بات پارلیمنٹ تک پہنچ گئی، رحمان ملک نے بڑا حکم دے دیا

کاشانہ کیس،بات پارلیمنٹ تک پہنچ گئی، رحمان ملک نے بڑا حکم دے دیا