fbpx

علامہ خادم رضوی کی وفات، فیض آباد معاہدہ پر عمل ہو پائے گا؟

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی وفات پا گئے،

خادم رضوی کی آج شب لاہور میں شیخ زید ہسپتال میں موت ہوئی ہے، طبیعت خراب ہونے پر انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا

تحریک لبیک نے گستاخانہ خاکوں کے حوالہ سے 15 نومبر کو اسلام آباد میں لیاقت باغ سے فیض آباد تک مارچ کیا تھا اور دوسرے روز حکومت سے مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کیا تھا، اس مارچ کے آخری روز علامہ خادم رضوی نے بھی خطاب کیا تھا،

تحریک لبیک نے حکومت کے ساتھ معاہدہ کیا تھا،حکومتی مذاکراتی ٹیم اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا۔معاہدے پر وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ،وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری اور کمشنر اسلام آباد کے دستخط بھی موجود ہیں،حکومتی مذاکراتی ٹیم کی جانب سے 4 نکاتی تحریری معاہدے جاری کیا گیا ،معاہدے کے مطابق حکومت دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرے گی،فرانس میں پاکستانی سفیر تعینات نہیں کیا جائے گا،فرانس کی مصنوعات کا سرکاری طور پر بائیکاٹ کیا جائے گا،تحریک لبیک پاکستان کے گرفتار کارکنان کو فوری رہا کیا جائے گا،

فیض آباد، تحریک لبیک کا احتجاج جاری، پولیس کا رات گئے آپریشن ناکام

تحریک لبیک احتجاج، اسلام آباد میں کون کونسے راستے بند ہیں؟ ڈی سی نے بتا دیا

تحریک لبیک کا دھرنا، کارکنان گرفتار،کیا خادم حسین رضوی کو گرفتار کر لیا گیا؟

تحریک لبیک دھرنا،راستے بند ہونے پر ٹریفک کا متبادل روٹ جاری

شاہد خاقان عباسی نے تحریک لبیک کے دھرنے کو "میلہ” قرار دے دیا

فیض آباد دھرنا،وزیراعظم کا نوٹس،اہم شخصیت کو طلب کر لیا

مذاکرات ہی نہیں ہوئے تو کامیابی کیسی؟ تحریک لبیک کا دھرنا جاری رکھنے کا اعلان

تحفظ ناموس رسالت مارچ لیاقت باغ تا فیض آباد تحریکِ لبیک پاکستان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوئے تھے، وفاقی وزیر داخلہ برگیڈیر(ر) اعجاز شاہ، وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری، کمشنر اسلام آباد و دیگر وزراء کے ساتھ تحریری معاہدہ ہوا تحریک لبیک پاکستان کی طرف سے پنجاب کے امیر علامہ پیر سید عنایت الحق شاہ سلطانپوری اور کے پی کے امیر علامہ ڈاکٹر محمد شفیق آمینی ٹی ایل پی پنجاب کے ناظم اعلی علامہ مفتی غلام عباس فیضی تھے

علامہ خادم رضوی کی وفات کے بعد حکومت کی جانب سے کیا جانے والے معاہدے پر عمل ہوتا ہے یا نہیں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا، اگر معاہدے پر عمل نہیں ہوتا تو کیا پھر دوبارہ دھرنا ہو گا اور اب مارچ کی قیادت کون کرے گا، اسکا آنے والے دنوں میں پتہ چل جائے گا