اوچ شریف(باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان) تحصیل علی پور میں پولیس کو دو مختلف محاذوں پر سنگین مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک جانب پولیس چوکی شاہ پور پر بوسن گینگ کے درجنوں مسلح افراد نے تعمیرات کے دوران حملہ کر دیا، جبکہ دوسری جانب علی پور سٹی میں بدنام زمانہ ڈکیت اختر علوڑ کو چھڑانے کی کوشش میں پولیس پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ملزم زخمی حالت میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ دونوں واقعات میں پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے اور دو گاڑیوں کے تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق تھانہ خیرپور سادات کی حدود میں دریائی علاقے میں قائم کی جا رہی نئی پولیس چوکی شاہ پور پر اس وقت قیامت صغریٰ برپا ہو گئی جب بوسن گینگ کے تقریباً بیس سے زائد مسلح افراد، جن میں فیاض، ریاض، امتیاز، رفیق، غضنفر، جنید، محبوب، شہباز عرف صوبہ، ظفر عرف جھبیل، سکندر، یاسر، ناظم، ارشاد، صدام و دیگر شامل تھے، نے انچارج چوکی اے ایس آئی مصطفی منظور اور پولیس نفری پر حملہ کر دیا۔ ملزمان نے پولیس چوکی پر سیدھی فائرنگ کی، دو سرکاری گاڑیاں تباہ کر دیں جبکہ اہلکار عمارت کی آڑ لے کر جانیں بچاتے رہے۔
واقعے کی اطلاع پر سرکل علی پور تھانہ خیرپور سادات، سیت پور اور صدر تھانہ کی نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور کئی گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ بالآخر ڈاکو اندھیرے اور دریائی راستوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس نے انچارج چوکی کی مدعیت میں بوسن گینگ کے خلاف دہشت گردی، حملہ، املاک کی تباہی اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایس ایچ او خیرپور سادات نے میڈیا کو تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا تاہم حملے اور مقدمہ درج ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب تھانہ سٹی علی پور کی پولیس نے بدنام ڈکیت اختر علوڑ کو، جو کہ سنگین ڈکیتی کی وارداتوں میں مطلوب تھا، گرفتار کر کے برآمدگی و نشاندہی کے لیے فتح پور روڈ پر لے جا رہی تھی کہ جنگلی کے مقام پر اس کے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر اچانک فائرنگ کر دی۔ پولیس نے فوری طور پر مورچہ زن ہو کر جوابی فائرنگ کی جو وقفے وقفے سے آدھ گھنٹے تک جاری رہی۔ اس دوران حملہ آور رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے تاہم اختر علوڑ اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے بائیں گھٹنے میں زخمی ہو گیا جسے دوبارہ گرفتار کر کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال علی پور منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق اختر علوڑ کا تعلق سنانواں سے ہے اور اس پر ڈکیتی، اقدام قتل اور دیگر سنگین نوعیت کے سولہ مقدمات درج ہیں۔ پولیس نے اس واقعے کے بعد بھی نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
پے در پے ان دونوں واقعات نے علی پور سرکل میں پولیس کی سیکیورٹی صورتحال پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں جبکہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ دریائی علاقوں میں فعال جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن فوری شروع کیا جائے۔