اندھیر نگری، چوپٹ راج،بزدار کی نگری میں جعلی ڈاکٹروں کا گروہ بے نقاب

اندھیر نگری، چوپٹ راج،بزدار کی نگری میں جعلی ڈاکٹروں کا گروہ بے نقاب

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور میں جعلی ڈاکٹر بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے لگا،دو بار کلینک سیل ہوئے تو جوہر ٹاؤن میں تیسرا کلینک کھول دیا، پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی طرف سے جعلسازی کا مقدمہ درج ہونے کے باوجود جعلی ڈاکٹر کام کر رہا ہے ،ملزم خود کو ذہنی امراض کا پروفیسر ڈاکٹر بتاتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ایک سائنسدان ہے جس نے آٹزم اور دیگر بیماریوں کا علاج دریافت کر لیا ہے تا ہم ڈاکٹر کے پاس ایم بی بی ایس کی ڈگری بھی نہیں ہے.

امریکہ میں 25 سال قیام کے بعد شاہد حسین شیخ نام کا شہری لاہور آیا، لاہور کے علاقے شادمان میں کلینک بنایا اور کہا کہ میں سائنسدان ہوں. بچوں کے دماغی امراض کا علاج کرتا ہوں ،ڈاکٹر کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی طرف سے اس پر جعلسازی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جس کے بعد اسکا شادمان والا کلینک سیل کیا گیا ہے، بعد ازاں ڈاکٹر شاہد حسین شیخ نے اپنی بیوی کے نام پر شیخ میڈیکل سنٹر کے نام سے کلینک کھولا، وہ بھی سیل ہو گیا،

دوسرا کلینک سیل ہونے کے بعد جعلی ڈاکٹر باز نہ آیا اور اس نے علاقہ بدل کر لاہور کے دوسرے علاقے جوہر ٹاؤن میں کلینک کھول لیا جس کا نام حبیب سلیمان میڈیکل سنٹر رکھا،اور اسی میڈیکل سنٹر پر تاحال اس نے عوام کو لوٹنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، محکمہ ہیلتھ نے اسکے خلاف مقدمہ درج ہونے کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی.

ڈاکٹرشاہد حسین شیخ کے خلاف پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے 7 اکتوبر 2017 کو مقدمہ نمبر 376/17 تھانہ شادمان لاہو رمیں درج کیا گیا تھا، جس میں 420،471،468 جعلی ڈگری بنا کر استعمال کرنے اور جعلی پریکٹس کرنے کی دفعات لگی تھیں، مقدمہ درج ہونے کے بعد شادمان میں نیورو میڈیکل سنٹر سیل کر دیا تھا، کیونکہ پی ایم ڈی سی کی رجسٹریشن بھی جعلی ہے.

ہیلتھ کیئر کمیشن کیس میں ایک سال اشتہاری رہنے کے بعد جعلی ڈاکٹر شاہد حسین شیخ کو گرفتار کیا گیا بعد ازاں ضمانت پر اسکی رہائی ہوئی،رہائی کے بعد بیوی کے نام پر رابعہ نذر جو یو ای ٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر یو ای ٹی لاہو رہیں شیخ میڈیکل سنٹر بنایا ،محکمہ صحت نے اس پر بھی کاروائی کی اور اکتوبر 2019 میں اسے سیل کیا .تھانہ شادمان میں درج ایف آئی آر نمبر 46/20 کے مطابق شاہد حسین شیخ اور اسکی بیوی رابعہ نذر راجہ یہاں پر بھنگ کا مکروہ دھندہ کرتے تھے اور مریضوں کو بھنگ کے کیپسول بیچتے تھے،

شادمان میں دوسرا کلینک سیل ہونے کے بعد ڈاکٹر شاہد حسین شیخ کراچی بھاگ گیا،کراچی میں چار پانچ ماہ رہنے کے بعد ڈاکٹر شاہد حسین شیخ دوبارہ لاہو رواپس آیا اور لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں کلینک بنا لیا جہاں سے اب کام جاری ہے.

ڈاکٹر شاہد حسین شیخ کے خلاف فراڈ اور چیک ڈس آنر کے مقدمے بھی درج ہیں، اقبال ٹاؤن پولیس بھی اسے گرفتار کر چکی ہے بعد ازاں اسے عدالت نے ضمانت دی، رینبو سوسائٹی جو ہر ٹاؤن لاہور میں جس مقام پر ڈاکٹر نے کلینک بنایا اسکا کرایہ نامہ اس نے اپنے وکیل کے نام پرلکھوایا ہے، ڈاکٹر کے خلاف لاہور کے معروف صحافی و کالم نگار نے بھی مقدمہ درج کروا رکھا ہے

اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر شاہد حسین شیخ اور اسکی اہلیہ بھنگ کے کیپسول بیچتے ہیں، ڈاکٹری کے نام پر مکروہ دھندا چل رہا ہے، ذہنی معزور بیمار بچوں کو ڈرپ لگائی جاتی ہے جس کے لاکھوں بٹورے جاتے ہیں، ڈاکٹر نے ایک ٹرسٹ بھی بنا رکھا ہے .

جو ہر ٹاؤن میں بنائے گئے نئے کلینک میں جعلی ڈاکٹر شاہد حسین شیخ نے ڈاکٹروں کی ٹیم بنا رکھی ہے، پانچ ڈاکٹروں کے ساتھ ملکر وہاں کام کر رہے ہیں ،ڈاکٹر شاہد حسین شیخ نے اب دوبارہ رجسٹریشن کے لئے ڈاکٹر فواز سلیم کے نام سے درخواست جمع کروائی ہے.

جعلی ڈاکٹر شاہد حسین شیخ شہر قائد کراچی سے ارسلان نامی بندے سے "ڈی این اے” نام کے کیپسول منگواتے ہیں جس میں بھنگ ہوتی ہے اور یہی کیپسول مریضوں کو دیئے جاتے ہیں،20 ہزار کی بوتل دی جاتی ہے جس میں دس سے 15 کیپسول ہوتے ہیں، اسی طرح ڈرپ لگانے کے بھی دس سے پندرہ ہزار روپے لئے جاتے ہیں جبکہ ایک مریض کو د س سے 15 ڈرپیں ہی لگائی جاتی ہیں

لاہور کے معروف صحافی ،روزنامہ جنگ کے کالم نگار گل نوخیراختر نے جعلی ڈاکٹر شاہد حسین شیخ کے خلاف مقدمہ درج کروا رکھا ہے، مقدمہ گزشتہ برس دسمبر 2019 میں درج کیا گیا، ایف آئی آر میں کہا گیا کہ لاہور میرا نام گل نوخیز اختر ہے-آپ نیوز میں سئنئیر سکرپٹ ایڈیٹر ہوں اور روزمانہ جنگ میں کالم نگار ہوں- میرا چھوٹا بیٹا مہروز جس کی عمر 14 سال ہے -آٹزم کا مریض ہے بول نہیں سکتا،توجہ مرکوز نہیں رکھ پاتا اور غصے میں آپے سے باہر ہو جاتا ہے -اسی وجہ سے اس کی تعلیم کا سلسلہ بھی نہیں شروع ہو سکا-میں اور میری اہلیہ جگہ جگہ اس کے علاج کے لئے جا چُکے ہیں لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا- تقریباً چھ ماہ پہلے اخباروں میں پروفیسر ڈاکٹر شاہد کی جانب سے ایک اشتہار شائع ہوا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ ایسے بچوں کو ٹھیک کر سکتے ہیں-اشتہار میں ڈاکٹر صاحب کو سائنسدان کہا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ وہ امریکہ سے متعدد ڈگریاں اور انعامات لے چکے ہیں میں اور میری اہلیہ نے خدا کا شُکر ادا کیا کہ ہمیں اپنے بچے کے علاج کے لئے بالآخر ایک مسیحا مل گیا-

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ میں نے اشتہار میں دیئے گئے شیخ میڈیکل سنٹر کے لینڈ لائن نمبر 042-35970664 پر رابطہ کر کرکے اپائنمٹ لی ہمیں اگلے دن کا وقت دیا گیا-میں اور میری اہلیہ اگلے روز جب شیخ میڈیکل سنٹر -126 شادمان 2 لاہور پہنچے تو کچھ انتظار کے بعد ہمیں ڈاکٹر شاہد شیخ کے کمرے میں جانے کے لئے کہا گیا جہاں ڈاکٹر شاہد شیخ موجود تھا-اُس نے ہمیں بتایا کہ اُس کے پاس ایک فارمولا ہے جو اُس نے امریکہ میں ایک انگریز کے پی ایچ ڈی کے مقالے کے بغور مطالعے سے حاصل کیا ہے اور یہ کہ یہ فارمولا اس کے علاوہ اور کسی کے پاس نہیں ہے- ڈاکٹر شیخ شاہد نے بتایا کہ وہ امریکہ میں بھی کئی آٹزم کے مریض ٹھیک کر چُکا ہےلیکن پاکستان کی محبت میں وہ اہنے وطن چلا آیا ہے تاکہ یہاں دماغی امراض میں مبتلا افراد کو ٹھیک کر سکے -آدھے گھنٹے کی اس گفتگو میں ڈاکٹر شاہد نے بتایا کہ وہ ایک نہایت اعلیٰ قسم کا سائنسدان ہے اور اس نے نیورو پیتھی کے نام سے یہ طریقہ علاج ایجاد کیا ہے -اس موقع پو اس کی اہلیہ ڈاکٹر رابعہ نذر بھی موجود تھی جس کے بارے میں ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ بھی میری طرح ڈاکٹر ہے ڈاکٹر شاہد شیخ نے ہمیں آگاہ کیا کہ انشاءاللہ نہ صرف ہمارا بچہ ٹھیک ہوگا بلکہ اس کلینک میں ہی بیہٹھ کر باتیں بھی کرے گا – لمحہ بہ لمحہ کرب میں گزرتے والدین کے لئے اس سے زیادہ پُر امید جُملہ کوئی نہیں ہو سکتا لہذاٰ ہم بھی بہت خوش ہوئے- ڈاکٹر شاہد شیخ نے بتایا کہ سب سے پہلے بچے کے خون کا ایک لیبارٹری ٹیسٹ ہوگا جس کے چارجز پندرہ ہزار روپے ہوں گے اس کے بعد بچے کو ڈاکٹر شاہد کے تیار کردہ فارمولے کی ڈرپس لگیں گی اور یہ ایک ڈرپ پندرہ ہزار روپے کی ہو گی ہمارے پوچھنے پر اس نے بتای کہ بچے کو تقریباً بیس سے پچیس ڈرپس لگیں گیساتھ میں ایک کیپسول (Sudden Anger) کھانے کے لئے دیا جائے گا اور جب پچیس ڈرپس کا یہ کورس مکمل ہو جائے گا تو بچہ نارمل ہو جائے گا-

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ یہ بہت زیادہ خرچ تھا لیکن بچے کی زندگی سے زیادہ نہیں -انہی دنوں میں اپنے چھوٹے سے پلاٹ پر گھر بنانے کا خواب دیکھ رہا تھا لیکن شاہد شیخ کے نئے دعوےٰ نے مجھے نئی امید دلا دی- میں اور میری اہلیہ نے طے کیا کہ گھر بنانے کی بعد میں سوچیں گے پہلے جمع کی گئی رقم سے بچے کا علاج کرواتے ہیں کیونکہ بچہ ٹھیک ہو جاتا تو ہمیں زندگی کی سب سے بڑی خوشی مل جاتی – ڈاکٹر شاہد شیخ نے اس پہلی میٹنگ کے عوض اپنی فیس 3000 وصول کی ہم نے بچے کا بلڈ ٹیسٹ کرانے کے فیس ادا کی اور ڈرپش لگانے کا آغاز ہو گیا- یہ ڈرپس شیخ میڈیکل سنٹر کے مذکورہ بالا ایڈریس پر لگتی رہیں اس دوران میں ، میری اہلیہ اور میرا بیٹا وہیں موجود رہتے اور ڈرپس لگوانے کے بعد بچے کو گھر لے آتے- ہر ڈرپس کے عوض ہم پندرہ ہزار روپے کیش کی شکل میں ادا کرتے رہتے جبکہ کیپسول کی بھی ڈبی بھی ہمیں الگ سے پندرہ ہزار روپے کے عوض دی جاتی تھی – شیخ شاہد کے کلینک میں اور بھی لوگ اپنے بچوں کو لے کر آتے تھے اور انہیں بھی یہی ڈرپس اور کیپسول دیئے جا رہے تھے-سروسز ہسپتال کے اسسٹنٹ پروفیسر ای این ٹی اور رجسٹرار ڈاکٹر خالد حسین بھی یہاں موجود ہوتے تھے اور ڈاکٹر کے ساتھ ملک شیخ میڈیکل سنٹر میں لوگوں کو لُوٹ رہے تھے- اس دوران میں نے کئی بار ڈاکٹر شاہد سے پوچھا کہ ڈرپس میں کون سے سنجکشن ڈالے جا رہے ہیں لیکن ڈاکٹر شاہد شیخ نے ہمیشہ یہ بات ٹال دی-ہم لوگ بچے کو ڈرپس لگواتے رہے میرے لئے اس رقم کا انتظام معمولی بات نہیں تھی سو میں نے دوستوں عزیزوں سے ادھار رقم لے کر بھی ڈرپس میں خلل نہیں آنے دیا –

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ انہی دنوں ایک عجیب واقعہ ہوا مورخہ 16 ستمبر ء2019 کو میں ، میری اہلیہ اور میرا بڑا بیٹا چھوٹے بیٹے کو حسب معمول ڈرپس لگوانے شیخ میڈیکل سنٹر گئے- میرے بیٹے مہروز کو ڈرپ لگ گئی- اسی دوران مجھے میرے آفس آپ نیوز سے کال آ گئی لہذاٰ میں اپنے بیٹے اہلیہ اور چھوٹے بیٹے مہروز کو وہیں چھوڑ کر کچھ دیر کے لئے آفس روانہ ہو گیا- کچھ دیر بعد واپس پہنچا تو شیخ میڈیکل سنٹر میں داخل ہوتے ہی ایک دھماچوکڑی سی مچی دیکھی- کچھ سمجھ میں نہ آیا- پوچھنے پر پتہ چل کہ ہیلتھ کئیر کمیشن نے چھاپہ مارا ہے کیونکہ نہ صرف ڈاکٹر شیخ ایک جعلی ڈاکٹر ہے بلکہ اس کی ڈگریاں بھی جعلی ہیں اور شیخ میڈیکل سنٹر کو ہیلتھ کئیر کمیشن والوں کی طرف سے seal کیا گیا ہے جسے ڈاکٹر شیخ شاہد اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر رابعہ نے غیر قانونی طور پر کھول کر دوبارہ اپنے جعلی دھندے کا آغاز کر دیا ہے- میں اور میری اہلیہ سکتے میں آگئے- تاہم میں نے ڈاکٹر شاہد شیخ سے تصدیق چاہی کہ کیا ہیلتھ کئیر کمیشن والے سچ کہہ رہے ہیں جواب میں ڈاکٹر شیخ شاہد نے ساری بات کی نفی کر دی – میں نے ہییلتھ کئیر کمیشن کے عملے سے بات کی تو انہوں نے یہ ہولناک انکشاف کیا کہ ڈاکٹر شاہد شیخ پرجعلی ڈگریاں جمع کرانے اور جعلی پریکٹس کرنے پر ایک سال پہلے 2017 ایف آئی آر درج ہو چکی ہے- یہ ایف آئی آر ہیلتھ کمیشن والوں کی طرف سے آپ ہی کے تھانے میں درج ہے جا کا نمبر17 – 376 ہے اور یہ 17-8-25 کو درج ہوئی اور اور اس کا تفتیشی اے ایس آئی رفیع ہے لیکن ڈاکٹر ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا اور دوبارہ کلینک کھول کر بیٹھ گیا-

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ میرے لئے یہ صورتحال نہایت پریشان کن تھی – میں نے اپنے طور پر تحقیق کی تو پتہ چلا کہ واقعی ڈاکٹر شاہد شیخ پر ء2017 میں عطائیت کا کیس بن چُکا ہے اور اس کی خبریں بھی ملک کے نمایاں اخبار میں شائع ہو چکی ہیں یاد رہے کہ تب تک ہم اپنے بچے کو پچاس ڈرپس لگوا چکے تھے اور تین ڈبیاں کیپسول کی خرید چُکے تھے میرا بچہ اس دوران اونگھ کی کیفیت میں رہتا تھا ڈاکٹر شاہد شیخ بہتری کی طرف گامزن قرار دیتا رہا میں نے کیپسول چیک کرائے تو پتہ چلا کہ نشے کے کیپسول ہیں دیواروں سے ٹکریں مارتا اور خود کو زخمی کر لیتا میں نے شدید غصے کے عالم میں ڈاکٹرشاہد شیخ کو فون کیا تو اس نے مجھے دوبارہ بچے کا علاج شروع کرانے کا کہا اور مجھے میسج کیا کہ بچے کا ایک بار پھر بلڈ ٹیسٹ کروا کر مجھے رپورٹ بھیجیں اس دوران اس نے مجھے اپنے بچے کو کیپسول جاری رکھنے کی بھی ہدایت کی اور کہہ کر کہ اگر آپ اپنے بچے کی ڈرپس افورڈ نہیں کر سکتے تو بچے کو کیپسول کھلاتے رہیں یعنی ایک ہزار کا ایک کیپسول اور روزانہ دو کیپسول – اس مقصد کے لئے انہوں نے مجھے میسج کیا کہ یہ کیپسول آپ حکیم آصف نامی بندے سے منگوا سکتے ہیں میں نے انہیں اپنا ڈیلر مقرر کیا ہوا ہے ڈاکٹر شاہد شیخ نے مجھے حکیم آصف کا موبائل نمبر 03006957313 میسج کیا-میں نے حکیم آصف کو فون کیا تو اس نے مجھے کہا کہ میں وہاڑی میں ہوتا ہوں ، تو آپ مجھے اپنا ایڈریس بھیجیں تو میں آپ کو کیپسول وی پی پارسل کر دیتا ہوں- تاہم میں نے یہ کیپسول نہیں منگوائے اور ڈاکٹر کو بے نقاب کرنے کا فیصلہ کیا-

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ جعلی ڈاکٹر شاہد شیخ اس وقت a-1-94 ٹاؤن شپ میں رہائش پذیر ہے – اس کی اہلیہ ڈاکٹر رابعہ نذر بھی اس کے ساتھ رہتی ہے جو کہ یو ای ٹی میں پڑھاتی ہے اور ڈاکٹر شاہد شیخ کے دھندے میں اس کی ساتھی ہے ڈاکٹر شاہد شیخ اپنے ڈرائیور کے ذریعے یہ کیپسول اور ڈرپس مختلف کارنوں کو سپلائی کرتا ہے جو اسے آگے مجبور اور پریشان لوگوں کو بھاری رقم کے عوض بیچتے ہیںڈاکٹر شاہد شیخ کے گھر میں یہ کیپسول اب بھی اوپر والی منزل پر بھاری مقدار میں موجود ہیں آپ سے گزارش ہے کہ مجھے Prime Victim کی حیثیت سے اس کیس کا مدعی بنائیں اور ڈاکٹر شاہد شیخ ، اس کی اہلیہ ڈاکٹر رابعہ نذر، ڈاکٹر خالد حسین، حاکم علی، حکیم آصف ،ڈاکٹر کے ڈرائیور شاہد اور ڈاکٹر جاوید کے خلاف سخت ترین کاروائی کریں تاکی کسی مجبور والدین کی معذور اولاد کے ساتھ ایسا گھناؤنا مذاق کرنے کی جرات نہ ہو شکریہ.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.