کاروباری برادری کی شکایات پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور اینٹی منی لانڈرنگ اتھارٹی نے اینٹی منی لانڈرنگ قانون میں ترامیم کرتے ہوئے نئے قواعد جاری کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان ترامیم کا مقصد قانون کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔نئے اصولوں کے تحت اب کاروباری طبقے کے خلاف کارروائی سے قبل متعلقہ سرکل رجسٹرار سے باقاعدہ اجازت لینا لازمی ہوگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک بار نوٹس جاری ہونے کے بعد اسے واپس لینا ممکن نہیں ہوگا جب تک مکمل تحقیقات نہ کی جائیں۔
ان ترامیم کو کاروباری طبقے کو بلاوجہ ہراساں کیے جانے کے خدشات کے پیش نظر اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی حکومت کا فرنٹیئر کانسٹیبلری کو ملک گیر فیڈرل فورس بنانے کا فیصلہ
سرکاری اداروں کو 343 ارب روپے کا نقصان، مجموعی خسارہ 5893 ارب ہو گیا
روسی سفیر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، غزہ، افغانستان پر گفتگو
آن لائن کمائی کے جھانسے میں 1 لاکھ روپے کا نقصان، خاتون نے خودکشی کرلی
پاک بحریہ کے افسران، سیلرز اور سویلینز کو عسکری اعزازات دینے کی تقریب