اسلام آباد: قومی اسمبلی نے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2024ء کو کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔
ایوان میں اس بل کی حمایت میں 125 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 45 ارکان نے مخالفت کی۔ بل کے تحت انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن 11 فور ای کی ذیلی شق ایک میں اہم ترمیم کی گئی ہے۔ ترمیمی بل کے مطابق مسلح افواج اور سول آرمڈ فورسز کو قانونی طور پر اختیار حاصل ہو گا کہ وہ کسی بھی شخص کو ملکی سلامتی، دفاع، امن و امان کے تحفظ کے لیے 3 ماہ تک حفاظتی حراست میں رکھ سکیں۔ اس کا مقصد دہشت گردی اور دیگر سنگین جرائم کی روک تھام میں کارکردگی کو بڑھانا ہے۔بل میں خاص طور پر اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ ان جرائم میں ملوث کسی بھی شخص کو حراست میں رکھنے کی مدت 3 ماہ سے زائد کی جا سکتی ہے، جو کہ آئین کے آرٹیکل 10 کے تحت ممکن ہو گا۔
زیر حراست افراد کے خلاف تحقیقات مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT) کے ذریعے کی جائیں گی، جس کا مقصد تفتیش میں شفافیت اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔ اس سے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے قانونی عمل کو مزید مضبوط بنانے کی توقع ہے۔انسداد دہشت گردی ایکٹ کی یہ ترمیم 3 سال کی مدت کے لیے نافذ العمل رہے گی، جس کے بعد اس کی کارکردگی کا جائزہ لے کر دوبارہ توسیع یا ترمیم کی جا سکتی ہے۔