ایران کے صوبے سیستان-بلوچستان میں نامعلوم افراد کے حملے میں کم از کم پانچ پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانشہر کے قریب گشت پر موجود دو پولیس یونٹس کو نشانہ بنایا گیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں پانچ اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔فارس نیوز ایجنسی نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ اس دہشت گردانہ حملے میں امن و سلامتی کے پانچ محافظ شہید ہوئے۔ ایرانی میڈیا نے جائے وقوعہ کی تصاویر بھی جاری کی ہیں جن میں گولیوں سے چھلنی پولیس پک اپ اور زمین پر پڑی لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں۔حکام کے مطابق حملہ آوروں کو گرفتار کرنے اور ان کی شناخت کے لیے کارروائی جاری ہے۔ تاہم تاحال کسی گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
ایرانی حکام اکثر اس نوعیت کے حملوں کا الزام سنی شدت پسند تنظیموں پر عائد کرتے ہیں، جن میں جیش العدل بھی شامل ہے، جسے ایران اور امریکا دونوں دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔سیستان-بلوچستان، جو پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے، ایران کے پسماندہ ترین صوبوں میں شمار ہوتا ہے اور یہاں سنی بلوچ اقلیت آباد ہے۔ اس علاقے میں طویل عرصے سے شدت پسندوں، منشیات فروشوں اور علیحدگی پسند گروہوں کے ساتھ سیکیورٹی فورسز کی جھڑپیں جاری ہیں۔
بونیر میں سیلابی تباہی، شادی کی خوشیاں 24 جنازوں میں بدل گئیں
کراچی: پٹاخوں کے گودام میں دھماکے، اموات 6 ہو گئیں، مقدمہ درج








