ورلڈ ہیڈر ایڈ

بابا فرید الدین گنج شکر رحمة اللہ تعالی علیہ : علی چاند کا بلاگ

صوفیا کرام محبت ، امن اور بھاٸی چارے کے مبلغ رہے ہیں ۔ انہی لوگوں کی وجہ سے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر برصغیر کے بہت سے غیر مسلم لوگ داٸرہ اسلام میں داخل ہوٸے ۔ صوفیا کرام نے ہمیشہ لوگوں کو بلا امتیاز رنگ و نسل اور بلا امتیاز دین و ملت ایک دوسرے کے ساتھ حسن اخلاق کی تعلیم دی اور اس کی عملی مثالیں بھی پیش کیں جن کی بدولت برصغیر کے ہندوٶں اور دیگر اقوام نے دین اسلام قبول کر کے اپنی زندگیاں دونوں جہاں میں روشن کی ۔ ان صوفیا کرام نے عملی تعلیمات کے ساتھ ساتھ اپنےاقوال اور اپنی شاعری کے ذریعے بھی لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیا ۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلام کو عملی طور پر اپنایا اور پھر دین اسلام کی عملی طور پر اشاعت کی ۔ ان بزرگ صوفیا کرام ہی کی بدولت ہمارے بزرگوں نے دین اسلام کی دولت کا اپنایا اور پھر دین اسلام کی محبت کی شمع ہمارے دلوں میں روشن کی ۔

ان بزرگ صوفیا کرام میں سے ایک حضرت بابا فرید الدین گنج شکر ہیں ۔ بابا فرید الدین بارہویں صدی کے مسلمان مبلغ اور صوفی شاعر ہیں ۔ جن کی بدولت ، جن کی عملی تعلیمات سے متاثر ہو کر لاکھوں لوگ دین اسلام کی طرف کھنچے چلے آٸے ۔ بابا فرید الدین کا اصل نام مسعود اور لقب فرید الدین تھا ۔ آپ کی ولادت 589 ہجری میں ہوٸی اور وصال 666 ھ میں ہوا ۔ آپ کی والدہ کا نام قرسم خاتون اور والد ماجد کا نام قاضی جلال الدین تھا ۔ بابا فرید الدین کے استاد محترم حضرت خواجہ معین الدین چشتی ہیں ۔ بابا فرید الدین پنجابی ادب اور پنجابی شاعری کی بنیاد مانے جاتے ہیں ۔

بابا فرید الدین کو گنج شکر کہنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی والدہ نے جب آپ کو نماز کی تلقین کی تو کہا کہ جب بچہ چھوٹا ہوتا ہے اور وہ نماز پڑھتا ہے تو اللہ پاک کی طرف سے اسے شکر ملتی ہے ۔ اور پھر جیسے جیسے انسان بڑا ہوتا جاتا ہے ان انعامات میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔ جب بابا فرید نماز پڑھ رہے ہوتے تو آپ کی والدہ چپکے سے مصلے کے نیچے شکر کی پڑیاں رکھ دیتیں ۔ ایک دن آپ کی والدہ کو شکر رکھنا یاد نہ رہا بعد میں یاد آیا تو پوچھا فرید الدین کیا آپ کو شکر کی پڑیاں ملی تھیں ۔ بابا فرید الدین نے ہاں میں جواب دیا تو آپ کی والدہ نے کہا کہ آپ تو واقعی گنج شکر ہیں ۔

بابا فرید نے ابتداٸی تعلیم ملتان کی ایک مسجد سے حاصل کی پھر آپ قندھار اور مختلف شہروں سے تعلیم حاصل کر کے دہلی پہنچے ۔ کہا جاتا ہے کہ بابا فرید کو دہلی کی شان و شوکت بالکل بھی پسند نہ تھی جس کی وجہ سے آپ دہلی سے ہانسی اور پھر پاک پتن تشریف لے آٸے اور یہیں ڈیرہ نشین ہوگے ۔ بابا فرید نے بھی دیگر صوفیا کی طرح لوگوں کو امن و امان ، اخوت اور بھاٸی چارے کا درس دیا جس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں نے بڑی تعداد میں اسلام قبول کر لیا۔ بہت سے علما کرام بھی بابا فرید الدین سے گراٸمر اور زبان دانی کے مساٸل حل کروانے پاک پتن آتے تھے ۔

بابا فرید الدین پنجابی شاعری کے پہلے شاعر ہیں ۔ آپ کی شاعری میں بھی آپ کی عملی زندگی کی طرح بھاٸی چارے ، مساوات اور انسانیت کا درس ملتا ہے ۔ بابا فرید الدین نے ہمیشہ اپنی زندگی کو ذاتیات کی بجاٸے عوامی دکھوں کے حوالے سے دیکھا ہے جیسا کہ بابا فرید الدین خود لکھتے ہیں کہ
میں جانیا دکھ مجھ کو ، دکھ سبھاٸے جگ
اچے چڑھ کے ویکھیا تاں گھر گھر ایہا اگ

ترجمہ : میں سمجھا تھا کہ دکھ صرف مجھ ہی کو ہیں لیکن یہاں تو سارا جہاں دکھی ہے ۔ جب میں نے اوپر ہو کر دیکھا تو پتہ چلا کہ ہر گھر اسی آگ میں سلگ رہا ہے ۔

اک دوسرے شعر میں بابا فرید فرماتے ہیں
فریدا خاک نہ نندیے ، خاکوں جیڈ نہ کوٸی
جیوندیاں پیراں تھلے ، مویاں اوپر ہوٸی

ترجمہ : فریدا خاک کی ناقدری نہ کرو کیونکہ زندگی میں یہی خاک ہے جس پر ہم پاٶں رکھے کھڑے ہوتے ہیں اور مرنے کے بعد یہی خاک ہمارے عیبوں پر پردہ ڈال دیتی ہے ۔

بابا فرید الدین کے اقوال سے بھی ان کی تعلیمات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ
1 انسانوں میں ذلیل ترین وہ ہے جو کھانے ، پینے اور پہننے میں مشغول ہے ۔
2 نفس کو اپنے مرتبہ کے لیے خوار مت کرو ۔
3 درویش فاقے سے مر جاتے ہیں لیکن لذت نفس کے لیے قرض نہیں لیتے ۔
4 جس دل میں اللہ کا ذکر جاری رہتا ہے وہ دل زندہ ہے اور شیطانی خواہشات اس پر قابو نہیں پا سکتیں ۔
5 اطمینان چاہتے ہوتو حسد سے دور رہو ۔
6 دوسروں سے اچھاٸی کرتے ہوٸے سوچو کہ تم اپنی ذات سے اچھاٸی کر رہے ہو ۔

حضرت بابا فرید الدین نے 666 ھ میں وفات پاٸی ۔ مولانا بدر الدین کہتے ہیں کہ بابا فرید الدین نے وضو کے لیے پانی منگوایا ، وضو کر کے نماز پڑھی ، سجدے میں ہی یاحیی یا قیوم پڑھتے ہوٸے آپ خالق حقیقی سے جا ملے ۔ بابا فرید کا مزار آپ کے ایک مرید شہنشاہ محمد بن تغلق نے تعمیر کروایا ۔

اللہ پاک ہمیں ان بزرگوں کی تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ آمین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.