فیصلہ بابری مسجد کا یا مسلم کشی کا ! تحریر: غنی محمود قصوری

مغل دور میں تعمیر ہونے والی مشہور مسجد بابری کا تنازعہ ہندوءوں اور مسلمانوں کے درمیان آج سے 70 سال قبل یعنی 1949 سے چلا آ رہا ہے حالانکہ یہ مسجد مسلمان دور حکومت میں تعمیر ہوئی ہے
بابری مسجد کو مغل دور حکومت میں بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر فیض آباد کے علاقے ایودھیا میں 1527 کو اس وقت کے مغل سالار میر باقی نے تعمیر کروایا تھا اور اس کو ہندوستان کے مشہور بادشاہ ظہیر الدین بابر کی نسبت سے بابری مسجد کا نام دیا گیا
ویسے تو ہندو مغل دور کی اس عظیم مسجد بابری کے خلاف 1949 سے ہی سازشیں کر رہے ہیں مگر حیرت تو اس بات کی ہے کہ کم و بیش ایک ہزار سال تک مسلمانوں کی حکومت میں کسی ہندو پنڈت اور تنظیم نے یہ نا بتایا کہ اس مسجد کو رام للا یعنی ہندو بھگوان ،رام کی جائے پیدائش کو گرا کر تعمیر کیا گیا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہندو بے ایمان مغل دور کی غلامی کی یادیں مٹانا چاہتا ہے اور اپنے آقا انگریز کی رسم پوری کرنا چاہتا ہے کہ جس نے اپنے ہندوستان پر جبری قبضے کے دوران ہزاروں مساجد کو شہید کیا اور گرجا گھروں میں بدلا تھا
1980 میں ہندو انتہا پسند تنظیموں نے اس مسجد کے خلاف سازشیں مذید تیز کر دیں اور ہندوءوں کو بھڑکایا جانے لگا کہ یہ مسجد ہندو بھگوان ،رام کی جائے پیدائش کو گرا کر تعمیر کی گئی ہے اور 1949 تک اس مسجد میں دو مورتیاں بھی موجود تھیں جنہیں مسلمانوں نے باہر پھینک دیا تھا
رفتہ رفتہ اس مسجد کے خلاف مہم تیز ہوتی گئی اور ہندو پنڈت و لیڈران ہندوءوں کو اس مسجد کے خلاف اکساتے رہے اور مسجد کو گرا کر رام مندر بنانے کی باتیں سرعام جلسوں میں کرتے رہے مگر ہندوستان سرکار اور اعلی عدالتیں خاموش رہیں اور پھر آخر کار 6 دسمبر 1992 کو ہندو انتہا پسند تنظیم وشو ہند پریشد نے ہندو سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ مل کر ایل کے ایڈوانی کی زیر قیادت تقریبا 150000 سے زائد ہندوءوں کو جمع کرکے اس عظیم مسجد پر حملہ کر دیا ہندو تنظیموں نے جنونی ہندوءوں کو باقاعدہ ٹریننگ دی اور انہیں پورے ہندوستان سے اکھٹا کرکے ایودھیا لایا گیا حملے کے نتیجے میں مسجد کا کافی حصہ مسمار ہو گیا اور مسلمانوں نے اپنی پیاری مسجد کی خاطر پورے ہندوستان میں مزاحمت کی تو ہندو بلوائیوں نے تقریبا بیس ہزار مسلمانوں کو شہید کر دیا اس پر ہندو سرکار نے ایکشن لیتے ہوئے صرف 68 بندوں کے خلاف فرد جرم عائد کی اور بعد میں انہیں بھی رفتہ رفتہ بے گناہ قرار دیا جاتا رہا
مسلمانوں نے بابری مسجد کی مسماری پر ہندوءوں کے خلاف مقدمہ درج کروایا جس پر فیصلے آتے رہے مگر 30 ستمبر 2010 کو الہ آباد ہائی کورٹ نے شرمناک فیصلہ سنا کر مسلمانوں کو مذید دکھی کر دیا الہ آباد ہائی کورٹ کے 3 ججوں نے فیصلہ سنایا کہ بابری مسجد رام للا کو گرا کر بنائی گئی ہے لحاظہ اسے تین حصوں میں تقسیم کیا جائے بابری مسجد کے کل رقبہ 2.77 ایکڑ کا ایک تہائی حصہ رام للا کو دیا جائے اور وہاں رام مندر تعمیر کیا جائے ایک تہائی مسلمانوں کے سنی وقف بورڈ کو دیا جائے اور باقی جگہ ہندو انتہا پسند تنظیم ،نرموہی اکھاڑے کو دی جائے ہندوستانی ہائیکورٹ کے اس شرمناک فیصلے پر مسلمانوں میں شدید اضطراب پایا گیا اور مسلمانوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو ہندوستانی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جس پر ہندوستانی سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے آج 9 نومبر 2019 کو فیصلہ سنایا کہ آثار قدیمہ کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بابری مسجد رام للا کو گرا کر بنائی گئی ہے اور اس پر مسلمانوں کا کوئی حق نہیں ہندو بابری مسجد کی جگہ بگھوان رام کا مندر بنائیں اور مسلمانوں کے سنی بورڈ کو 5 ایکڑ زمین کسی اور علاقے میں دی جائے جہاں وہ اپنی مسجد تعمیر کریں
ویسے ہندوستان کا جمہوری اور مذہبی نظام تو شدید متعصب تھا ہی مگر عدالتی نظام شدید متعصب اور گھٹیا نکلا اس عدالت نے یہ تحقیق نا کی کے 1000 سال تک ہندو رام للا کا واویلا کیوں نا کر سکے حالانکہ ان مغل اداواروں میں بہت زیادہ ہندو مندر تعمیر ہوئے جنہیں خود مغل بادشاہوں نے ہندو کیلئے تعمیر کروایا تاکہ ہندو اپنے مذہب کے مطابق اپنی پوجا کر سکیں نیز ہندوءوں کی مسلمانوں کی خدمت کی بدولت انہیں بہت زیادہ زمینوں اور جاگیروں سے نوازا جاتا رہا اگر اس وقت ایسی کوئی بات ہوتی تو ضرور مسلم بادشاہوں کی طرف سے دیگر مندروں کی طرح اس مندر کی تعمیر کا مسئلہ بھی حل کیا جاتا تاریخ گواہ ہے اگر مسلمان خاض طور پر مغل بادشاہ ہندو کی طرح متعصب اور جنونی ہوتے تو آج کرہ ارض پر ایک بھی ہندو زندہ نا ہوتا مگر تاریخ نے مسلمانوں کا ہندوءوں کیساتھ اعلی پائے کا اخلاص اور انصاف دیکھا ہے
اور پھر بیس ہزار مسلمانوں کے قاتل اور مسلمانوں کی تاریخی مسجد کو مسمار کرنے والے ڈیڑھ لاکھ جنونی ہندوءوں میں سے کسی کو بھی قابل قدر سزا کیوں نا ہو سکی درحقیقت ہندو ناپاک پلید کی طرح اس کا سارا عدالتی نظام بھی گھٹیا اور پلید ہے انہیں معلوم ہے کہ مسلمان اس فیصلے کو کبھی بھی تسلیم نا کرینگے اور اسی بدولت ماضی کی طرح پھر ہندو مسلم فسادات ہونگے جن میں سراسر نقصان مسلمان کا ہی ہوتا رہا ہے کیونکہ ہندوستان میں مسلمان ایک اقلیت ہیں اور ہندوءوں کے ستائے ہوئے محکوم بھی جبکہ ہندو باقاعدہ تربیت یافتہ اور مسلح ہیں مگر پھر بھی اس غلیظ عدالت نے جھوٹ اور افسانوں کو مانتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف فیصلہ دیا اور ہندو مسلم فسادات کی راہ ہموار کی ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.