بچوں کے لئے سمر کیمپ ضروری مگر کہاں پر؟؟؟ عفیفہ راؤ

آج کل جہاں بچے اپنی گرمیوں کی چھٹیوں کا مزا لے رہے ہیں ساتھ ہی کچھ بچے ایسے بھی ہیں جنہیں ان کے والدین نے کسی سمر کیمپ میں داخلہ دلوا دیا ہے اور وہ آجکل اس میں مصروف ہیں۔اگر ہم ماضی میں جھانکیں اور سوچیں کہ ہم اپنی گرمیوں کی چھٹیاں کیسے مناتے تھے تو آپ کو یا د ہو گاکہ گرمیوں کی چھٹیوں میں سب سے زیادہ اانتظار ان دنوں کا ہوتاتھا جب ہم نے اپنی والدہ کے ساتھ اپنے نانی نانا کو ملنے یادادی دادا کو ملنے جاناہوتاتھا۔اور یہ عام رواج تھا کہ گھروں میں سب بچے اکھٹے ہوتے تھے اور اپنے کزنز،خالہ ،ماموں ،تایا،چچااورپھوپھو کے ساتھ ٹائم گزارتے تھے ۔ ان کے ساتھ گزارہ وہ وقت اور شرارتیں ہی ہمارے بچپن کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔آج اگر ہم سب کسی فیملی ایونٹ پر اکھٹے ہوتے ہیں تو بچپن میں ایک ساتھ گزاری چھٹیوں کو ہی یاد کرکے ہم سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔

مگر بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ ہماری زندگی گزارنے کے طریقے بھی کافی حد تک بدلتے جا رہے ہیں اب وہ وقت نہیں رہا کہ مائیں گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے لئے بچوں کو لیکر اڑھائی یا تین ماہ کے لئے میکے جا سکیں ۔کسی عورت کی اپنی جاب کی مجبوری ہوتی ہے تو کسی کے شوہر کی نوکری کا مسئلہ ،کسی کو ساس کی اجازت نہیں ملتی تو کوئی اکیلے رہنے کی وجہ سے وقت نہیں نکال پاتی۔ویسے بھی آج کل کے تیزطرار دور میں کوئی بھی عورت اپنے شوہر اور گھر کو اتنے زیادہ دنوں کے لئے اکیلے چھوڑنے کارِسک بھی نہیں لے سکتی۔لیکن چھٹیوں میں بچوں کو 24گھنٹے سنبھالنا بھی ایک بہت بڑی ڈیوٹی ہے جو پوری کرنے کے لئے بڑے شہروں کی بیشتر خواتین سسمر کیمپ کا سہارا لیتی ہیں۔بچوں کو وہ چند گھنٹے گھر سے دور رکھنے کے لئے ہزاروں روپے سمر کیمپ کی فیس ادا کرتی ہیں ۔پرائیوٹ سکولوں کی طرح سمر کیمپس کی بھی بہت سی اقسام ہیں اور ان میں سے کچھ تو ایسے بھی ہیں جو فی گھنٹہ ایک ہزار روپے سے بھی زیادہ فیس چارج کرتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ وہ اس فیس اور ٹائم کے عوض بچوں کو سکھاتے کیا ہیں؟؟؟

یہ آرٹیکل لکھنے سے پہلے میں نے بہت سے سمر کیمپس کے فیس بک پیجز اور ان میں کروائی جانے والی ایکٹیویٹیز پرکافی ریسرچ کی۔پہلے پہل ان کے بروشیئرز اور اشتہارات دیکھ کر اور ان پر لکھی گئی ایکٹیویٹیز کے نام پڑھ کر تو ایسا لگا کہ واقعی ان سمر کیمپس میں جاکر تو چند دنوں کے گزارے جانے والے ان چند گھنٹوں میں ہمارے بچے نجانے کیاکچھ سیکھ لیں گے اور کوئی سائنسدان یا مصور تولازمی بن جائیں گے۔

https://baaghitv.com/kya-hmary-bachon-ko-summer-camp-ki-zrurt-hai/

اسی ایکسائٹمنٹ اور خوشی میں سوچا کہ اور ٹائم لگایا جائے اور ان کی مکمل تفصیلات حاصل کی جائیں تو بس پھر ایک ایک کرکے ان فیس بک پیجز پر سمر کیمپس میں کروائی جانے والی ایکٹیویٹیز کی تصاویر اور ویڈیوز کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ لیکن یہ کیا تھا یہ تصاویر اورویڈیوز تو مجھے میرے ہی بچپن کی طرف لے گئیں۔ جہاں ہم لکڑی پر لگے ایک چھوٹے سے گول سپرنگ والی سٹک کو چھپا چھپا کر رکھتے تھے کہ کہیں کوئی اس کو پھینک نہ دے اور اگر کسی گھر کے بڑے نے دیکھ لی تو اس کو توڑ ہی نہ دیا جائے اور وہ سٹک باہر تب نکالتے تھے جب سب بڑے دوپہر کو آرام کی غرض سے سو جاتے تھے اور پھر ہم پانی میں کپڑے دھونے والا صرف گھول گھول کر خوب بلبلے بناتے تھے بس ہماری نالائقی یہ تھی کہ ہمارے پاس اس گیم کے لئے کوئی منفرد سا نام نہیں تھا جب کہ آج کل کے سمر کیمپس نے ان کو ببل بیش bubble bash کا نام دے کر ایسے نمایاں کیا جاتا ہے کہ اس میں نہ جانے کیا نئی چیز پوشیدہ ہے۔اس کے بعد ایک اور تصویر پر نظر ٹھر گئی جس میں بچے کاغذ کی مدد سے طرح طرح کے لباس اور جوتے بنا رہے تھے اس ایکٹیویٹی کو بھی کرافٹ کی کوئی نئی قسم ہی لکھا گیا تھا جبکہ ان لباس اور جوتوں کو دیکھ کر مجھے اپنے بچپن کی وہ کاغذ کی گڑیایاد آگئی جو ہم اپنے رجسٹرز میں سے صفحات پھاڑ پھاڑ کر بناتے تھے اور گڑیا کےلئے بنائے کاغذ کے اُن کپڑوں پر بھی رنگوں کی مدد سے خوب پھول بوٹے بناتے اور انھیں رنگوں سے خوب گڑیا کو میک اپ بھی کرتے لیکن افسوس اس وقت میں ہماری یہ سب کھیل کھیلتے ہوئے کوئی تصاویر بنانے والا نہ تھا بلکہ ہم تو یہ سب چھپ چھپا کر کرتے تھے کہ کسی نے دیکھ لیا تو شامت آجائے گی کہ رجسٹر پڑھائی کے لئے تھا یا گڑیا بنانے کے لئے۔ ساتھ ہی ساتھ کٹنگ پیسٹنگ کی ایکٹیوٹیز نے تو گرمیوں کی چھٹیوں میں آنے والی 14اگست یاد کروا دی۔ جیسے ہی اگست کا مہینہ شروع ہوتا تو بازار میں لگنے والے سٹالز سے جھنڈیاں خرید کر لائی جاتیں اور پھر گھر میں ہی سب سے چھوٹی خالہ کی منتیں کرکے ہم ان سے گوند بنواتے اور جب سب دوپہر کو آرام کر رہے ہوتے تھے تو ہم ان جھنڈیوں پر گوند لگا لگا کر لڑیاں بناتے اور خوب جوش و جذبے سے 14 اگست بھی مل کر مناتے۔
اور سب سے دلچسپ تو پول پارٹیز والی تصاویر دیکھنے کو ملی جن میں بچے پلاسٹک کے چھوٹے سے سوئمنگ پول میں ایک دوسرے پر پانی ڈال ڈال کر نہارہے تھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بچوں کے چہروں کی خوشی قابل دید تھی اور وہ واٹر گن اور ٹیوبز کے ساتھ خوب انجوائے بھی کر رہے تھے۔ مگر یہ کیا یہ سب تو ہم ٹیوب ویل پر اپنے بڑوں کے ساتھ جاکر کرتے تھے مجھے یاد ہے ہمارے نانا جی ہمیں پانی میں جمپ لگاتا دیکھ کر خوب خوش بھی ہوتے تھے ساتھ ہی ساتھ برف میں لگے ٹھنڈے آموں کے ساتھ ہماری دعوت بھی کی جاتی تھی۔اور رہی بات پڑھائی کی تو سب بہن بھائی اور کزنز ایک دوسرے سے مقابلہ لگا کر سکولز کی طرف سے ملنے والا کام بھی جلد از جلد ختم کرنے کی کوشش کرتے تھے اس طرح چھٹیاں بھی بھرپور انجوائے کی جاتی تھیں اور ساتھ ساتھ پڑھائی بھی ہوتی تھی ۔مختصر یہ کہ ان سمر کیمپس کی تصاویر کے ساتھ کافی وقت لگانے کے باوجود کوئی ایسی نئی چیز دیکھنے کو نہ ملی جسے دیکھ کر یہ محسوس ہو کہ یہ کام تو ہم نے اپنی گرمیوں کی چھٹیوں میں نہیں کیا تھا اور ہمارے بچوں نے بھی اگر یہ نہ کیا تو نجانے وہ ان سمر کیمپ والے بچوں سے ترقی کے میدان میں کہیں بہت پیچھے نہ رہ جائیں۔
ان ایکٹیوٹیز کے علاوہ بہت سے سمر کیمپس ایسے ہیں جو کہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بچوں میں
critical thinking,
reading and writing skill,
problem solving and
leadershipکی صلاحیتیں پیدا کریں گے۔ویسے تو یہ سب صلاحیتیں خداداد ہوتی ہیں لیکن اگر behavioral sciencesکے مطابق دیکھا جائے تو یقین کرنا پڑے گا کہ انسان یہ سب سیکھ بھی سکتا ہے لیکن اس کے لئے اچھا خاصا وقت درکار ہوتاہے اور مسلسل جدوجہد کرنا پڑتی ہے ۔جو کہ سمر کیمپس میں گزارے دو یا تین گھنٹوں میں تو ہونابہت مشکل ہی نہیں تقریباََ نا ممکن ہی ہے۔ہاں بچوں میں یہ سب صلاحیتیں پیدا کرنے میں اگر کوئی اہم کردار ادا کر سکتا ہے تو وہ اس کا سکول اور گھر ہے جہاں وہ اپنے دن کاا چھا خاصاٹائم گزارتے ہیں۔


تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ چھٹیوں کو ایک بوجھ سمجھ کربچوں کے لئے گھر سے باہر بھاری فیس ادا کر کے سمر کیمپس تلاش کرنے کی بجائے ان چھٹیوں کو ایک موقع سمجھنا چاہیے کہ اس میں ہم اپنے بچوں کے ساتھ ایک کوالٹی ٹائم گزارسکتے ہیں ۔ ہم جو عادات اپنے بچوں میں ڈویلپ کرنا چاہتے ہیں یہ چھٹیاں اس کے لئے ایک سنہری موقع ثابت ہو سکتی ہیں ۔اور رہی بات مختلف طرح کی ایکٹیویٹیز کی تو یہ سب آجکل کیا مشکل ہے جب بک سٹورز پرہر طرح کی ایکٹیویٹیز کا سامان با آسانی دستیاب ہوتا ہے پھر بھی اگر کوئی مشکل ہو تو جس انٹرنیٹ اور سوشل میڈیاجس پر مائیں بچوں کے لئے سمر کیمپ تلاش کرتی ہیں اس پرسرچ کرکے وہ خودبہت سے نیو آئیڈیاز پر کام کر سکتی ہیں جب اتنی آسانیاں ہیں تو مائیں خود سے بچوں کے لئے کوئی ایسی ایکٹیویٹی کیوں نہیں پلان کرتیں؟بچوں کی بہتر تربیت اور اچھے کردار کے لئے ضروری یہ ہے کہ آپ اپنے بچوں کے لئے اپنے گھر میں ہی سمر کیمپ کا انعقاد کریں ان کے ساتھ وقت گزاریں. جس سے بچہ کچھ نیا سیکھ بھی سکے اور مصروف بھی رہے کیونکہ ماں سے بہتر بچے کو کوئی نہیں سمجھ سکتا۔

عفیفہ راو
صحافی۔۔ٹی وی پروڈیوسر

Email:afeefarao@gmail.com

Facebook: www.facebook.com/afeefarao786

Twitter: https://twitter.com/afeefarao

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.