fbpx

بلدیاتی ملازمین نے ہڑتال کا ذمہ دار حکومت اور اداروں کو قرار دید یا

مظفرآباد، بلدیاتی ملازمین نے ہڑتال کا ذمہ دار حکومت اور اداروں کو قرار دید یا۔ لوکل گورنمنٹ بورڈ اور محکمہ مالیات کی آپسی جنگ نے معاملہ خراب کیا۔ مرکزی ایوان صحافت میں لوکل کونسل ایمپلائز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر شیخ طاہر وسیم نے ضلعی صدر جاوید اعوان‘ صدر ضلع کونسل ضیا ء اعوان‘ صدر ورکرز یونین راحیل شریف‘ سیکرٹری جنرل لوکل کونسل ایمپلائز بدر منیر اور جنرل سیکرٹری ورکرز یونین شیخ ارباب اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 22سوبلدیاتی ملازمین کی پنشن کا معاملہ 25سال سے زیر التواء ہے۔ حکومت نے کئی بار ہماری ہڑتالوں کے بعد مذاکرات کرکے مطالبات تسلیم کئے اور کمیٹیاں بنا کر معاملات الجھائے۔

پولیس ملازمین سمیت تمام محکموں کے عارضی ملازمین کو مستقل کردیا گیا مگر بلدیاتی ملازمین کو تاحال مستقل نہیں کیا گیا۔ ہماری پنشن اور لیو ان کیشمنٹ سالانہ صرف 20سے 25کروڑ بنتی ہے جبکہ حکومت بے ابھی دیگر محکموں کے ملازمین کیلئے 1ارب 80کروڑ کا پیکج دیا ہے کوڑا کرکٹ اٹھانے والوں کوئی میڈیکل نہیں جو کینسر‘ ہیپاٹائٹس اور دیگر خطرناک بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔2019میں ہماری 14روزہ ہڑتال کے بعد حکومت نے طے کیا کہ 15فیصد لوکل گورنمنٹ بورڈ دے گا۔ 3فیصد ملازمین کی تنخواہوں میں سے کٹوتی ہوگی بقیہ تمام فنڈ جو گرانٹ ان ایڈ کے طور پر محکمہ مالیات دیگا۔

مگر دونوں محکموں کی باہمی چپقلش نے تاحال معاملہ حل نہیں ہونے دیا۔ سیکرٹری بورڈ کہتے ہیں کہ مالیات رکاوٹ ہے جبکہ مالیات کا موقف ہے کہ بورڈ حساب فہمی نہیں کررہا۔ بیورکریسی یہ بھی کہتی ہے اگر پنشن اے جی آفس منتقل کردی تو ادارہ ختم ہوجائے گا۔ تعجب کی بات ہے کہ تنخواہ اے جی سے ملنے تو ادارہ ختم نہیں ہواپنشن سے کیسے ختم ہوجائیگا۔ ہمارے مطالبات ہیں کہ فوری طورپر پنشن اے جی آفس منتقل کی جائے۔ وزیراعظم کے پا س دو ماہ ہیں کمیٹیاں بنا کر مزید وقت ضائع نہ کیا جائے بلکہ فوری نوٹیفکیشن کرکے معاملہ حل کیاجائے۔

ورک چارج ملازمین ہمارے ساتھ ہڑتا ل میں شریک ہیں کیونکہ وہ دس سال سے زائد عرصہ سے کام کررہے ہیں۔ انھیں مستقل نہیں کیاگیا۔ 1999میں بلدیاتی اداروں کی چونگی محصولات کا خاتمہ ہوا تو وفاق نے مکتوب کے ذریعے سے آزاد حکومت کو ہدایت کی اب تنخواہیں اور پنشن حکومت ہی ادا کریگی۔دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں کہ ملازمین کے تنخواہوں میں سے تین فیصد کٹوتی کی جائے۔ اس وقت سیکرٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ خواجہ غلام رسول نے 90لاکھ روپے اے جی کو منتقل کرنے کی بجائے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں رکھ کر اس سے منافع کھاتے رہے اور ملازمین کو دھوکے میں رکھا کہ ہم خود سے پنشن دینگے۔ لیکن ملازمین کیساتھ ہاتھ ہوگیا۔ انہوں نے کہاکہ ہماری ہڑتال مطالبات پورے ہونے تک جاری رہے گی۔ اگر ہڑتال ختم کرانے کیلئے ڈپٹی کمشنر نے پیرکے روز کوئی اوچھا ہتھکنڈہ اپنایاتوحالات خرابی کی ذمہ دار ی ان پر ہوگی۔

عوام اور تاجران کو جو پریشانی ہوئی اس پر ہم عوام سے معذرت خواہ ہیں لیکن ہمارے جائز مطالبات میں حکومت اور ادارے رکاوٹ ہیں۔ ہمیں احساس ہے کہ رمضان اور ہیلتھ ایمرجنسی کے دوران ہڑتال کافی مشکل فیصلہ تھا۔ اس بار معاملہ حل کرنے بغیر نہیں اٹھیں گے۔ شہر سے کوڑا اٹھانے کے نام پر دور روز سے فوٹوسیشن ہورہاہے۔ کوڑا کرکٹ سینٹری ورکرز کے علاوہ کوئی اٹھا ہی نہیں سکتا۔ یہ عوام نے بھی دیکھ لیا ہے۔دفعہ 144اور ہال سیل کرنے جیسے ہتھکنڈے میں مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹا سکتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.