کوئٹہ سے لاہور جانے والی مسافر بس سے اغوا کیے گئے 9 بے گناہ مسافروں کی شہادت پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشتگردوں نے بزدلی اور درندگی کی ایسی مثال قائم کی ہے جو ناقابل معافی ہے اور ریاست اس کا بھرپور جواب دے گی۔

میر سرفراز بگٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستانی شناخت پر معصوموں کا قتل ناقابل معافی جرم ہے اور بے گناہوں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ریاستی جنگ ہے جس میں کوئی دوٹوک فیصلہ ہوگا اور حکومت فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے تمام نیٹ ورک کو تباہ کرے گی۔

فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے کوئٹہ سے لاہور جانے والی مسافر بس کو نشانہ بنایا اور بس کے 9 مسافروں کو اغوا کرکے شہید کر دیا۔ حملہ مخصوص طور پر بلوچستان کے علاقوں قلات، مستونگ اور لورالائی میں کیا گیا جہاں دہشتگردوں نے متعدد حملے بھی کیے۔لورالائی کے قریب بس سے مسافروں کو اتار کر اغوا کیا گیا، جس کے بعد ان پر فائرنگ کی گئی۔ اسسٹنٹ کمشنر ژوب نوید عالم نے تصدیق کی کہ اغوا کیے گئے 9 مسافروں کو شہید کیا گیا ،بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ الہندوستان نے آج تین دہشتگرد حملے کیے جنہیں فوراً پسپا کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ سے پنجاب جانے والے مسافروں کو بس سے اتار کر قتل کیا گیا، جو انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔شاہد رند نے کہا کہ یہ واقعہ فتنہ الہندوستان کی جانب سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کی ماضی کی وارداتوں کا تسلسل ہے۔ بے گناہ شہریوں کا بیہمانہ قتل دہشتگردوں کی کھلی درندگی کا ثبوت ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے علاقے سر ڈھاکہ میں بس سے مسافروں کے اغوا اور ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ دہشتگردوں سے پوری قوت سے نمٹیں گے.بے گناہ افراد کے خون کا بدلہ لیا جائے گا. نہتے شہریوں کا قتل فتنتہ الہندوستان کی کھلی دہشتگردی ہے.عزم، اتحاد اور طاقت سے دھشت گردی کے ناسور سے نمٹیں اور اس کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے.

مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے واقعے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی کروا کر اپنی رسوائی چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فتنہ الہندوستان کے آلہ کار پاکستان میں خون بہا رہے ہیں، مگر پاکستان کے عوام دہشتگردی کے خلاف افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔خالد مسعود سندھو نے زور دیا کہ بلوچستان کے عوام کو جائز حقوق ملنے چاہئیں لیکن اس آڑ میں قتل و غارت اور دہشتگردی کی گنجائش ہرگز نہیں دی جا سکتی۔

بلوچستان حکومت اور پاکستانی عوام نے دہشتگردوں کی اس بزدلانہ کارروائی کو یکسر مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ واقعے کے بعد سیکورٹی فورسز کی جانب سے سرچ آپریشنز جاری ہیں اور علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

Shares: