fbpx

برطانوی ارکان پارلیمنٹ کا اپنی حکومت سے کشمیر پرخاموشی ترک کرنے مطالبہ

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں، برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے اپنی حکومت سے خاموشی ترک کرنے مطالبہ کیا ہے

لیبر پارٹی کے رکن عمران حسین اور طاہر علی اور دیگرنے برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر کے حوالے سے خطاب کیا، عمران حسین کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت جبر کا شکار لوگوں کے حقوق کے لئے اٹھ کھڑی ہو، برطا نوی حکومت خطے میں موجود تنازعات کو دوطرفہ بات چیت سے حل کرنے پر زور دے، جموں و کشمیر میں مظالم پر برطانیہ اور دیگر ممالک اس صورتحال پر خاموش رہنے کی روش ترک کریں، 70سال سے زیادہ عرصے سے کشمیر کے بیٹوں اور بیٹیوں کو ظلم و ستم، جبر اورانتہائی وحشیانہ ناانصافیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، 70سال سے زیادہ عرصے سے کشمیری قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں بے رحمی سے مارے جا رہے ہیں، قابض بھارتی فوج کو بدنام زمانہ آرمد فورسز (سپیشل پاورز) ایکٹ کے تحت قانونی کارروائیوں سے استثنا حاصل ہے، 70سال سے زیادہ عرصے سے کشمیریوں کے حقوق پامال کئے جا رہے ہیں، کشمیری عوام کی آزادیاں چھینی جا رہی ہیں اور ان کو حق خود ارادیت دینے سے انکار کیا جارہا ہے، انسانی حقوق اور حق خود ارادیت بین الاقوامی ایشوز ہیں، ہم بار بار ان ایشوز کو اٹھاتے ہیں، اگر برطانیہ اور دیگر عالمی برادری اس صورتحال پر بدستور خاموشی اختیار کئے رکھتی ہے تو اس پر بات کرنے کا کیا مقصد باقی رہ جاتا ہے؟ وقت آگیا ہے کہ برطانوی حکومت اور بین الاقوامی برادری اس سلسلہ میں ٹھوس اور حقیقی اقدامات پر زور دے، یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کشمیری عالمی برادری سے اپنے حقوق کی بھیک نہیں مانگ رہے، کشمیری متحد ہو کر حق خود ارادیت اور اپنی قسمت کا خود فیصلہ کرنے کا حق طلب کریں،

طاہر علی کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر میں فوجی قبضے کی وجہ سے برطانیہ میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر کے برطانوی پارلیمنت میں داخلے پر پابندی عائد کی جائے، مسئلہ کشمیر برطانوی حکومت کی طرف سے 1947 میں پیدا کئے گئے تنازعات کی ایک مثال ہے، برطانوی ارکان پارلیمنٹ اور بین الاقوامی مبصرین کو جموں و کشمیر جانے کی اجازت نہیں، برطانیہ میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر پر بھی برطانوی پارلیمنٹ میں داخل ہو نے پر پابندی لگائی جائے،

چیئر پرسن آل پارٹیز پارلیمنٹری گروپ آن کشمیر ڈیبی ابراہامز نے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی، ڈیبی ابراہامز نے آزاد کشمیر کے دوروں میں سہولت فراہم کرنےپر پاکستانی حکومت کی تعریف کی ،ڈیبی ابراہامزکا کہنا تھا کہ بھارت نے اپنے زیر تسلط کشمیر تک کبھی رسائی نہیں دی، صحافیوں کو بھی بھارت کے زیرتسلط کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں ، برطانوی رکن پارلیمنٹ سارہ اوون کا کہنا تھا کہ نریندر مودی سے اقوام متحدہ کے کنونشز کی خلاف ورزیوں اور جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سوال کیا جانا چاہیے،

@MumtaazAwan

یاسمین قریشی کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی طویل جدو جہد کئی عشروں پر محیط ہے، ہم انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے، لندن: گزشتہ دو سال کے دوران جموں و کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی گئی، جموں و کشمیر میں چھاپے اور گرفتاریاں روزہ مرہ زندگی کی حقیقت ہیں، لوگوں کو اجتماع کی آزادی حاصل نہیں، پریس کو خاموش کرایا جا رہا ہے اور سول سوسائٹی کا گلا گھونٹا جاررہا ہے، جموں وکشمیر میں اب بھی انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن ہے، افضل خان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر طویل ترین عرصہ سے حل طلب رہنے والا تنازعہ ہے، بھارت میں امتیازی سلوک معمول بنتا جارہا ہے، امن کے لئے ثالثی اور بین الاقوامی قانون کے احترام کو یقینی بنانا برطانیہ کی اخلاقی ذمہ داری ہے،

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!