fbpx

بڑے میچ کا بڑا کھلاڑی تحریر: ڈاکٹر ذکاءاللہ

عمران خان نے جب1971 میں کرکٹ کھیلنا شروع کی تو وہ پہلے میچ میں بری طرح ناکام ھوگیا لیکن ہمت نہیں ھاری محنت جاری رکھی
جب 4سال بعد دوبارہ ٹیم میں آے تو ایک نیے ولولے اور جوش سے کھیلے
جاوید میانداد جیسے بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلتے ھوے اپنے آپ کو ایک بہترین کھلاڑی اور لیڈر منوایا
ویسٹ انڈیز کے خلاف 1979میں کھیلی جانی سیریز تاریج کا حصہ ھے
جب پوری دنیا کے بیٹسمین کالی آندھی سے مشہور باولنگ اٹیک کا نام سنتے تو ضرور انہیں جھٹکا لگتا ھوگا کیونکہ جس ٹیم کی باولنگ لاین اپ میں مایکل ھولڈنگ اور میلکم مارشل جیسے تیز باولر ھوں وھاں پریشانی اورخوف معمولی بات ھے  اور دوسری طرف اس دور کے خطرناک سر ویون رچرڈ جیسے بلے باز جو کسی باولر کو خاطر میں نہ لاتے ان کے خلاف کھیلی جانی ٹیسٹ سیریز میں عمران خان نے اپنی بہترین پرفارمنس سے دنیا کو حیران کردیا تھا
وھی کالی آندھی جس کے خلاف ساری ٹیمیں کھلینے سے گھبراتی تھی بھارت جیسی ٹیم کے ایک اننگز میں چھ کھلاڑی بیٹنگ کے دوران زخمی ھوکر پویلین واپس آے اور بھارت کی ٹیم بہت بری شکست سے ٹیم دوچار ھویی تھی
وھاں عمران خان کے دلیرانہ فیصلوں کی بدولت نہ صرف پاکستان نے ٹیسٹ سیریز برابر کھیلی بلکہ پوری دنیا میں اپنی دھاک بھی بٹھایی
اپنی کرکٹ کیریر کے اختتامی دور  میں پاکستان کو عالمی کپ جیسا تحفہ بھی دیا
سیمی فاینل اور فاینل میچ میں جلد وکٹ گر جانے سے بیٹنگ میں نمبر تین پر کھیلتے ھوے بہترین اننگز کھیلیں اور پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا
فاینل میں  کندھے میں درد کے باوجود پین کلر ٹیکہ لگوا کر نہ صرف کھیلے اور کپتانی کی بلکہ درد کے باوجود باولنگ بھی کرایی اور آخری وکٹ بھی حاصل کی
شوکت خانم جیسے ناممکن نظر آنے والے پروجیکٹ کو اپنے زور بازو سے بنوایا
پہلے الیکشن میں صفر سیٹ سے ناکام رہنے والے کپتان نے اب تک 7 اکاییوں میں سے 6 اکاییوں پر حکمران ہیں صرف سندھ کو فتخ کرنا ھے گلگت بلتستان اور کشمیر الیکشن کے بعد  اب سندھ الیکشن جیتنا نہایت آسان دکھایی دے رھا ھے مقابلہ کویی بھی ھو کپتان ہمیشہ چیلنج قبول کرتے ہیں
یہی  وجہ ھے کہ  عمران خان کو بڑے میچ کا بڑا کھلاڑی کہا جاتا ھے

@KHANKASPAHI1