امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعہ کو پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے بات چیت کی اور پاکستان اور بھارت دونوں سے تناؤ کم کرنے کے لئے طریقے تلاش کرنے کی اپیل کی، جیسا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے بتایا۔
خبر رساں ادارے کے مطابق ترجمان نے کہا کہ روبیو نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ تنازعات سے بچنے کے لیے تعمیری بات چیت کے آغاز میں امریکی معاونت کی پیشکش بھی کی۔یہ بات چیت اس وقت ہوئی جب پاکستان نے ہفتہ کی صبح بھارت کے خلاف ایک فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا۔ اس آپریشن کے دوران بھارت کے شمالی علاقے میں متعدد فوجی اڈوں، بشمول ایک میزائل اسٹوریج سائٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اس بات چیت کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کیں، لیکن اس بات پر زور دیا کہ امریکہ ہمیشہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن و استحکام کو فروغ دینے کے لئے تیار ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ٹیلی فونک رابطہ کر کے موجودہ صورت حال پر گفتگو کی اور بھارت سے جاری حالیہ کشیدگی پر تحمل سے مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکی ہم منصب کو کہا کہ اگر بھارت یہاں رک جائے تو پاکستان معاملے کے حل کے لیے تیار ہے لیکن اگر بھارت نہ رکا تو پاکستان اس سے بھی زیادہ بھرپور جواب دے گا۔
دوسری جانب بھارت سے بھی امریکا کا رابطہ موجود ہے، مارکو روبیو نے دو روز قبل بھارتی ہم منصب جے شنکر سے رابطہ کیا تھا تاہم اس کے باوجود بھارت نے حملہ کیا،گزشتہ روز نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا امریکا کا پاک بھارت جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، امریکا اس جنگ میں کوئی مداخلت نہیں کرے گا۔








