بھارت کے معروف ٹی وی چینلز اور سرکاری اداروں کے متعدد بڑے سوشل میڈیا ہینڈلز کے بیرونِ ملک سے چلنے کا انکشاف ہونے کے بعد نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

کئی نمایاں نیوز چینلز اور سرکاری اکاؤنٹس کے ٹویٹر (ایکس) ہینڈلز امریکی اور آئرش لوکیشن سے آپریٹ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جس نے ان کی شفافیت، ادارہ جاتی ساکھ اور ایڈیٹوریل کنٹرول کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ذرائع کے مطابق بھارت کے تین نمایاں میڈیا اداروں ABP نیوز، جسے اکثر ناقدین "جانا مانا گودی اینکر” کا پلیٹ فارم کہتے ہیں،ری پبلک بھارت، جہاں حکومت کی تعریف اور اپوزیشن خصوصاً کانگریس پر تنقید نمایاں رہتی ہے،آج تک، جس کے ساتھ معروف اینکر سدھیر چوہدری بھی منسلک ہیں ان سب کے ایکس (توییٹر) ہینڈلز امریکہ سے آپریٹ ہوتے دکھائی دیے ہیں۔

سوشل میڈیا پر صارفین یہ سوال اٹھاتے نظر آئے کہ اگر یہ چینلز بھارتی ناظرین کے لیے نشریات پیش کرتے ہیں تو پھر ان کے ڈیجیٹل آپریشنز بھارت کے بجائے امریکہ سے کیوں چل رہے ہیں،صرف نجی میڈیا ہی نہیں، بلکہ بھارتی حکومت کے کچھ سرکاری اکاؤنٹس بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔ڈی ڈی نیوز،بھارت کا سرکاری نیوز چینل،کا آفیشل ایکس ہینڈل آئرلینڈ سے چلتا نظر آتا ہے۔بی جے پی گجرات یونٹ کا آفیشل ہینڈل بھی آئرلینڈ کی لوکیشن پر دکھا۔حتیٰ کہ بھارت سرکار کے بڑے منصوبے ‘اسٹارٹ اپ انڈیا’ کا آفیشل ٹویٹر ہینڈل بھی آئرلینڈ سے آپریٹ ہوتے ہوئے سامنے آیا ہے۔

Shares: