اپنے آپ سے بات لازمی کریں———مریم سلیم

میں اکثر اپنے آپ سے بات کرتی۔ جب بھی محجھے لگتا ہے کہ محجھ میں کوئی برائی پیدا ہو رہی ہے۔ یا اردگرد کا ماحول محجھ میں تبدیلی لا رہا ہے تو میں اپنے آپ سے بہت سے سوال کرتی ہوں۔
جانچنے کی کوشش کرتی ہوں کہ کیا یہ ٹھیک ہے یا نہیں؟
کل رات بھی میں اپنے آپ سے بات کر رہی تھی۔اور محجھےپتا چلا کہ میرے اندر نفرت (نیگیٹیویٹی ،اکتاہٹ یا پھر اعتبار کا اٹھ جانا) پیدا ہو رہی ہے. وہ نفرت جو ہم صرف ایک دوسرے سے محظ اس بنا پر کرتے ہیں کیوں کہ وہ ہم سےمختلف سوچ یا رائے رکھتے ہیں(اور یہ ہماری انا کو گوارہ نہیں)یا ہمیں غلط سمحجھتے ہیں۔ ذات کی بیماری جاننے کہ بعد میں نے علاج چاہا۔ لیکن کیا علاج معالج کے بغیر ممکن ہے؟
بلکل نہیں!
اب پتا یہ کرنا تھا کہ معالج زندہ بھی ہے یا نہیں، اسی سلسلے میں میں نے اسے پکارا میں جا نتی تھی کہ اگر تو زندہ ہے تو وہ میرے پہلے سوال پر محجھےمل جائے گا نہیں تو پھر ۰۰۰(اناللّه و انا علیہ راجعون)
میں نےسوال کیا۰۰۰
کیا یہ (اختلاف کی بنیاد پر نفرت )سہی ہے؟
کحچھ دیر کا وقفہ رہا۰۰۰
پھر اندر سے جواب آیا
نہیں!
اور میں جان گئ معالج (ضمیر)ابھی زندہ ہے۔
میرے اندر اطمینان کی لہر دوڑ گئی ۔
کیوں کہ جب تک آپکا ضمیر زندہ رہتا ہے تب تک اصلاح کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔(معالج ہو تو علاج ممکن ہے) اور میں جان گئی کہ اپنے اچھے اخلاق سے نفرت کرنے والوں کو بہترین جواب دیا جا سکتا ہے۔ اپنے آپ سے بات کریں اپنی غلطیوں کو کمزوریوں کوتسلیم کریں۔ یہی چیز ہمیں انسان بنائے رکھتی ہے ۔ ورنہ ہم جانوروں سے بد ترہیں۔ یہی بات ہمیں ادنٰی اوراعلٰی بناتی ہے. خوش رہیں خوش رکھیں ۔لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں. اور اپنے ضمیر کو مرنے مت دیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.