چھاتی کے کینسر سے آگاہی کے حوالہ سے اقدامات کی ضرورت ہے بیگم ثمینہ علوی

اسلام آباد: :صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی اہلیہ بیگم ثمینہ علوی نے کہا ہے کہ چھاتی کے کینسر سے آگاہی کے حوالہ سے اقدامات کی ضرورت ہے، مرض سے آگاہی کیلئے سیمینارز منعقد کئے جائیں –

باغی ٹی وی : چھاتی کے کینسر کی وجوہات میں موروثی منتقلی سمیت دیگر کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی کیلئے میڈیا کا کردار اہم ہے، این جی اوز بیماری سے متعلق ڈیٹابیس کی تیاری میں مدد دیں-

اے پی پی کے مطابق چھاتی کے کینسر کے حوالہ سے شعور اجاگر کرنے کے بارے میں جمعرات کو یہاں ایوان صدر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بیگم ثمینہ علوی نے کہا کہ بریسٹ کینسر کے دو اہم مسائل میں خواتین کی آگاہی اور تشخیص شامل ہیں، یہ مرض قابل علاج ہے اور جلد، بروقت تشخیص سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین اس مرض پربات نہیں کرتیں اور چھاتی کاکینسر خاموشی سے انسانی جانیں لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار اس کی سنگینی کے مظہر ہیں اس لئے اس مرض کی آگاہی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین صحت، تعلیم، سفارتکار، حکومتی ادارے اور تمام شراکت دار آگاہی پیدا کریں۔ اس حوالہ سے تعلیمی اداروں اور دفاتر میں سیمینارز منعقد کئے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیہی خواتین اس بیماری کو نظر انداز کر دیتی ہیں اور شرم سے اس کا ذکر نہیں کرتیں-

بیگم ثمینہ علوی نے کہا کہ خاتون خاندان کا مرکز ہے اور اس کی صحت سے گھر خوشحال ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ خاندان میں مرض کی موجودگی سے چھاتی کے کینسر کا رسک بڑھ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کی بروقت تشخیص سے علاج ممکن ہے اس لئے چھاتی کے کینسر سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کا علاج مہنگا ہے اور جو خواتین علاج کی استطاعت نہیں رکھتیں ان کے علاج کیلئے مخیر حضرات آگے آئیں اور فلاحی ادارے کام کریں تاکہ بروقت علاج کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

بیگم ثمینہ علوی نے چھاتی کے کینسر کے علاج کی سہولتیں فراہم کرنے والے اداروں کی کاوشوں کوقابل تعریف قرار دیا اور کہا کہ این جی اوز کا کردار بھی اہم ہے۔

انہوں نے فلاحی اداروں اور مخیر حضرات کے تعاون کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب اس میں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے کہاکہ چھاتی کے کینسر کے علاج کیلئے خواتین کو دور دراز شہروں میں جانا پڑتا ہے اس لئے ہر ضلع کی سطح پر یاکم از کم ڈویژن کی سطح پر اس کے علاج کی سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو ہسپتال تک پہنچانے کیلئے کچھ ادارے شٹل سروس شروع کرنا چاہتے ہیں جو قابل تعریف اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھاتی کے کینسر کی آگاہی کے بارے میں میڈیا کا کردار اہم ہے۔

انہوں نے اینکرز، میڈیا مالکان اور مارننگ شوز کے میزبانوں سمیت تمام مکتبہ ہائے فکر سے کہا کہ دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں میں بیماری کے حوالہ سے شعور اجاگر کریں۔ سوشل میڈیا صارفین بھی اپنے پیغامات میں کردار ادا کریں تاکہ قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔

بیگم ثمینہ علوی نے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈرز کے باہمی رابطہ کو بہتر بنایا جائے اور گھر گھر آگاہی فراہم کی جائے۔ پنک ربن مہم کو کامیاب بنانے میں معاونت پر انہوں نے تمام شراکت داوں سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ پاکستان میں اعدادو شمار مرتب کرنے کیلئے این جی اوز معاونت کریں۔ مسلح افواج بھی ڈیٹابیس کیلئے حکومت کی معاونت کریں۔

انہوں نے کہا کہ پی اے ایف کے تمام بیسزپر آگاہی سیمینارز منعقد کئے جائیں گے۔ چھاتی کے کینسر کی بیماری کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے میں تمام اداروں کا کردارقابل تحسین ہے۔ اجتماعی کوششوں سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مہم کیلئے کوئی سرکاری خزانہ استعمال نہیں کیا گیا بلکہ تمام شراکت داروں کے تعاون سے یہ مہم چلائی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین معاشرے کا اہم ستون ہیں ان کی صحت کا تحفظ ہم سب کا مشترکہ فرض ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.