fbpx

چیئرمین نادرا عثمان مبین کی تقرری کیخلاف درخواست پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا

چیئرمین نادرا عثمان مبین کی تقرری کیخلاف درخواست پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین نادرا عثمان مبین کی تقرری کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامرفاروق نے عثمان مبین کی تقرری کے خلاف کیسز پر محفوظ فیصلہ سنا دیا، جسٹس عامر فاروق نے چیئرمین نادرا عثمان مبین کی تقرری درست قرار دیتے ہوئے درخواست مسترد کر دی ،عدالت نے کہا کہ چیئرمین نادرا عثمان مبین کی تقرری قانون کے مطابق ہوئی۔

عثمان مبین کے خلاف لاہور ہائی کورٹ ، سندھ ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹیشنز دائر کی گئی تھیں سپریم کورٹ کے حکم پر تمام پٹیشنز اسلام آباد ہائی کورٹ نے سنیں اور آج محفوظ فیصلہ سنادیا

عدالت نے فیصلہ ماہ اگست میں محفوظ کیا تھا، اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیئرمین نادراعثمان مبین تعیناتی کیس کی سماعت ہوئی تھی اس موقع پر وزارت داخلہ کی جانب سے چیئرمین نادرا کی تقرری سے متعلق ریکارڈ عدالت میں پیش کیا گیا ۔

درخواست گزار کے وکیل حافظ عرفات ایڈووکیٹ نے کہا کہ عثمان مبین کی تقرری کے عمل میں چیئرمین نادرا کی تعیناتی کا معیار تبدیل کیا گیا جب کہ تعلیم، تجربے اور ماضی میں نادرا کے ساتھ کام کرنے کے نمبرز کا طریقہ کار طے تھا۔ امیدواروں کی شارٹ لسٹنگ میں عثمان مبین کا نمبر پانچواں تھا، پی ایچ ڈی کے نمبرز کم اور ایم ایس کے نمبرز زیادہ کرکے عثمان مبین کو فائدہ پہنچایا گیا۔

اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ چیئرمین نادرا کے لیے عمرکی حد 55 سال تھی جب کہ عثمان مبین کی تعیناتی کے وقت عمر38 سال تھی، تجربہ اور اشتہار کے مطابق تمام شرائط کو مدنظر رکھ کر عثمان مبین کی تعیناتی ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ عثمان مبین کو پہلی بار 2015ء میں ن لیگ کے دور حکومت میں تعینات کیا گیا تھا اور 2018ء میں مزید 3 سال کے لیے ان کی تقرری کردی گئی تھی,