fbpx

چینی بحران رپورٹ ، جہانگیر ترین پھر میدان میں آ گئے ،بڑا دعویٰ کر دیا

چینی بحران رپورٹ ، جہانگیر ترین پھر میدان میں آ گئے ،بڑا دعویٰ کر دیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے میری ملز کے ہونے والے آڈٹ پر کوئی اعتراض نہیں، کچھ چھپایا ہے نہ مجھے کچھ چھپانے کی ضرورت ہے۔

جہانگیر ترین کا مزید کہنا تھا کہ جہاں سے بھی مخصوص ملز کے آڈٹ کا فیصلہ ہوا انھیں سامنے آ کر جواب دینا ہو گا، کمیشن کو بتانا ہو گا کہ صرف 9 شوگر ملز کو آڈٹ کیلئے سلیکٹ کرنے کا طریقہ کار کیا تھا ؟ کیا کمیشن سمجھتا ہے کہ 9 ملز کا آڈٹ کر کے وہ پاکستان میں موجود تمام 80 شوگر ملز کی حقیقت تک پہنچ جائے گا ؟

چینی بحران رپورٹ میں کی گئی باتیں غلط، وزیراعظم کو موقف پیش کریں گے، جہانگیر ترین

اسد عمرنے کی بجٹ کی مخالفت، غریب عوام کے دل جیت لئے

ہمیں چور کہا جاتا ہے لیکن بتایا جائے چینی مہنگی کرکے عوام کو کون لوٹ رہا ہے؟ خواجہ آصف برس پڑے

شوگر ملزسٹاک کی نقل و حمل اور سپلائی کی مکمل مانیٹرنگ کا حکم

چینی بحران رپورٹ، جہانگیر ترین کے خلاف بڑا ایکشن،سب حیران، ترین نے کی تصدیق

چینی بحران کا ذمہ دار جہانگیر ترین نہیں بلکہ شریف برادران،اہم انکشافات سامنے آ گئے

چینی کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹ میں بھی تحقیقات کا مطالبہ

جہانگیر ترین کے حق میں تحریک انصاف کی کونسی شخصیت کھل کر سامنے آ گئی، بڑا مطالبہ کر دیا

وزیراعظم عمران خان نے جہانگیرترین کوزرعی ٹاسک فورس کی صدارت سے ہٹادیا،جہانگیرترین کوشوگراسکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ کے تناظرمیں ہٹایاگیا، چینی بحران کی رپورٹ آںے کے بعد ایف آئی اے نے بھی ان کے دفتر پر چھاپہ مارا تھا اور ریکارڈ قبضے میں لے لیا تھا.

واضح رہے کہ چینی بحران پر وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر قائم کی گئی انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 6 گروپوں نے مل کر ایک مافیا کی شکل اختیار کر رکھی ہے اور یہ چینی کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے،انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 6 گروپوں کے پاس چینی کی مجموعی پیداوار کا 51 فیصد حصہ ہے اوریہ آپس میں ہاتھ ملا کر مارکیٹ پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ چینی کی پیداوار پر چند لوگوں کا کنٹرول اور ان میں سے بھی زیادہ تر سیاسی بیک گراؤنڈ والے لوگ، یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ پالیسی اور انتظامی معاملات پر کس طرح اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

جہانگیر ترین کے گروپ کی 6 شوگر ملز چینی کی مجموعی ملکی پیداوار کا 19 اعشاریہ 97 فیصد پیدا کرتی ہیں۔ مخدوم خسرو بختیار کے رشتہ دار مخدوم عمر شہریار کے ” آر وائی کے” گروپ کی 6 شوگر ملز ہیں اور یہ 12 اعشاریہ 24 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں۔ المعز گروپ کی 5 شوگر ملز 6 اعشاریہ 80 فیصد اور تاندلیانوالہ گروپ کی 3 شوگر ملز 4 اعشاریہ 90 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں۔

سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی کے اومنی گروپ کی 10 شوگر ملز ہیں اور وہ 1 اعشاریہ 66 فیصد چینی پیدا کرتے ہیں، شریف فیملی کی 9 شوگر ملز 4 اعشاریہ 54 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں،مذکورہ بالا 6 گروپوں کی 38 شوگر ملز چینی کی مجموعی پیداوار کا 51 اعشاریہ 10 فیصد پیدا کرتی ہیں جبکہ باقی 51 شوگر ملز 49 اعشاریہ 90 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.