ورلڈ ہیڈر ایڈ

بے بس مزدوربچوں کی بے بسیاں … از…. ملک جہانگیراقبال

کل سارا دن شہر کی خاک چھانتا رہا ، رات میں دوستوں سے ملاقات تھی لہٰذا گھر واپس آنے سے قبل ساتھ والے محلے میں موجود نائی کی دکان پہ داڑھی سیٹ کروانے چلا گیا ، ویسے تو سر کے بال اور داڑھی کیلئے ایک ہی دکان مخصوص کر رکھی پر ہنگامی حالت میں کہیں سے بھی داڑھی سیٹ کروا لیتا ہوں بس ہدایات کُچھ زیادہ دینا پڑ جاتی ہیں .

اس وقت دکان میں تینوں سیٹوں پہ کام جاری تھا لہٰذا وقت گزاری کیلئے میگزین کا مطالعہ شروع کردیا . کچھ دیر بعد جب میگزین میں پڑھنے لائق کچھ خاص نا بچا تو نائیوں (کاریگروں) کے کام پہ نظریں جما لیں .

میرے سامنے والی کرسی پہ بارہ تیرہ سالہ لڑکا بال کٹوا رہا تھا نجانے کیوں میری نظر وہیں اس بچے پہ اٹک کر رہ گئی ، مجھے شیشے میں اُس کا چہرہ صاف دکھائی دے رہا تھا جس پہ ہر کچھ دیر بعد پریشانی ، جھنجھلاہٹ کے آثار نمودار ہوتے ۔ پہلے مجھے لگا کہ شاید پیٹ درد یا پھر دماغی سوچ میں مگن ہوکر ایسا کر رہا ہے پر کُچھ دیر میں ہی اصل وجہ سمجھ آگئی لہٰذا اُٹھ کر اُسکی کرسی کیساتھ جا کھڑا ہوا اور کرخت لہجے میں نائی سے سائڈ سے بال ٹھیک طرح سے کاٹنے کا کہا اور کرسی کے پاس ہی کھڑا نائی کو گھور کر دیکھتا رہا .

اس دوران یہی تاثر دیا کہ بچہ میرا جاننے والا ہے اور نائی کے ساتھ لہجہ ایسا رکھا کہہ بس اُسے گولی نہیں ماری باقی اُسکے ہاتھ کی کپکپاہٹ سے مجھے یہ معلوم ہو چکا تھا کہ نائی اچھے سے میرے لہجے کی سختی کیوجہ سمجھ چکا ہے .

اگر آپ حضرات کو بچے کی نے چینی کیوجہ سمجھ نہیں آئی تو بتاتا چلوں کہ نائی بار بار بچے کے بازو اور ٹانگیں کیساتھ اپنا جسم "جا بوجھ کر یا ” انجانے ” میں چھو رہا تھا پر ڈر یا شرمندگی کیوجہ سے بچہ یہ ذہنی اذیت جھیل تو رہا تھا پر کُچھ بول نہیں پا رہا تھا ۔

گھر واپسی پہ یہی اب دماغ میں چل رہا تھا کہ ہر کوئی اس بات پہ لکھتا بھی ہے اور یہ موضوع زیرِ بحث بھی آتا ہے کہ خواتین کو گھر سے باہر بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے پر یقین جانیں جتنی مشکلات اور ذہنی اذیت ایک لڑکا بچوں سے ابتدائے جوانی تک اسکول ، مدارس ، بازار ، نائی کی دکان ، پبلک ٹرانسپورٹ (بس ، وین) میں سفر کرتے ہوئے جھیلتا ہے اُس کا کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا اور ظلم تو یہ کہ ہے دوسرے مرد نے یہ سب ذہنی اذیت اپنے بچپن میں یا تو خود سہی ہے یا اپنے کسی دوست کو سہتے دیکھا ہے پر اس پہ بات پھر بھی نہیں کرتا کہ وہ خوف یا احساسِ شرمندگی ہمارے اذہان سے اب تک نہیں محو ہوا کہہ "لوگ مذاق اڑائیں گے” .

دور حاضر کے والدین یہ بات کان کھول کر سن لیں کہ جب آپکا بچہ اکیلے نائی کے پاس جاتا ہے تو نائی اُس کے جسم کیساتھ خود کو غیر ضروری طور پر ٹچ کرتا ہے ، اگر وہ بازار یا کسی پرچون والے کے پاس سے سودا سلف لانے سے کتراتا ہے تو اُسے اُس دکان والے سے یا راہ میں موجود کسی محلے دار شخص سے جنسی درندگی کا خوف لاحق ہوتا ہے ۔ اگر وہ اسکول سے بس یا وین میں اکیلے گھر آتا ہے تو بھری بس میں مختلف لوگ اُسے ذہنی اذیت پہنچانے کا سامان خوب خوب فراہم کرتے ہیں . اگر وہ مدرسے میں رہنے سے ڈرتا ہے تو اُسے قاری صاحب یا مدرسے میں موجود کسی بڑے لڑکے سے خطرہ محسوس ہوتا ہے ، اُسے بھری دوپہر تندور پہ روٹیاں لینے بھیجتے ہیں تو یا تو نان بائی یا پھر روٹیوں کے حصول میں کھڑے کسی بڑے لڑکے یا آدمی سے اُسے ڈر لگتا ہے ۔

آپ میں اتنی عقل نہیں کہ اپنے بچے کے خوف کو سمجھ سکیں؟ اُسے ڈانٹ ڈپٹ ، مار پیٹ یا طعنے دیکر کیوں وہیں بھیجتے ہیں جہاں اُسکی معصومیت کا قتل عام ہوتا ہے . کیا آپ کسی اور سیارے میں پیدا ہو کر جوان ہوئے ہو جو آپکو نہیں معلوم کہ ایک بچہ کیا کُچھ جھیل کر جوان ہوتا ہے . یا آپ اپنی اولاد سے اپنے بچپن کا بدلہ لے رہے کہ اگر آپ یہ سب سہتے ہوئے جوان ہوئے ہو تو آپکا بچہ بھی یہ سب سہے؟

اگر آپکی مصروفیات زیادہ ہیں اور ہر بچے پہ توجہ نہیں دے سکتے تو خدارا یکے بعد دیگرے بچوں کی لائن نہ لگایا کریں ، اتنے ہی پیدا کریں جنہیں توجہ سے پال سکیں . اور معاشرے میں پھیلتی جنسی درندگی سے اُنہیں جسمانی کیساتھ ذہنی اذیت سے بچا سکیں کہ جسمانی زیادتی تو ڈاکٹرز رپورٹ میں بتایا دیتے ہیں پر یہ جو ذہنی زیادتی ہر دوسرا بچہ روز ہر دوسری جگہ برداشت کر رہا ہے یہ کسی ڈاکٹری رپورٹ میں نظر نہیں آتی …

بے بس بچوں کی بے بسیاں
ملک جہانگیر اقبال

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.