پنجاب اسمبلی کا اجلاس اُس وقت شدید بدنظمی کا شکار ہو گیا جب اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان تلخ کلامی نے ہاتھا پائی کی شکل اختیار کر لی۔

جھگڑے کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے رکن خالد نثار ڈوگر نے مسلم لیگ (ن) کے رکن احسان ریاض کو تھپڑ رسید کر دیا، جس پر ایوان میں شور شرابا شروع ہو گیا اور اجلاس کو 5 منٹ کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔ ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی اور قائم مقام اسپیکر ظہیر اقبال چنڑ کے درمیان گفتگو جاری تھی کہ اسی دوران پی ٹی آئی رکن خالد نثار اپنی نشست سے اٹھ کر احسان ریاض کے پاس گئے اور اچانک انہیں منہ پر تھپڑ مار دیا، جس کے بعد ایوان کا ماحول مزید کشیدہ ہو گیا۔

واقعے کے دوران صوبائی وزیر ذیشان رفیق بھی ہاتھا پائی میں شامل ہو گئے جبکہ وزیر قانون صہیب بھرتھ، عاشق کرمانی اور دیگر ارکان معاملہ رفع دفع کروانے کی کوشش کرتے رہے لیکن کشیدگی برقرار رہی۔قائم مقام اسپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ نے کئی بار ارکان کو تحمل اور صبر سے کام لینے کی تلقین کی، تاہم صورتحال کنٹرول نہ ہونے پر انہوں نے اجلاس 5 منٹ کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔

یاد رہے کہ جون میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تقریر کے دوران اپوزیشن کے شدید احتجاج پر اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے پی ٹی آئی کے 26 ارکان اسمبلی کو معطل کر دیا تھا، اور ان کے خلاف ڈی سیٹ کرنے کی کارروائی بھی شروع کر دی گئی تھی۔بعدازاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں 22 جولائی کو ان تمام معطل ارکان کی رکنیت بحال کر دی گئی تھی۔ قائم مقام اسپیکر ظہیر اقبال چنڑ کی جانب سے اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا۔

صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایوان میں نازیبا زبان کے استعمال سے گریز پر اتفاق ہوا ہے، اور یہ بھی طے پایا کہ ایتھکس کمیٹی کے فیصلے حتمی تصور ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو احتجاج کا حق ہے، لیکن یہ آئینی حدود میں رہ کر ہونا چاہیے۔

ننکانہ صاحب: میٹرک میں تیسری پوزیشن لینے والے فیضان رضا نے ایک دن کیلئے ڈپٹی کمشنر کا چارج سنبھالا

Shares: