وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایت پر موسمیاتی تبدیلی اور مون سون سے پیدا ہونے والے اثرات سے بروقت نمٹنے کے لیے ایک جامع اور مؤثر پالیسی پر کام جاری ہے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق پالیسی کا ورکنگ پیپر تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا تاکہ مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جا سکے ہنگامی صورتحال کے بعد وزیراعظم ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کریں گے جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور متعلقہ اداروں کے سربراہان شریک ہوں گے-
وزیرِاعظم نے کہا کہ آبی ذخائر کی تعمیر اور پانی کے بہتر انتظام کے لیے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے جو صوبوں کی مشاورت اور ہم آہنگی سے بنائی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے اور اس کی مؤثر تیاری سے ہی قدرتی آفات کے نقصانات کم کیے جا سکتے ہیں،یہ ایک قومی مسئلہ ہے، جس پر چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور وفاق کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ عوام کو موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔
روس کا یوکرین پر بڑا فضائی حملہ،بچوں،سمیت 18 افراد جاں بحق
اوکاڑہ: سول ڈیفنس کا سیلاب متاثرین کے لیے ریسکیو آپریشن جاری
راوی میں 40 سال پانی نہیں آیا، لوگ دریا کی زمین پر کاشت کرتے، ڈی جی پی ڈی ایم اے