کرونا دراصل کیا ہے ؟ تحریر :عشاء نعیم

کرونا دراصل کیا ہے ؟
تحریر :عشاء نعیم

آج ہماری ایک تحقیقی تحریر ہے ذرا پڑھ کر رائے دیجئے گا ۔

اس سال مارچ کے مہینے سے دنیا میں ایک نئی اور انوکھی بیماری آ گئی جسے کرونا کہتے ہیں یہ کرونا بھی سمجھ میں نہ آنے والی بیماری ہے جانے یہ عالمی سطح پر پھیل جانے والی بیماری ہے یا عالمی سطح پر کی جانے والی سازش؟کیونکہ یہ پھیلی تو اچانک لیکن پیش گوئی کچھ سال پہلے ہی کردی گئی تھی ۔

یہ پھیلا تو چین کے صوبے ووہان سے تھا ۔جب وہاں یہ پھیلا تو خوف ناک صورت حال تھی ۔وہاں سے آنے والی مریضوں کی ویڈیوز دیکھ کر دل کانپتا تھا اور کہا جارہا تھا یہ بیماری اگر لاک ڈاون جہنم کا گیا تو جلد پوری دنیا میں پھیل جائے گی اس کی وجوہات کے بارے میں بھی سائنس دان کوئی حتمی بات نہیں کر رہے پہلے کہا گیا یہ چمگادڑ سے انسان میں آئی ہے ۔پھر کہا گیا یہ کتے سے آئی ہے ۔

کتوں کے ذریعے کرونا پھیلنے کا دعویٰ سائنسدانوں نے تحقیق کے بعد کیا، کینڈا میں کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ چین میں آوارہ کتوں نے چمگادڑ کا پھینکا ہوا گوشت کھایا جس سے ان میں کرونا وائرس کا انفیکشن ہوا اور پھر کتوں سے یہ وائرس انسانوں میں پھیل گیا۔ ماہرین دسمبر 2019 سے ہی انسانوں اور چمگادڑ کے درمیان ذریعہ بننے والے جانوروں سے متعلق پتہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن حتمی طور پر کچھ بھی معلوم نہیں ہو سکا ہے-

کینیڈا کی اوٹاوا یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ انسانوں تک کرونا وائرس پھیلانے کے ذمہ دار آوارہ کتے ہی ہو سکتے ہیں۔ لیکن ابھی تک حتمی طور پہ جانا نہیں جا سکا کہ بیماری آئی کیسے ہے بحرحال جب یہ بیماری آ گئی تو دیکھتے ہی دیکھتے ملکوں کے ملک بند ہوتے چلےگئے ۔

ویسے یہ بات الگ ہے کہ چین کی سرحد پاکستان کے ساتھ لگتی ہے لیکن یہاں بیماری بعد میں آئی جبکہ یورپ میں پہلے پہنچ گئی اور لاک ڈاون بھی پہلے ہی لگ گیا تھا یہ بیماری پاکستان میں بھی پہنچی لیکن یہاں لوگ شش و پنج میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔آخر یہ بیماری ہے یا نہیں ہے ؟

پہلے ہر کسی نے صرف خبر سنی تو کہا جانے لگا کہ کسی قریبی کو نہیں سنا بس میڈیا ہی دکھاتا ہے بہت جلد یہ رپورٹ قریبی لوگوں کے بارے میں بھی سننے لگے حتی کہ کچھ دوستوں کے گھر والے اللہ رب العزت سے جا ملےلیکن شش و پنج پھر نہیں گیا کیوں کہ جن کے بارے میں کہا گیا وہ کرونا سے مرے ہیں بعد میں ان کی رپورٹس دیکھی گئیں تو وہ نیگٹو تھیں ۔

اسی طرح بعض جاننے والوں نے بتایا کہ ہمارے مریض کو زبردستی کرونا کا مریض بنایا گیا یا کسی اور وجہ سے مرنے والے کو کرونا سے ہونے والی موت میں شامل کردیا گیا اس قسم کی متضاد خبروں نے ہمیں بھی بےیقینی کی کیفیت میں مبتلا کیا ہوا ہے شروع شروع میں بہت خوف زدہ ہوئے ہر قسم کہ ایس او پیز کا خیال بھی رکھا دعائیں بھی کی گئیں۔

لیکن پھر کرونا کی "آنیاں’جانیاں” نے ہمیں عجیب کشمکش میں مبتلا کردیا ہے پہلے رمضان آیا تو لاک ڈاون لگا دیا گیا بہت سختی کی گئی ‘مسجدوں میں جمعہ تک پہ پابندی لگ گئی ‘موذن اکیلا مسجد جاتا اذان دیتا اور یا تو اکیلا یا چند ایک لوگ فاصلے پہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے ‘اعتکاف بند کر دیا گیا ۔ سکول یونیورسٹیز ہر ادارہ بند کردیا گیا پھر عید گزر گئی اور لاک ڈاون آہستہ آہستہ کھلنے لگا ۔جب لاک ڈاون کھل گیا لوگ تھوڑا بےفکر ہونے لگے عید الاضحی آ گئی اور دس دن پہلے انتہائی سخت لاک ڈاون لگا دیا گیا لوگوں نے وہ عید بہت مشکل میں گزاری ۔

لیکن مزے کی بات کہ عید کے بیس دن بعد محرم کے آتے ہی کرونا بھائی بھاگ گئے اور محرم کے ماتمی جلسے جلوس اور سڑکوں پہ اکٹھے ہونے پہ کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ۔کرونا کے کیسز کنٹرول رہے نہ کہیں خطرہ بڑھا نہ ہی کوئی مسلہ ہوا کوئی بھی شیعہ کرونا سے نہ مرا ۔

کرونا بھائی سوئے رہے اور پھر ربیع الاول جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش اور وفات کا مہینہ بھی ہے اب مسلمانوں کے اندر چونکہ بہت بگاڑ پیدا کیا جا چکا ہے اور ان عظیم ترین ہستیوں کو بھی اپنی ان خرافات سے نہیں بچنے دیتے اور ان کے نام پہ جو کچھ کیا جاتا ہے اللہ کی پناہ لوگوں نے میلاد ہے نام پہ جلسے جلوس کیے اور میلاد منائے بعض لوگوں نے عید تک منا ڈالی لیکن اس عید پہ کوئی کرونا آیا نہ ہی پابندی لگی ۔

اب جبکہ یہ دن نکل گئے تو کرونا بھائی پھر سے نمودار ہو گئے ہیں ہم نے سوچا سارے سائنس دان کھوج لگا رہے ہیں کہ آخر یہ وائرس ہے کیا؟ آیا کہاں سے ہے؟تو جو تحقیق ہم نے کی وہ بھی آپ کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہمیں پتہ چلا کہ دراصل کرونا جو رمضان میں بھرپور آیا ‘اعتکاف پہ ‘حج پہ ‘عید پہ پورے جوش و خروش سے آیا لیکن یہ ماتمی جلوسوں پر نہیں آیا اور نہ ہی ربیع الاول کے میلادی جلوسوں پہ تو یقینا یہ کرونا "وہابی ہے”۔

آپ کا کیا خیال ہے ؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.