کورونا کوئی مزاق نہیں بلکہ جان لیوا وبا ہے اس سے بچنے کیلئے ہمیں احتیاطی تدابیرکوسختی سے اپنانا ہوگا شوبز فنکار

دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی کورونا کی دوسری شدید لہر نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی تعادا میں مبینہ طور پر دن دہ دن اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے حکومت نے لاک ڈاؤں کا فیصلہ کیا ہے اور تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کی ہدایات دی ہیں اورہرطرف ایک ہی پیغام عام ہے کہ کورونا وائرس سے بچنے کا واحد حل احتیاط ہے-

باغی ٹی وی : پاکستانی خبر رساں ادارے ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں کے معروف فنکاروں ماہرہ خان، مہوش حیات، عاطف اسلم اورہمایوں سعید کاکہنا تھاکہ جیسے ہی موسم سرما کے بعد بہار کا موسم آتا ہے تو پھر ثقافتی سرگرمیاں جس طرح پاکستان میں عروج پر ہوتی ہیں اسی طرح دنیا بھر میں موسم کی اس بدلتی رت کو خوش آمدید کہتے ہوئے رنگا رنگ پروگرام سجائے جاتے ہیں۔ میوزیکل پروگرام، فیشن شو، ڈانس ایونٹ ، فلموں کے پریمئر اور اس کے ساتھ ساتھ فلم فیسٹیولز، ایوارڈ شو اور دیگر تقاریب کو سجانے کا سلسلہ جاری عروج پررہتا ہے۔

لیکن اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کورونا پرمکمل قابو پانا تو دور اس کی دوسری لہر نے دنیا کے بیشترممالک کوپھر سے اپنا نشانہ بنا لیا ہے۔ ہماری عوام سے اپیل ہے کہ وہ احتیاط سے کام لیں۔ کورونا کوئی مزاق نہیں بلکہ جان لیوا وبا ہے اس سے بچنے کیلئے ہمیں احتیاطی تدابیرکوسختی سے اپنانا ہوگا۔

اداکارجاوید شیخ،علی ظفر،عمران عباس اورنئیراعجاز نے کہاکہ کورونا وائرس نے جہاں عالمی معیشت پر بہت برے اثرات مرتب کیے ہیں وہیں اس نے دنیا کی سب سے بڑی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری ہا لی وڈ سمیت پاکستان میں بھی شوبز انڈسٹری کو ویران کردیا ہے۔ اربوں ڈالرکے بجٹ سے بننے والی فلموں کی شوٹنگزجہاں بند ہوگئی ہیں وہیں سینما انڈسٹری کا بزنس بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے ہالی وڈ سے وابستہ ہزاروں لوگ بے روزگارہوچکے ہیں اور اسی طرح کی صورتحال ہمارے ملک میں بھی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں جہاں فنکاروں سمیت زندگی کے تمام شعبوں سے وابستہ افراد کواحتیاط کرنے کی ضرورت ہے، وہیں فنون لطیفہ کے فنکاروں کی مالی سپورٹ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اداکار معمر رانا، مہرین سید، سارا خان اور افتخار ٹھاکر نے کہا کہ رواں برس دنیا کے سب سے بڑے فلمی میلے کانز فلم فیسٹیول کو بھی دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والے مہلک اورجان لیوا کورونا وائرس کے خوف کے باعث ملتوی کردیا گیا تھاہمارے ملک میں بھی سال بھرمیں مختلف پروگراموں کے انعقاد کیا جاتاہے مگرکورونا وائرس کے پیش نظر بہت سے ایونٹ منسوخ ہوئے اورفنکاروں سمیت ایونٹ آرگنائزر کوبھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ مل کرآئندہ برس بڑے پروگرام منعقد کرنے کی کوشش میں لگے تھے مگرموجودہ صورتحال میں ایسا ممکن نہیں لگتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سب سے پہلی ترجیح کورونا سے بچاؤ کیلئے دی جانے والی احتیاطی تدابیر ہیں جن کواپنائے بغیرآگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ اس لئے ہماری اپیل اپنے ملک کے لوگوں سے ہے کہ وہ احتیاط سے کام لیں اوراس کوسنجیدگی کے ساتھ اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

ہدایتکار سید نور، پرویزکلیم، ندیم عباس لونے والا اوربہاربیگم نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کورونا سے شدید متاثرہوئے ہیں جبکہ ہمارے پاس توپہلے ہی وسائل کی بے پناہ کمی ہے۔ اس کے باوجود ہمارے ملک کے لوگ اس سے بچے ہیں تویہ اللہ تعالیٰ کی خاص کرم نوازی ہے۔ دوسری جانب ہمارے ملک کی اکثریت نے احتیاطی تدابیر کوبھی اپنایا تھا۔

انہوںے نے کہا کہ ابھی ہمیں پھر سے احتیاط سے کام لینا ہے ماسک کے استعمال کویقینی بنانا ہے اور سینائٹائزر کے ساتھ صابن سے ہاتھ بھی دھونے ہیں۔ یہی تدابیر ہمیں اپنے فیملی ممبران کوبھی بتانی ہے حکومت کی جانب سے پہلے ہی بہت سا کام کیاجارہا ہے لیکن بطورزمہ دارشہری ہمیں بھی اپنے فرائض سمجھنے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی نژاد برطانوی اوپیرا سنگر سائرہ پیٹر، سارہ رضاخان،شیبا بٹ اورنسیم وکی نے کہا کہ اگرہم بات کریں پاکستان کی تو یہاں بھی گزشتہ برسوں کی طرح مارچ میں بہت سی شوبز سرگرمیاں ترتیب دی گئی تھیں بلکہ پاکستانی گلوکار سازندے یوم پاکستان کی مناسبت سے ہونے والے پروگراموں میں پرفارمنس کیلئے دنیا کے بیشترممالک میں جایا کرتے تھے لیکن سب کچھ ملتوی ہوگیا اورفنکاربرادری گھروں تک رہنے پرمجبورہوگئی۔ حکومت پاکستان کی جانب سے لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے اوراس کے ساتھ ساتھ سختی سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ کورونا سے بچاؤ کیلئے گھرپررہنے میں ہی فائدہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ خبر واقعی ہی پاکستانی فلم، سینما، میوزک، فیشن اور ایونٹ آرگنائزنگ انڈسٹری کیلئے بہت بری ثابت ہوئی تھی ملکی حالات کے پیش نظر پاکستانی گلوکاروں ، سازندوں اور اورگنائزرز کے لیے یہاں کام کرنا مشکل ہوچکا تھا اور ایسے میں اکثریت امریکا ، کینیڈا ، برطانیہ، یورپ اور مڈل ایسٹ سمیت دنیا کے دیگر ممالک کی مارکیٹ میں منافع بخش کاروبار کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ اس سلسلہ میں ان کے ساتھ جہاں میوزیشنز، ساؤنڈ انجینئرز کی بڑی ٹیم کو بہتر روزگار ملتا تھا ، وہیں ارگنائزرز کی بڑی تعداد بھی اس مد میں منافع بخش کاروبار کرنے میں کامیاب رہتی تھی۔

اسی طرح اگرہم پاکستانی فلم اورسینما انڈسٹری کی بات کریں تو کورونا وائرس سے جہاں فلموںکی شوٹنگز متاثر ہوگئیں، وہیں سینما گھروں سے وابستہ سینکڑوں ملازمین بے روزگار ہو کر رہ گئے، کیونکہ سینماگھروں سے وابستہ اکثریت دیہاڑی دار افراد پر مشتمل تھی، لیکن موجودہ صورتحال کے پیش نظر سینما منتظمین کی جانب سے انہیں فارغ کردیا گیا اوروہ شدید مالی مشکلات سے دوچار ہوچکے ہیں۔

اس صورتحال میں فنکاروں کو اپنی برادری کی سپورٹ کیلئے عملی طور پر اقدامات کرنا ہون گے کیونکہ یہی وہ موقع ہے جب ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ اظہاریکجہتی کرنا ہوگا ہم اسی طرح سے اس قدرتی آفت کے اثرات سے بچ سکتے ہیں۔ حکومت تواس سلسلہ میں کچھ اقدام ضرور کرے گی لیکن ہمیں بھی ایک دوسرے کی مدد کیلئے آگے آنا ہوگا۔

کرونا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر پشاور انتظامیہ کے سخت اقدام

معروف قوال سکندرمیانداد خاں، ہدایتکار شہزاد رفیق، مایا خان اورمیگھا نے کہا کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران کورونا وائرس نے دنیا کے دو سے زائد ممالک کواپنی لپیٹ میں لیا تھا اور اسی لیے ان ممالک میں ہونے والے یوم پاکستان کے خصوصی پروگراموں کے ساتھ ساتھ دیگر میوزک کنسرٹس بھی منسوخ ہوئے ، منسوخ ہونے والے کنسرٹس میں جہاں پاکستانی گلوکاروں کے پروگرام شامل ہیں ، وہیں بھارت سمیت مغربی ممالک کے معروف گلوکاروں کے پروگرام بھی منسوخ کیے گئے ۔ اس کے علاوہ امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، یورپ میں ہونے والے فلم ایوارڈز اور دیگر تقریبات کو بھی ملتوی کرنے کے احکامات جاری کئے گئے۔ اس سلسلہ میں پاکستانی فنکاروں کو کروڑوں روپوں کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا اور دوسری جانب مغربی ممالک کے فنکاروں کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ لیکن عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق احتیاط ہی کورونا وائرس کا واحد حل ہے کیونکہ یہ وائرس پھیلتا ہے اور اس سے متاثر ہونے والوں کی تعداددوبارہ سے بڑھ رہی ہے۔

موجودہ صورتحال کے پیش جہاں دنیا کے بیشترممالک میں لوگوں کی سپورٹ کیلئے سپیشل پیکجز کا اعلان کیا گیا ہے اسی طرح پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ایک امدادی پیکج متعارف کروانا وقت کی اہم ضرورت ہے اس پرتاحال کوئی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

قیادت ہوتو ایسی ہو:ڈاکٹرز،حکومت،دنیاکرونا سے بچانےکی کوشش میں: پی ڈی ایم کرونا سے مارنے…

خاص طور پرفنون لطیفہ کا شعبہ جوکورونا کی وجہ سے بے حد متاثر ہوا ہے اوراس سے وابستہ افراد کی اکثریت دیہاڑی دار ہے، تو اس بارے میں وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ہماری دردمندانہ اپیل ہے کہ جس طرح عوام نے انہیں ووٹ دے کر کامیاب کروایا ہے اسی طرح فنون لطیفہ کی اکثریت نے بھی اپنے ووٹ دینے کے ساتھ ان کی جیت کیلئے بہت کام کیا ہے ویسے بھی وہ تبدیلی کا نعرہ لے کراقتدار میں آئے تھے –

یہی وہ شعبہ ہے جس سے وابستہ افراد لوگوں کو انٹرٹین کرتے ہیں جس طرح پاکستانی عوام کوفلموں، ڈراموں، میوزک ، فیشن اورڈانس کے ذریعے تفریح کے بہترین مواقع فراہم کئے جاتے ہیں،ا سی طرح پاکستانی فنکاردنیا بھرمیں پرفارم کرتے ہوئے ملک کانام روشن کرتے ہیں۔ اس لئے مشکل کی اس گھڑی میں پاکستانی شوبز انڈسٹری کیلئے خاص ریلیف کااعلان کیا جائے۔ جہاں شوبز انڈسٹری کے دیہاڑی دارطبقے کی مالی امداد کی جائے، وہیں انہیں راشن بھی فراہم کیا جائے، کیونکہ اس وقت ماہانہ تو دورروزانہ کے راشن کی خریداری بھی پہنچ سے باہرہوچکی ہے-

دوسری جانب سٹورز پر کھانے پینے کی اشیا ء کی قیمتیں معمول سے زیادہ ہوچکی ہیں۔ ایسے میں حکومت ہی ایک واحد سہارا ہے جوشوبز انڈسٹری سے وابستہ غریب اوردیہاڑی دار طبقے کوجانی اورمالی تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔ اس لئے ہماری وزیراعظم عمران خان سے درخواست ہے کہ پاکستان شوبز انڈسٹری کا خاص خیال رکھیں تاکہ حالات صحیح ہوتے ہی اس شعبے سے وابستہ افراد اپنی صلاحیتوں سے لوگوں کوبہترین تفریح فراہم کرسکیں۔

عوام نے ایس او پیز پر عمل نہ کیا تو حکومت یہ کام بھی کرسکتی ہے ،ڈاکٹر یاسمین راشد نے وارننگ دے دی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.