وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حالیہ سیلاب میں تباہ ہونے والی سڑکوں اور پلوں کی بنیادی وجہ کرپشن ہے، جو معاشرتی کلچر کا حصہ بن چکی ہے۔
نجی ٹی وی کو انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ترقیاتی منصوبوں پر مختص رقم کا صرف 15 سے 20 فیصد خرچ ہوتا ہے جبکہ باقی رقم کرپشن کی نذر ہو جاتی ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ یہ سوال بار بار اٹھایا جاتا ہے کہ پل جلدی کیوں گر جاتے ہیں؟ اس کا سیدھا جواب کرپشن ہے۔ منصوبہ بنانے والے، تجویز دینے والے، تعمیر کرنے والے اور کنٹریکٹر سب پیسہ بنانے میں لگے ہیں، اسی وجہ سے حکومت کا تھوڑا سا پیسہ منصوبوں پر لگتا ہے اور باقی ہضم کر لیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 40 برسوں سے یہی سلسلہ چل رہا ہے کہ بجٹ میں رکھی گئی رقم کا صرف ایک چھوٹا حصہ خرچ ہوتا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سڑکیں اور پل بار بار ٹوٹتے ہیں۔وزیر دفاع نے کہا کہ تقسیم سے پہلے بنائے گئے پل اور تعمیرات آج بھی قائم ہیں، لیکن موجودہ دور میں تعمیر ہونے والے پل اور سڑکیں چند سال بھی نہیں ٹک پاتیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے کلچر میں رزقِ حلال کی وہ اہمیت نہیں رہی جو بزرگوں کے دور میں تھی، آج ہر شخص دولت کمانے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے۔خواجہ آصف نے خبردار کیا کہ یہ کرپشن ہمیں قدرت کے عذاب کی طرف دھکیل رہی ہے اور جب تک عوام کا پیسہ پوری طرح ان کی فلاح پر خرچ نہیں ہوگا، پل اور سڑکیں ٹوٹتے رہیں گے اور قوم کو نقصان ہوتا رہے گا۔
بھارت اور کینیڈا کے تعلقات میں بہتری، نئے ہائی کمشنرز کی تقرری کا اعلان
الیکشن کمیشن کی نئی فہرست، پی ٹی آئی سمیت 4 جماعتیں بغیر سربراہ کے شامل
عثمان خواجہ کی غزہ پر اسرائیلی مظالم رکوانے کی مہم، آسٹریلوی وزیراعظم سے ملاقات
پی ٹی آئی چیئرمین سمیت 18 اراکین کے قائمہ کمیٹیوں سے استعفے