دنیا بھر میں لوگ 2024 کا خیرمقدم کرنے کے لیے تیار ہیں جبکہ نیوزی لینڈ سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں 2024 کا آغاز ہوچکا ہے۔
باغی ٹی وی : پاکستانی وقت کے مطابق سہ پہر 4 بجے نیوزی لینڈ میں سال نو کا آغاز آتشبازی سے ہوا،نیوزی لینڈ سے قبل ٹونگا، سمووا اور کیریباتی میں 2024 کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بجے ہوا تھا آسٹریلیا میں سال نو کا آغاز سڈنی میں آتشبازی سے پاکستانی وقت کےمطابق شام 6 بجے ہوگا مگر اس سےپہلے ہی سڈنی ہاربر پر ایک فیملی شو کا انعقاد ہواآسٹریلیا کےبعد جاپان، کوریا، انڈو نیشیا میں سال نو کا آغاز ہوگا پھر جنوبی ایشیائی ممالک، روس، یورپی ممالک اور آخر میں امریکا میں نئے سال کا جشن منایا جاتا ہے۔
نئے سال کو خوش آمدید کہنے کیلئے ہانگ کانگ کے وکٹوریا ہاربر پر آتش بازی سے نئے سال کا استقبال کیا جائے گا سال نو کے موقع پر تھائی لینڈ کے شاپنگ سینٹر آئیکون سیام اور دبئی کے برج خلیفہ سے بھی آتش بازی کی جائے گی اس کے علاوہ برطانیہ کے شہری لندن، نیویارک کے ٹائمز اسکوائر پر لوگ جشن منانے جمع ہوں گے تاہم پاکستان نے اس بار فلسطینیوں کے اظہار یکجہتی کے لیے سال نو کی تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ کیا ہے۔
7 اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے حماس کے حملے پر تحقیقاتی رپورٹ جاری
جہاں کچھ ممالک میں نئے سال کا آغاز ہو چکا ہے وہاں ایسا ملک ہے جہاں سب سے آخر میں نیا سال ہوگا،زمین کا ہر دن 24 گھنٹے کا ہوتا ہے مگر سال نو کا آغاز ہر جگہ مختلف وقت میں ہوتا ہے،اس کی وجہ انٹرنیشنل ڈیٹ لائن (بین الاقوامی خط تاریخ) ہے جو ہر دن کے آغاز اور اختتام کا تعین کرنے کا آفیشل ذریعہ ہے انٹرنیشنل ڈیٹ لائن کا خیال 1884 میں ایک کانفرنس کے دوران سامنے آیا تھا۔
اس کانفرنس کے مقصد ریلوے لائنز اور بین الاقوامی سفر کے حوالے سے ضوابط طے کرنا تھا انٹرنیشنل ڈیٹ لائن ایسے فرضی خط کا نام ہے جو سطح زمین پر شمال سے جنوب تک نصف النہار اولیٰ کے مخالف جانب واقع ہے ایک ہی وقت میں اس کے دونوں طرف دو مختلف تاریخیں ہوتی ہیں، یعنی مغربی حصے کی تاریخ مشرقی حصے کی تاریخ سے ایک دن آگے ہوتی ہے ممالک یہ فیصلہ کرنے کے لیے آزاد ہیں کہ وہ شمالی اور جنوبی کس قطب کی سمت کی جانب کے ٹائم زون کا حصہ بننا چاہتے ہیں مگر معاملات اس وقت زیادہ پیچیدہ ہوجاتے ہیں جب ممالک اپنا وقت خود طے کرتے ہیں۔
سعودی مالی معاونت کے ذریعے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی
ایک تخمینے کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت 38 مقامی ٹائم زونز کا استعمال کیا جارہا ہے کچھ ممالک نے کوآرڈینیٹڈ یونیورسل ٹائم (یو ٹی سی) میں ایک گھنٹے کی بجائے 30 یا 45 منٹ کا اضافہ کیا ہوا ہےاگر آپ یو ٹی سی کو مدنظر رکھیں تو ماہرین کے مطابق زمین کے تمام حصوں میں ایک دن کو مکمل ہونے میں 25 گھنٹے لگ جاتے ہیں۔
سب سے پہلے سال نو کا استقبال کرنے والا ملک
زمین پر نئے سال کا آغاز بحرالکاہل میں واقع جزائر پر مشتمل ملک کیریباتی کے علاقے کیریتیماتی اور اس کے اردگرد کے 10 غیرآباد جزائر میں ہوتا ہے کیریباتی مجموعی طور پر 33 جزائر پر مشتمل ملک ہے اور کیریتیماتی میں سال نو کا آغاز امریکی ریاست ہوائی سے 24 گھنٹے پہلے جبکہ پاکستان سے 9 گھنٹے پہلے ہوتا ہے ایسا حال ہی میں ہوا ہے۔
کسی زمانے میں انٹرنیشنل ڈیٹ لائن کیریباتی کے درمیان سے گزرتی تھی یعنی اس ملک کے مغربی یا مشرقی جزائر میں تاریخ مختلف ہوتی تھی مگر 1995 میں اس ملک میں ہر جگہ کے لیے ایک ہی ٹائم زون کردیا گیااس کا مقصد نئی صدی کا سب سے پہلے استقبال کرنے کے خواہشمند سیاحوں کو اپنی جانب کھینچنا تھا مگر اب وہاں 3 ٹائم زون موجود ہیں۔
ہماری بربادی کے اسباب
سب سے آخر میں نئے سال کا استقبال کرنے والے علاقے
دنیا میں نیووے (برطانیہ کے زیرتحت) اور امریکی سمووا (امریکا کے زیرتحت) وہ آخری آباد مقامات ہیں جو سال نو کا استقبال کرتے ہیں،یہ کیریباتی کے جنوب مغرب میں جنوبی بحرالکاہل میں واقع ہیں، یہاں سال نو کا آغاز پاکستان کے 16 گھنٹے بعد ہوتا ہے قریب موجود سمووا کبھی ان ممالک میں شامل تھا جہاں نئے سال کا آغاز سب سے آخر میں ہوتا تھا مگر 2011 میں اس ملک نے اپنا ٹائم زون آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے وقت کے مطابق کرلیا اس تبدیلی کے نتیجے میں سمووا انٹرنیشنل ڈیٹ لائن میں سال نو کا استقبال کرنے والے اولین ممالک میں شامل ہوگیاویسے دنیا میں بیکر آئی لینڈ اور ہاؤلینڈ (یہاں پاکستان کے 17 گھنٹے بعد دن کا اختتام ہوتا ہے) میں دن سب سے آخر میں ختم ہوتا ہے مگر وہاں کوئی رہتا نہیں۔