حکومت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے اختیارات میں اضافہ کردیا، چائلڈ پورنوگرافی اور آن لائن گرومنگ کے خلاف بھی کارروائی کا اختیار مل گیا-
وزارت داخلہ کے مطابق سائبر کرائمز بھی اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے دائرہ کار میں شامل ہوں گے، غلط و جعلی معلومات پھیلانے کی سزا اب اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت دی جائے گی،غلط معلومات کے ذریعے سوشل میڈیا سے پیسے کمانے والے بھی زد میں آئیں گے، ایجنسی سوشل میڈیا سے حاصل پیسوں کی تحقیقات اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کرے گی۔
وزارت داخلہ کے مطابق ایجنسی اب سائبر دہشت گردی، الیکٹرانک فراڈ کی تحقیقات بھی کرے گی جبکہ چائلڈ پورنوگرافی اور آن لائن گرومنگ کے خلاف بھی کارروائی کا اختیار ہوگانیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی شناختی معلومات کے غیر مجاز استعمال، سم کارڈز کے غیر قانونی اجراء پر بھی کارروائی کرے گی، بچوں کا جنسی استحصال، سائبر لالچ کی تحقیقات بھی اب این سی سی اے کرے گی۔
قومی مفاد میں ہر خاندان کے تین بچے ہونے چاہئیں، آر ایس ایس سربراہ
وزارت داخلہ کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اغوا، اسمگلنگ یا بچوں کی ٹریفکنگ میں انفارمیشن سسٹم کے استعمال پر بھی سزا دے گی، ترمیم کا مقصد سائبر کرائمز کی روک تھام اور مؤثر کارروائی ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے رواں سال اپریل میں پیکا ایکٹ کے تحت اہم فیصلہ کرتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) تشکیل دی تھی،اس حوالے سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ پریوینشن آف دی الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 (پیکا) کی دفعہ 29 کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو قائم کیا گیا ہے، جس کا اطلاق 4 اپریل 2025 سے ہوگا۔
وزیرِاعظم کی ہدایت پر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے جامع پالیسی کی تیاری