ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی فاروق ستار نے کہا ہے کہ اگر مسائل کا مستقل حل چاہیے تو کراچی کو فیڈرل ٹیریٹری ڈکلیئر کیا جائے، اور اگر یہ حل قبول نہیں تو پھر نئے صوبوں کی بات ہو گی۔

ملیر میں ایم کیو ایم پاکستان کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم آج بھی وفاق میں بیٹھ کر شہرِ کراچی کا مقدمہ لڑ رہی ہے۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ آج شہر میں دیگر جماعتوں کے جلسے بھی ہو رہے ہیں، مگر یہ اجتماع ملیر کا ہے اور اس کی اہمیت اپنی جگہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس آپ وصول کرتے ہیں مگر خرچ کرنے کا اختیار بلدیاتی حکومتوں کو دیا جائے تاکہ شہری مسائل بہتر انداز میں حل ہو سکیں۔فاروق ستار کا کہنا تھا کہ جب کراچی کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کیا جا سکتا ہے تو پھر سندھ بھی تقسیم ہو سکتا ہے۔ اگر ان کی تجاویز منظور نہیں ہوتیں تو سندھ کے 6 ڈویژنوں کو انتظامی یونٹ قرار دیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ عارضی طور پر ایم کیو ایم نے ڈھائی ارب روپے شہر کے لیے مختص کرائے ہیں، جن سے سڑکوں کی تعمیر، سیوریج لائنوں کی تنصیب اور دیگر ترقیاتی کام ہوں گے۔فاروق ستار نے مزید کہا کہ کراچی وفاق کو 8 ہزار ارب روپے دیتا ہے جبکہ بدلے میں شہر کو صرف 50 ارب روپے ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’کے تھری‘‘ منصوبہ ہم نے کراچی کو دیا اور اب کے فور منصوبہ بھی تکمیل کے قریب ہے

گوگل اپڈیٹ، اب بول کر راستے کی معلومات حاصل کریں

کرم میں چیک پوسٹ پر حملہ، 2 اہلکار شہید، 4 دہشت گرد ہلاک

سری لنکا سیلاب متاثرین کی مدد، پاک بحریہ کی امدادی سرگرمیاں جاری

پیٹرولیم مصنوعات سستی، نوٹیفکیشن جاری ہو گیا

Shares: