ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشتگردی کےخلاف ایک طویل جنگ لڑی اور لڑ رہا ہے، افواج نے بے بیش بہا قربانیاں دی ہیں،
پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ بروقت اقدامات سے دہشتگردی کے کئی منصوبے ناکام بنائے، دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں اہم کامیابیاں ملیں، بلوچ دہشت گردوں کے انتہائی مطلوب سرغناؤں کو جہنم واصل کیا گیا، دہشت گردی میں ملوث 27 افغان دہشت گردوں کو بھی جہنم واصل کیا گیا، سیکورٹی فورسز کو رواں برس بڑی کامیابی ملی جب دو خود کش بمباروں کو حراست میں لیا گیا جن کے قبضے سے دس خود کش جیکٹ ،دھماکا خیز مواد، اسلحہ برآمد ہوا تھا، بلوچستان سے گرفتار ہونے والی خود کش خواتین بمباروں نے انکشاف کئے کہ کیسے دہشت گرد نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے ریاست کے خلاف بغاوت پر اکساتے ہیں،فتنہ الخوارج کے متعدد سر غنہ جہنم واصل کئے گئے، 2 خود کش بمباروں کو حراست میں لیا گیا جبکہ 14 مطلوب دہشتگردوں نے ہتھیار ڈالے،دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر 169 سے زائد آپریشنز کیے جا رہے ہیں
پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھے گا،ترجمان پاک فوج
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے خلاف 59775 کامیاب آپریشن کئے اور دہشت گردی کے خلاف کئی منصوبوں کو ناکام بنایا ،رواں سال 925خارجی دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ،رواں سال کامیاب آپریشنز میں متعدد دہشت گردوں کو گرفتار بھی کیا گیا ،گزشتہ 5سال میں ہلاک دہشت گردوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے،ان آپریشنز کے دوران 73 انتہائی مطلوب دہشت گرد گرد ہلاک ہوئے،انتہائی مطلوب دہشت گردوں میں میاں سید عارف قریشی عرف استاد، محسن قادر، عطا اللہ عرف مہران، فدا الرحمان عرف لال، علی رحمان عرف طحہ سواتی اور ابو یحییٰ شامل ہیں،ریاستی اداروں کی بہترین حکمت عملی کے نتیجے میں 14 مطلوب دہشت گردوں قومی دھارے میں شامل کیا گیا، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے اور لڑرہا ہے ، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں،دہشتگردوں کے کئی منصوبوں کو ناکام بنایا گیا،افواج پاکستان کے 384 جوان 2024 میں شہید ہوئے ، پوری قوم اِن بہادر سپوتوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے، پاکستان دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے اور اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گا،پاکستان طویل عرصے سے افغان مہاجرین کی میزبانی کرتا آ رہا ہے لیکن ہماری کوششوں کے باوجود افغانستان کی سرزمین سے فتنۃ الخوارج پاکستان میں دہشتگردی کرتے آ رہے ہیں،پاکستان سے غیر قانونی افغان باشندوں کے انخلا کا سلسلہ جاری ہے، آٹھ لاکھ 15 ہزار غیر قانونی افغان باشندے واپس جا چکے ہیں،آرمی چیف واضح اور دو ٹوک موقف رکھتے ہیں کہ پاکستان کو افغانستان سے کارروائیوں پر تحفظات ہیں۔پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھے گا،قبائلی اضلاع میں 72 فیصد علاقے کو بارودی سرنگوں سے پاک کر دیا گیا، حکومت کی خصوصی ہدایات پر سمگلنگ، بجلی چوری، منشیات و ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ بھی جاری ہے،
پاک فوج کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں، رواں سال میں بھارت نے متعدد مرتبہ سیز فائز کی خلاف ورزیاں کیں،بھارت کی جانب سے 25 سیز فائر وائلیشن، 564 سپیکولیٹو فائر کے واقعات، 61 ایئر سپیس وائلیشن، 181 ٹیکٹیکل ایئر وائلیشنز کے واقعات شامل ہیں ،رواں سال بھارت کی طرف سے فالس فلیگ آپریشن کئے گئے جن کا مقصد اندرونی سیاست اور خلفشار سے توجہ ہٹانا تھا فالس فلیگ آپریشن کی اطلاع را سے جڑے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے دی جاتی رہی.پاکستان کی فوج ایل او سی پر کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، ہم ملک کے دفاع کے لئے ہمہ وقت کسی بھی قربانی دینے کو تیار ہیں، بے گناہ کشمیری نوجوانوںکو بھارت شہید کررہا ہے، کشمیری اپنے حق خودارادیت کے لئے عالمی دنیا کے توجہ کے منتظر ہیں، بھارت اقوام متحدہ کی قرارداروں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ غیر قانونی، بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، ہم مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، انکی حمایت جاری رکھیں گے،بھارت میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو انسانی حقوق کے علمبرداروں کے لئے کڑا سوال ہے،بھارتی حکومت ریاستی دہشت گردی کا کھلم کھلا ارتکاب کر رہی ہے ،بھارتی ریاستی دہشت گردی میں بیرون ممالک ماورائے عدالت ٹارگٹ کلنگ باشمول بھارتی نزاد سکھوں کی ٹارگٹ کلنگ بھی شامل ہے ،بھارت میں مسلمانوں ،اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے،بھارت مختلف ریاستوں میں حقوق کےلئے تحریکوں کو پوری قوت کے ساتھ کُچل رہا ہے، بھارت دیگر ممالک میں سکھوں کے قتل میں بھی ملوث ہے، بھارت میں سازش کے تحت اقلیتوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، ہمارا اصولی مؤقف ہے کہ مقبوضہ کشمیرکے مظلوم عوام کی قانونی، سفارتی، اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔خطے میں اجارہ داری کے لیے بھارتی اقدامات سے بخوبی واقف ہیں،پاکستان کی سالمیت اورخودمختاری کیلئے ہمہ وقت ہر قربانی کیلئے تیار ہیں، ڈ
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج روایت کے مطابق عوام کی فلاح پر توجہ دے رہی ہے۔ قدرتی آفات سے نبردآزما ہونا ہو یا دوسرے چیلنجز، افواج پاکستان نے حکومتی ہدایات کے مطابق کام کیا،تعلیم، صحت کے منصوبے بھی ہیں.بجلی چوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھی پاک فوج سرگرم عمل ہے، سیلاب کے دوران امدادی کیمپس لگائے گئے، وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنا کردار ادا کر کے پاکستان کو مضبوط کریں،فلاحی کاموں کے پروجیکٹس فوج وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے مکمل کیے جاتے ہیں ، 2024 ء میں صوبہ خیبرپختونخوا میں پاک فوج کی جانب سے 6500 Outreach programs شروع کیے گئے ، ”علم ٹولو دا پارہ” کے تحت 7 لاکھ سے زائد طالب علموں کو تعلیمی سہولیات میسر کیں ، صحت کے شعبے میں 113 سے زائد میڈیکل کیمپس کا قیام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ، سبی اور ہرنائی کے درمیان 140 کلومیٹر لمبے ریلوے ٹریک میں سے 93 کلومیٹر ریلوے ٹریک کو مرمت کے بعد 17 سال بعد کھول دیا گیا ، کچھی کینال، کام مکمل ہونے کے بعد نومبر 2024 سے پہلے مرحلے میں 65 ایکڑ اراضی کو سیراب کر رہی ہے ، اب تک 15825 ایکڑ رقبہ گرین پاکستان انیشیٹو پروگرام کے تحت زیر کاشت لایا گیا ہے،
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج اپنے سخت ٹریننگ کے معیار کو قائم رکھنے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے، یہ ہمارا طرہ امتیاز اور شناخت کا اہم حصہ ہے،ہماری ٹریننگ کا اہم پہلو جذبہ شوق شہادت کے ساتھ فرنٹ سے لیڈ کرنا ہے، پاک فوج کا شمار دنیا کی اُن چند افواج میں ہوتا ہے جہاں افسر سب سے آگے بڑھ کر آپریشنز لیڈ کرتے ہیں اور دفاع وطن میں جان قربان کرتے ہیں،پاکستانی فوجی افسران کی شہادت کا تناسب شہداء کی تعداد سب سے زیادہ ہے.2024 میں 183 یونٹس نے جنگی مشقیں کیں.رواں سال 11 ہزار جوانوں کو Pre Induction Training دی گئی. رواں سال آٹھ مختلف بین الاقوامی مشترکہ مشقوں کا انعقاد کیا گیا ،رواں سال فروری میں PATs کے مقابلوں کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں 12 ممالک کی ٹیموں نے حصہ لیا ، پاکستان بحریہ نے بھی رواں سال 25 کثیر الجہتی مشقوں میں شرکت کی ،اکتوبر میں ہونے والی Exercise Industrial 2024 میں 24 ممالک کی فضائی افواج نے شرکت کی ، رواں سال طویل المدتی War Games حکمت نو مکمل کی گئی، یاد رکھیں محفوظ پاکستان ہی مضبوط پاکستان ہے،
پاکستان میں اربوں روپے کا ایک غیر قانونی سپیکٹرم،جسے اشرافیہ کی پشت پناہی حاصل ہے، ترجمان پاک فوج
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں اربوں روپے کا ایک غیر قانونی سپیکٹرم موجود ہے، اُس میں بھتہ خوری ہے، نان کسٹم پیڈ گاڑیاں ہیں، اغوا کاری ہے، سمگلنگ ہے اور فیک نیوز پروپیگنڈہ بھی ہے، اور ان سب کو سیاسی پشت پناہی بھی حاصل ہو،یہ غیرقانونی سپیکٹرم ختم ہو گا، اشرافیہ کی پشت پناہی ختم ہو گی تو پاکستان میں خوشحالی آئے گی،آرمی چیف نے چند دن قبل کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر پاکستانی سپاہی ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صرف سکیورٹی فورسز نہیں پوری قوم لڑتی ہے، ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ گورننس میں جو گیپس ہیں وہ ہم ہر روز شہدا کی قربانیوں سے پر کر رہے ہیں، رواں برس 900 سے زائد دہشت گردوں کو مارا گیا، اس وقت پورے پاکستان میں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں خارجیوں کی عملداری ہو ،اگر دہشت گرد جن کے ہاتھ پاکستانی شہریوں کے خون سے آلودہ ہیں اور ان دہشت گردوں کو سرحد پار سے مدد ملتی ہے تو پھر،…آٹھ لاکھ غیر قانونی افغانیوں کو واپس بھیجا، سمگلنگ میں کمی آ چکی ہے، آرمی چیف واضح اور دوٹوک موقف رکھتے ہیں کہ پاکستان کو کالعدم تنظیموں کیلئے دستیاب پناہ گاہوں ، سہولت کاری اور افغان سرزمین سے آزادانہ کارروائیوں پر تحفظات ہیں،پاکستان دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے اور شہریوں کو ہر قیمت پر تحفظ فراہم کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑے گا۔
اس(دہشتگردی)ایشو پر سیاست اور بیانیہ نہ بنائیں خیبرپختونخوا میں گڈ گورننس پر زور دیں۔ڈی جی آئی ایس پی ار
فتنہ الخوارج کی کمر ٹوٹ گئی تھی کس کے فیصلے پر دوبارہ ان کو آباد کیا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان پاکستان کا برادر ملک ہے، افغانستان کو کہا گیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی سہولت کاری کو روکے،برادر ملک کے ذریعے بھی بات چیت جاری ہے،افغان خود کش بمباروں کو پکڑا ہے،وہ روزانہ معصوم شہریوں کا نا حق خون بہائیں تو کیا ہم بیٹھ کر تماشا دیکھتے رہیں،دوغلی سیاست کا پرچار کرنے والوں سے سادہ سوال ہے کہ چھ دن قبل 21 دسمبر کو جنوبی وزیرستان میں 16 ایف سی کے جوان شہید ہوئے، کیا ان کے خون کی کوئی قیمت نہیں کیا وہ پاکستان کے شیر دل جوان نہیں تھے، 2021 میں جب فتنہ الخوارج کی کمر ٹوٹ گئی تھی تو اس وقت کس کے فیصلے پر ان کو دوبارہ آباد کیا گیا، کس نے ان کو طاقت اور دوام بخشا، یہ جو فیصلے جس کا ہم سب خمیازہ بھگت کر رہے ہیں، قانون نافذ کرنے والے ان فیصلوں کی لکھائی اپنے خون سے دھو رہے ہیں، اگر کوئی فریق اپنی گمراہ سوچ، مرضی مسلط کرنے پر تلا ہو تو اس سے کیا بات کریں، ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہوتا تو دنیا میں کوئی جنگ، غزوہ،مہمات نہ ہوتی، جان قربان کرنا مسلمان کے لئے فخر ہوتا ہے، ہم اپنے ایمان، وطن ،آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، جس تلخ تجربے سے ہم گزرے اسکے باوجود کوئی لیڈر یا سیاسی شخصیت یہ کہے ، اور جو یہ سمجھتا ہو کہ اسے ہر چیز کا علم ہے تو ایسے رویوں کی قیمت پوری قوم اپنے خون سے چکاتی ہے، دوبارہ آبادگاری کی قیمت ہم بھگت رہے ہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مسئلے پر کنفیوژن اور بیانیے نہ بنائیں خیبر پختونخوا میں گڈ گورننس پر توجہ دیں، بجائے بیانیے بنانے، سیاست کرنے کے گڈ گورننس پر توجہ ہونی چاہئے، وہ ہم نے نہیں کرنا اسلئے یہ سیاست کرتے ہیں،نو مئی واقعات میں ملوث لوگوں کو اپنے انجام تک پہنچنا چاہیے۔ برطانیہ میں ہونیوالے نسلی فسادات میں بالغ اور نابالغ سب کو تیزی سے سزائیں دی گئیں، امریکہ میں کیپیٹل ہل میں ملوث لوگوں کو تیزی سے سزائیں دی گئیں، فرانس میں فسادات میں ملوث لوگوں کو تیزی سے سزائیں دی گئیں تو پھر پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا۔
فوجی عدالتوں کے فیصلے سے واضح پیغام جاتا ہے کہ مستقبل میں بھی کوئی ایسے معاملات میں ملوث ہو گا تو اُسے ہر صورت سزا ملے گی، ڈی جی آئی ایس پی آر
جو لوگ فوجی عدالتوں کی مخالفت کررہے ہیں کچھ عرصہ قبل تک وہ خود اس کے سب سے بڑے حامی تھے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
کہا جاتا نومئی فالس فلیگ آپریشن ہے فوج نے خود کروایا تو آپ کو تو خوش ہونا چاہیے فوج اپنے بندوں کو سزائیں دے رہی ہے انتشار یوں کو تکلیف کیوں ہو رہی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
نو مئی کے گھناونے کردار اور منصوبہ ساز کو انجام تک پہنچانے تک انصاف کا سلسلہ جاری رہے گا،ڈی جی آئی ایس پی آر
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ نومئی پر افواج پاکستان کا مؤقف واضح ہے، نومئی افواج کا نہیں عوام پاکستان کا مقدمہ ہے، یہ بات واضح ہونی چاہئے، اگر کوئی جتھہ،مسلح ،پرتشدد گروہ اپنی مرضی، سوچ معاشرے پر مسلط کرنا چاہے اور اسکو قانون کے مطابق نہ روکا جائے تو ہم معاشرے کو کس طرف لے کر جائیں گے، 2023 میں اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کی رو میں ملٹری کورٹس میں جن کو ریفر کیا گیا تھا وہ منجمد کر دیا گیا تھا، اب سپریم کورٹ نے جب فیصلے دینے کو کہا تو تمام قانونی تقاضوں کو دیکھتے ہوئے،قانونی عمل پورا کر کے ان افراد کو سزائیں دی گئیں، واضح پیغام ہے کہ اس طرح کے معاملات میں کوئی گنجائش نہیں، مستقبل میں بھی اس طرح ہو گا تو سزا ہو گی، پاکستان میں ملٹری کورٹس آئین ،قانون کے مطابق دہائیوں سے قائم ہیں، یہ انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرتی ہیں،ملٹری کورٹس میں ملزمان کو اپنا وکیل کرنے سمیت تمام حقوق حاصل ہوتے ہیں، سزا ہو جائے تو مجرموں کواپیل کا حق حاصل ہے، آرمی چیف، ہائیکورٹ، سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں، یہ فیصلے اس وقت سنائے گئے جب سپریم کورٹ نے حکم دیا، نومئی کا کسی طرح دفاع نہیں کر سکتے اسلئے ملٹری کورٹ بارے پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے، ابھی جو عناصر بات کر رہے ہیں وہ خود کچھ عرصہ قبل ملٹری کورٹ کے حامی تھے،یہ بیانیہ بنایا جا رہا تھا کہ فوج نے خود یہ کروایا، فالس فلیگ، تو پھر اگر ہم نے ان فوج کے بندوں کو سزائیں دے دیں تو انکو خوش ہونا چاہئے، یہ منافقت اور فریب کی آخری حدوں کو کراس کر چکے ہیں، انسداد دہشت گردی عدالتوں میں بھی نو مئی کے مقدموں کو انجام تک پہنچانا چاہئے،نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں ، کچھ لوگ اپنی سیاست کے لئے ان میں زہر ڈالتے ہیں، جو اس بیانیے پروپیگنڈے کی بنیاد رکھتے ہیں اصل ملزم وہی ہیں، انصاف کا سلسلہ اسی وقت چلے گا جب تک نومئی کے منصوبہ ساز کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جا سکتا،
یہ خوش آئند ہے کہ سیاستدان آپس میں مل بیٹھ کر اپنے سیاسی اختلافات حل کریں نہ کہ انتشاری اور پرتشدد سیاست کے ذریعے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پہلے بھی واضح کر چکا،دوبارہ کہتا ہوں کہ افواج پاکستان کا ہر حکومت کے ساتھ سرکاری ، پیشہ وارانہ تعلق ہوتا ہے، سرکاری تعلق کو سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں، پاکستان کی فوج قومی فوج ہے، ہمارے لئے تمام سیاسی پارٹیاں، رہنما قابل احترام ہیں، کوئی فرد واحد اور اُس کی سیاست اور اقتدار کی خواہش پاکستان سے بالاتر نہیں ہے، پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی حکومتیں موجود ہیں، سیاسی جماعتوں کے مابین مذاکرات سیاسی جماعتوں کا استحقاق ہے، یہ خوش آئند بات ہے کہ سیاستدان مل بیٹھ کر اپنے مسائل حل کریں نہ کہ انتشار کے ذریعے.
جو فوجی افسر سیاست کو ریاست پر مقدم رکھے گا، اُسے جواب دینا ہو گا، ڈی جی آئی ایس پی آر
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ فیض حمید کو فوجی عدالت میں تمام حقوق حاصل ہیں،فوج میں خود احتسابی کا نظام اہم ہے، نومئی کے پیچھے مضبوط منصوبہ بندی تھی جو بھی اس میں شامل تھے اس کو کیفرکردار تک پہنچانا ضروری ہے، ہر افسر کے لئے ریاست پاکستان مقدم ہے،کوئی بھی آفیسر سیاست کو ریاست پر مقدم رکھے گا تو اسکو جواب دینا پڑے گا، فیض حمید کا کیس حساس کیس ہے غیر ضروری تبصروں ،تجزیوں سے گریز کیا جائے،
سیاسی قیادت کے بھاگنے کی وجہ سے جگ ہنسائی سے بچنے کےلئے ہلاکتوں کا بیانیہ بنایا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ مخصوص سیاسی جماعت کی جانب سے کی گئی نومبر سازش سیاسی دہشت گردی ہے، یہ منفی تشدد کی سیاست کا سلسلہ 2014 میں جب پارلیمنٹ پر حملہ ہوا، سرکاری املاک پر حملہ ہوا، 2022 میں بھی، 2023 میں بھی اور اسی کا تسلسل اب 2024 میں دیکھا، عوام کے شعور کی وجہ سے تمام کوششیں ناکام ہوئیں، آئندہ بھی ناکام ہوں گی، فوج کی تعیناتی صرف ریڈ زون تک تھی۔ جب پولیس اور رینجرز اہلکاروں کو شہید کیا جاتا ہے تو یہ سیاسی احتجاج نہیں سیاسی دہشت گردی ہے۔فوج کی تعیناتی صرف ریڈ زون تک محدود تھی، وہ پرتشدد ہجوم کے ساتھ براہ راست کنٹیکٹ میں نہیں رہی، نہ ہی اُسے اِس لئے تعینات کیا گیا، دشمن پریشان ہے کہ باوجود دہشتگردی، سیاسی انتشاریوں اور جھوٹے پروپیگنڈا کے یہ ملک ترقی کر کیسے رہا ہے،آپ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کس طرح ایک دم پوری دنیا سے انسانی حقوق کی تنظیمیں قانونیت اور انسانی حقوق کا منفافقانہ پرچار کرنے کےلئے’’پاپ اپ‘‘ہو جاتی ہیں،پروپیگنڈے اور فیک نیوز کے پیچھے سوشل میڈیا اور اُسے چلانے والے ہیں، قانون اور آئین پُرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے لیکن کیلوں والے ڈنڈوں، اسلحے اور شیل لے کر دھاوا بول کر پولیس اور رینجرز کو شہید کرتے ہیں تو یہ سیاسی احتجاج نہیں، سیاسی دہشتگردی ہے،26 نومبر کو ڈی چوک میں سیکیورٹی نافذ کرنے والے اداروں کو آتشیں اسلحہ دیا ہی نہیں گیا تھا، جب سیاسی قیادت وہاں سے بھاگی تو پہلے سے تیار شدہ سوشل میڈیا فیک کانٹینٹ کو بڑی سپیڈ کے ساتھ ڈالا گیا،جو لوگ پاکستان کے ریاستی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلا رہے ہیں ان سے میری درخواست ہے وہ فلسطین اور غزہ میں اسرائیل کے خلاف بھی سوشل میڈیا مہم چلائیں، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو جو واضح اور کھلی بربریت غزہ اور کشمیر میں ہورہی ہے وہ ان کو نظر نہیں آرہی ان کو شام اور لیبیا میں ہوتے ہوئے مظالم نظر نہیں آرہے اور یہاں پاکستان میں ان دیکھی لاشوں پر آپ دیکھیں گے کہ ان کے جذبات بے قابو ہوجائیں گے
ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ کرم کا ایشو قبائلی اور زمینی تنازعہ ہے۔ اسکو صوبائی حکومت اور سیاست دانوں نے حل کرنا ہے بجائے اس کے کہ اس کا ملبہ اداروں پر ڈالا جائے۔








