وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت اقتصادی مشاورتی کونسل کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں ملک کی اقتصادی صورتحال اور ترقی کے حوالے سے اہم بات چیت کی گئی۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم کے ساتھ وفاقی وزراء، مشیران، اور کونسل کے ارکان نے شرکت کی۔

وزیرِ اعظم نے کونسل کے ارکان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ "معاشی استحکام فرد واحد نہیں، بلکہ پوری ٹیم کی کاوشوں کی بدولت ممکن ہوا ہے۔” انہوں نے کہا کہ حکومت معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے مزید محنت کے لیے پرعزم ہے اور اس کے لیے مختلف اقدامات اٹھائے جائیں گے۔اجلاس میں وزیرِ اعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ملک میں مقامی صنعت کو اس قابل بنائے گی کہ ہماری برآمدات بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کر سکیں اور اس کے لیے گرین ڈیٹا سینٹرز کے قیام پر بھی زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ وزیرِ اعظم نے کہا کہ "خطے میں تجارت کے فروغ کی موجودہ استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔”

وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ حکومت ٹیلی کمیونیکیشن سروسز کی بہتری اور دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی رسائی کو بڑھانے کے لیے کوشاں ہے تاکہ آئی ٹی برآمدات اور فری لانسرز کی تعداد میں اضافہ ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ڈیجیٹل کرنسی کو ریگیولیٹ کرنے کے حوالے سے مشاورت جاری ہے اور ہم اس کو ایک موثر منصوبے میں تبدیل کریں گے۔”

اجلاس میں شرکاء نے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اقدامات کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی بار کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کے ساتھ باقاعدگی سے مشاورت شروع کی ہے۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت نے ٹیکس نظام کی بہتری، ضابطوں میں آسانی اور کاروبار و سرمایہ کار دوست ماحول کی فراہمی سے ملکی صنعت میں ترقی کو فروغ دیا ہے۔شرکاء نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اسمگلنگ کی روک تھام سے برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، جو ایک خوش آئند عمل ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس پیشرفت کو سراہا اور کہا کہ "پاکستان کی معیشت مستحکم اور ترقی کی جانب گامزن ہے۔”

کونسل کے ارکان نے وزیرِ اعظم کو مختلف شعبوں کے حوالے سے تجاویز پیش کیں اور وزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ کونسل کے ارکان سے مل کر ایک جامع لائحہ عمل تیار کریں تاکہ ان تجاویز کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔اس اجلاس میں وزیرِ اعظم کے ہمراہ وزیرِ مملکت علی پرویز ملک، وزیرِ اعظم کے کوارڈینیٹر رانا احسان افضل، اور متعلقہ اعلی حکام بھی شریک ہوئے۔

Shares: