قصور
گزشتہ دن ڈسٹرکٹ کورٹس قصور میں عدالت کے باہر پولیس کسٹڈی میں قتل پر شہریوں میں سخت تشویش
تفصیلات کے مطابق گزشتہ دن قصور پولیس کی کسٹڈی میں ہتھکڑیاں لگے شخص کو ڈی پی او آفس کے سامنے قتل کرنے پر شہریوں میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے
ڈسٹرکٹ کورٹس قصور میں کئی لوگوں کے پولیس کسٹڈی میں قتل ہونے کے باوجود اور سخت سیکیورٹی میں ایک بار پھر سے پولیس کسٹڈی میں سرعام قتل کی واردات پر شہری سوال کر رہے ہیں کہ اتنی سخت سیکیورٹی کے باوجود قاتل اسلحہ لے کر اندر کیسے پہنچا اور سرعام قتل کے بعد اتنی آسانی سے کیسے بھاگ نکلا؟
حالانکہ جس جگہ قتل ہوا اسی جگہ واک تھڑو گیٹ لگا کر تلاشی کی جاتی ہے
شہریوں کا سوال ہے کہ اس سے قبل بھی بہت سے لوگ قتل ہوئے جن کے بیشتر مجرمان پکڑے گئے تاہم کیا ان کی معاونت کرنے والے بھی پکڑے گئے؟
اور اندر اسلحہ لیجانے کی یہ معاونت کر کون رہا ہے آخر معاون لوگ کب نشان عبرت بنیں گے؟
گزشتہ دن قصور ڈی پی او آفس کے سامنے عدالت پیشی پر پسند کی شادی کرنے والے نوجوان کی عدالت میں پیشی تھی جس کے خلاف اس کے سسرال نے اغواء کا پرچہ کروا تھا اور وہ پولیس کسٹڈی میں تھا
مقتول نوجوان وقاص کا تعلق نواہی گاؤں روشن بھیلہ سے تھا
اور وقاص کے خلاف اغواء کا مقدمہ تھانہ شیخم میں درج تھا جس پر پسند کی شادی پر لڑکی کے بھائی نے عدالت اور ڈی پی او آفس کے دروازے پر مقتول کو فائرنگ کر کے قتل کیا حالانکہ عدالت میں لڑکی نے اپنے خاوند وقاص کے حق میں بیان دے دیا تھا اور اس کی رہائی تھی