ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیل کے اہم مذہبی مقام دیوارِ گریہ پر سناٹا چھا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، ایرانی حملوں کے خوف کے باعث یہودی زائرین نے دیوارِ گریہ پر آنا چھوڑ دیا ہے اور یروشلم میں غیر معمولی خاموشی چھا چکی ہے۔دیوارِ گریہ، جسے عرب دنیا "دیوارِ براق” کے نام سے جانتی ہے، مسجدِ اقصیٰ کمپاؤنڈ سے متصل ایک مقدس مقام ہے، لیکن حالیہ دنوں میں یہاں عبادت گزاروں کی آمد بالکل بند ہو گئی ہے۔ذرائع کے مطابق، اسرائیلی شہری تہہ خانوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ ایک اسرائیلی اہلکار نے اعتراف کیا ہے کہ سول اور عسکری قیادت بھی زیرِ زمین محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہو چکی ہے۔
واضح رہے کہ 12 اور 13 جون کی درمیانی شب اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، جس کے جواب میں ایران نے "آپریشن وعدہ صادق سوم” کے تحت اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش کر دی۔اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ان حملوں میں 7 فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے حالیہ حملوں میں 3 ایرانی جوہری سائنس دان اور پاسدارانِ انقلاب کے 3 اہلکار شہید ہوئے، جبکہ مزید دو اعلیٰ فوجی افسران، میجر مہدی ربانی اور میجر غلام رضا محرابی کی شہادت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔
ایران نے اسرائیل پر مزید بڑے پیمانے پر حملوں کا اعلان بھی کر دیا ہے اور اس بارے میں فرانس، برطانیہ اور امریکہ کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔
ایف-35 طیارہ گرانے اورخاتون پائلٹ گرفتار ی کی اسرائیل نے تردید کر دی
سندھ حکومت کا ججز کیلئے 19 کروڑ 70 لاکھ روپے کا ریسٹ ہاؤس بنانے کا فیصلہ
امریکا میں سابق اسٹیٹ ہاؤس اسپیکر میلیسا ہارٹ مین اور شوہر قتل