کل پاکستان نئی نسل مشاعرہ جو 2002ء میں دنیائے ادب کے زیرِ اہتمام منعقد کیا گیا۔ بلاشبہ ایک نہایت عمدہ اور یادگار مشاعرہ تھا۔ ایک طرف سینئرز کی کہکشاں تھی اور دوسری طرف نئی نسل کے نمائندہ شعرا کی بہار۔ حمایت علی شاعر صاحب، سحر انصاری صاحب، پیرزادہ قاسم صاحب، انور شعور صاحب اور دیگر کی موجودگی میں کلام سنانا بڑا اعزاز تھا۔

اس زمانے میں سامعین شعرا کو سننے آتے تھے اور شعرا کلام سنانے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔ کلام پڑھ کر اور دوسرے شعرا کا کلام سن کر لطف آتا تھا اور سامعین کئی اشعار اپنے ساتھ لے کر اٹھتے تھے۔ اس وقت مشاعرہ کامیاب اور ناکام کی دوڑ نہ تھی اور نہ ہی مشاعرہ ایک شاعر کے پہلو سے دوسرے شاعر کے پہلو میں اور ایک شاعر کے سر سے تاج دوسرے شاعر کے سر پر سجنے جیسی واہیات ذہنیت تھی۔ ادبی مکالمہ تھا جس میں سب ( خصوصاً نئی نسل کے شعرا) اپنا تازہ اور بہترین کلام سنانے اور سینئرز سے داد پانے کو اپنی کامیابی سمجھا کرتے تھے۔ مشاعرے کے اسٹیج پر ایک سرے سے دوسرے سرے تک کیا کیا قد آور شخصیات ہوا کرتی تھیں مگر مجال ہے کہ کوئی اتھلا پن دکھائے۔ سب ایک دوسرے کو داد دیتے اور فخر سے کہتے کہ بھئی اچھا شعر دشمن کا بھی ہو تو بے ساختہ داد نکلتی ہے۔ نوک جھونک، استادی کا شوق سب تھا مگر عموماً ادب کے دائرے میں۔ پھر اس پست سوچ نے ادبی مکالمہ کو باقاعدہ ادبی مقابلہ بنا ڈالا اور اب تو بعض اچھے خاصے سنجیدہ اور عمدہ شاعر بھی اس دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں کہ انھیں نمبر ون قرار دیا جائے، جیسے شاعر/ شاعرہ نہ ہوئے ہیرو/ ہیروئن ہو گئے۔ اس چکر میں زندگی بھر کی بنی بنائی ساکھ کیسے پل میں مٹی میں ملی اور کیسے وہ ہم جیسوں کے دل سے اتر گئے اس کی بھلا کسے پرواہ۔

اس کل پاکستان نئی نسل مشاعرہ میں خاصی تعداد ایسے شعرا و شاعرات کی دیکھی جا سکتی ہے جنھیں کسی طور نئی نسل کا نہیں کہا جا سکتا مگر وہ نہ صرف نئی نسل کے بلکہ نوجوان کہلاتے تھے( خیر اب بھی جن شعرا کو نئی نسل کا بنا کر پیش کیا جاتا ہے ان میں اکثریت پچاس سے اوپر ہے)۔ مگر اس وقت مشاعرہ اپنے معیار پر سمجھوتہ کرنے کا قائل نہیں ہوا کرتا تھا لہٰذا عمر یا نسل پر سمجھوتا مجبوری ہوا کرتی تھی۔ ان دنوں کوئی ایک آدھ بھرتی یا پرچی کا شاعر/ شاعرہ آ جاتے تو سامعین خود ہی انھیں احساس دلا دیتے کہ وہ سامعین کو احمق نہ سمجھیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو مدیران اور صحافیوں میں اتنی جرات تھی کہ وہ باقاعدہ اپنی رپورٹنگ میں لکھ دیتے کہ فلاں شاعر/شاعرہ کا نام مشاعرہ میں شامل ہی نہیں تھا مگر فلاں سینئر شاعر کی ” سفارش” پر انھیں پڑھوایا گیا۔ افسوس کہ پھر ایسے لوگ لفافے کے چکر میں انھیں لوگوں کو بڑھانے چڑھانے میں لگ گئے جن کا تعارف ہی سفارش تھا۔ اور جینوئن شعرا/ شاعرات جنھوں نے اپنی محنت سے، اپنے قدموں پر سفر طے کیا ان کے جائز حق کو تسلیم کرنے میں بھی کم ظرفی دکھانے لگے۔ نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے اور آثار بتا رہی ہیں کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

بہرحال اس مشاعرہ کا انعقاد دنیائے ادب کا ایک ایسا کارنامہ تھا جسے سراہنا چاہیے۔ گزشتہ دنوں دنیائے ادب نے اس مشاعرہ کی تصاویر شیئر کیں تو سوچا دنیائے ادب کے خصوصی شکریہ کے ساتھ یہ تصاویر آپ احباب کے سامنے پیش کی جائیں۔

Shares: