fbpx

الیکشن اور اس کے کردار تحریر: قاسم ظہیر

دنیا میں کہیں بھی جب الیکشن ہوتا ہے عوام کی رائے بھٹی بھی نظر آتی ہے کچھ موجودہ حکومت کو دوبارہ سے حکومت میں لانے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ لوگ اسے گھر جانے کی ترغیب دیتے ہیں مختصر یہ کہ ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا مختصر کردہ شخص حکومت میں آئے. زمینی حقائق, عوام کی رائے اور کچھ اندرونی طاقتیں سب اپنے اپنے حصے کا کردار نبھاتی ہیں اور آخر پاکستان میں کوئی نہ کوئی حکومت آ جاتی ہے
تاریخ میں دیکھا جائے تو کبھی بھی عوام کی رائے کو فوقیت نہیں دی گئی.جس کی وجہ سے بہت سے شکوک و شبہات جنم لیتے .جمہوریت کا مطلب خالصتا عوام کی حکومت ہے جہاں پر اکثریت کی رائے کا احترام ہر شخص پر لازم ہے.اس کے برعکس کرنے سے نہ صرف پاکستان کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے.پاکستان میں آئے روز الیکشن کو لے کر بحث و مباحثہ ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ سے ہر آنے والی حکومت کو اپنی مدت کے پہلے دو سال تو صرف اسی بات کی وضاحت میں لگ جاتے ہیں کہ وہ جس گورنمنٹ میں بیٹھے ہیں اس کو لوگوں کی اکثریت حاصل ہے.ہر اسمبلی میں حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان یہی چیز زیر بحث رہتی ہے کہ وہ جس طرح حکومت میں آئے ہیں وہ قانونی طریقہ نہیں عوام کی اکثریت حاصل نہیں جس سے نہ صرف ٹیکس پیر کے پیسے کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ انٹرنیشنل سطح پر بھی کوئی اچھا پیغام نہیں جاتا. دوسرے ممالک اس حکومت کو ترجیح نہیں دیتے اور نہ ہی اس کو ڈیموکریٹک تسلیم کرتے ہیں.آج کل دنیا میں دیکھا جہاں پر بھی سویلین بالادستی ہے انکو کو لوگ زیادہ عزت اور احترام دیتے ہیں
ان تمام مشکلات کو دور کرنے کا سب سے بہترین طریقہ ایک جامعہ اور واضح پالیسی لانا ہے جس پر سب کا اتفاق ہو اور جس سے ہمارے الیکشن میں بہتری آئی ہے جیتنے والا جیت مان جائے اور ہارنے والا اپنی خوشی خوشی ہاں تسلیم کر لے آج کل کے ترقی یافتہ دور میں ایسا کرنا بالکل مشکل نہیں رہا ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم اپنے انتخابات کو مکمل صاف شفاف بنا سکتے ہیں لیکن اس کے لئے ایک سنجیدہ اور اعلی ظرف کی ضرورت ہے
کسی بھی ملک کے بیرونی مضبوط ہونے کا انحصار اس کے اندر مضبوط ہونے میں ہے اور الیکشن کا شفاف نہ ہونا اندرونی خلفشار اور ناچاقی کا باعث بنتا ہے.ہمیں پاکستان میں جلد سے جلد اس مشکل پر قابو پانا ہوگا.کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر زیادہ سے زیادہ لوگ دشمن کے ہاتھوں میں کھیلتے رہیں گے اور جس کی وجہ سے ملک میں انتشار پھیلا رہے گا.ان تمام مصیبت سے چھٹکارا پانے کا حل صرف اور صرف الیکشن ریفارمز میں ہے جو ہمیں جلد سے جلد کرنا ہوں گے.الیکشن فارم سے نہ صرف ایک مضبوط حکومت سامنے آئے گی بلکہ سویلین بالادستی قائم کرنے میں بھی مدد ملے گی جو بھی حکومت اقتدار میں آئے گی اس کو وہاں کی عوام کی اکثریت حاصل ہوگی جس کی وجہ سے کوئی بھی غیر قانونی طاقت اس کو ہٹا نے یا مضموم عزائم رکھنے سے باز رہے گی.
پاکستان کے ایک شہری ہونے کے ناطے سے ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ ہماری تمام سیاسی پارٹیاں مل کر ایک جگہ پر بیٹھ کر ان کا حل نکالیں گی اور الیکشن کو سنجیدگی سے لیں گے جس کی وجہ سے ہمارے آنے والے الیکشن کا نظام صاف شفاف ہو گا اور جو شخص بھی وزیراعظم ہاؤس کا خواں ہوگا.وہ قوم کی اکثریت کا رہنما ہوگا.

@QasimZaheer3