عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ ملزمان کہاں ہیں؟ کیوں پیش نہیں کیا گیا؟ تفتیشی افسر کو قانون کی سمجھ بوجھ ہوتی تو ضامن کی آج زر ضمانت ضبط ہوجاتی۔
کراچی سینٹرل جیل انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں منتظم عدالت کے روبرو ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی و دیگر کیخلاف سرکاری ملازمین پر تشدد اور دھمکانے کے مقدمے کی سماعت ہوئی،پراسیکیوٹر، ملزمان اور مدعی کے وکیل اور تفتیشی افسر پیش ہوئے، تفتیشی افسر نے ملزمان کی رہائی سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔
عدالت نے استفسار کیا کہ ملزمان کہاں ہیں؟ مدعی کہاں ہیں؟ وکیل صفائی نے مؤقف دیا کہ مدعی کے وکیل موجود ہیں،عدالت نے ریمارکس دیے کہ پولیس نے ملزمان کو ریلیف دے دیا، دیکھنا ہے کہ 497 اس کیس میں بنتا ہے یا نہیں، عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ ملزمان سے مچلکے لئے ہیں یا ایسے ہی چھوڑ دیا؟
کراچی میں 11 اور 12ربیع الاوّل کو ہیوی ٹریفک پر پابندی عائد
تفتیشی افسر نے کہا کہ جی 10 لاکھ روپے کے مچلکے لیے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کہاں ہیں مچلکے؟ تفتیشی افسر نے مچلکے سے متعلق رپورٹ پیش کی،عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ ضامن ملزمان کو 30 تاریخ کو پیش کرے گا۔
عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ ملزمان کہاں ہیں؟ کیوں پیش نہیں کیا گیا؟ تفتیشی افسر کو قانون کی سمجھ بوجھ ہوتی تو ضامن کی آج زر ضمانت ضبط ہوجاتی،عدالت یہ دیکھے گی کہ تفتیشی افسر نے جو اختیارات کا استعمال کیا ہے وہ قانون کے مطابق ہے بھی یا نہیں۔
سیلاب کے بعد بارشوں کا نیا سلسلہ شروع،سیلاب متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ
عدالت ملزمان کی رہائی سے متعلق زیر دفعہ 497 رپورٹ پر ملزمان کو نوٹس جاری کردیئے، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے مطابق اس رپورٹ پر فیصلہ کیا جائے گا،عدالت نے آئندہ سماعت پر ملزمان اور ضامن کو پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 2 ستمبر تک ملتوی کردی۔