پنجاب میں تباہی مچانے کے بعد منہ زور سیلاب سندھ میں داخل ہوگیا، کندھکوٹ کے کچے کے تمام علاقے زیر آب آ گئے اور شہروں سے رابطہ منقطع ہوگیا۔

گڈو بیراج پر درمیانے درجے کے سیلاب کے باعث ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں ڈوب گئیں جبکہ جیون خان گولو گاؤں کے مکینوں نے بروقت انخلا نہ ہونے پر احتجاج کیا۔حفاظتی بندوں پر دباؤ بڑھنے کے بعد کے کے بند اور اولڈ توڑی بند کو مضبوط بنانے کا کام جاری ہے.پروونشل رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل کے مطابق دریائے چناب میں پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کی آمد و اخراج 6 لاکھ 64 ہزار 22 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

گڈو بیراج پر درمیانہ سیلاب، آمد 5 لاکھ 37 ہزار 220 کیوسک، اخراج 5 لاکھ 5 ہزار 392 کیوسک۔سکھر بیراج پر درمیانہ سیلاب، آمد 4 لاکھ 60 ہزار 490 کیوسک، اخراج 4 لاکھ 22 ہزار 400 کیوسک۔کوٹری بیراج پر نچلا سیلاب، آمد 2 لاکھ 61 ہزار 234 کیوسک، اخراج 2 لاکھ 54 ہزار 354 کیوسک۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 16 سے 19 ستمبر کے دوران نئی مغربی ہواؤں کے باعث بالائی علاقوں میں بارش کا امکان ہے جو بڑے دریاؤں کے کیچمنٹ ایریاز کو متاثر کرے گی۔پی ایم ڈی نے خبردار کیا ہے کہ 14 اور 15 ستمبر کے دوران دریائے سندھ میں گڈو کے مقام پر پانی کا بہاؤ بلند ترین سطح تک پہنچ سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان قومی غذائی اور انسانی بحران کے دہانے پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تباہ کن سیلاب کے باعث 1000 سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں، تقریباً 40 لاکھ افراد بے گھر اور 58 لاکھ متاثر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے سینیٹ میں قرارداد پیش کرتے ہوئے فوری اور فیصلہ کن اقدامات پر زور دیا۔

سعودی عرب کا توانائی انقلاب: 2030 تک 130 گیگاواٹ شمسی پیداوار کا ہدف

بچوں سے رابطے، 7 اے آئی چیٹ بوٹ کمپنیوں کے خلاف تحقیقات شروع

ایمان مزاری کیس: وزارت داخلہ نے خصوصی پراسیکیوٹرز مقرر کر دیے

چھتیس گڑھ: بھارتی فورسز کی کارروائی میں 10 مقامی قبائلی ہلاک

Shares: