ڈیرہ غازی خان کے سیلاب زدہ علاقوں میں ڈوبی ہوئی سڑکوں اور ٹوٹے راستوں نے متاثرہ خاندانوں کو کشتیوں کا محتاج بنا دیا ہے۔
ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کے لیے لوگ پرائیویٹ کشتیوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ اگرچہ اس صورتحال سے مقامی ملاحوں کی آمدنی بڑھ گئی ہے مگر متاثرہ خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔کچے کے علاقے کے سیلاب زدگان بیماروں کو اسپتال لے جانے سے لے کر بچوں کے لیے کھانے پینے کا سامان لانے تک ہر ضرورت کے لیے انہی کشتیوں پر انحصار کر رہے ہیں۔
ملاحوں کا کہنا ہے کہ انہیں روزگار تو مل گیا ہے لیکن غریب خاندانوں کو بار بار پانی کے رستے عبور کرتے دیکھ کر دل دکھتا ہے۔دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں کمی ضرور آئی ہے لیکن متعدد دیہات اب بھی پانی میں گھرے ہوئے ہیں، جہاں کے لوگ کچے گھروں سے نکلنے کے لیے کشتیوں کے کرائے ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ایک جانب ملاحوں کی آمدن بہتر ہوئی ہے، مگر دوسری جانب متاثرہ خاندان غربت اور کسمپرسی کے بوجھ تلے ہر روز نئے امتحان کا سامنا کر رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے یوکرین کو دفاعی نظام کی فروخت کی منظوری
ایرانی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے باڈی گارڈز کے موبائل فون استعمال
سیلاب متاثرین کی ریسکیو کارروائی، تھرمل ڈرون کا استعمال
شہباز شریف اور نریندر مودی جنگ کے بعد پہلی بار ایک ہی فورم پر