آزادی ! چند لمحے سوچتے ہیں
تحریر:نگہت فرمان
چودہ اگست پاکستان کی آزادی کا دن ہے۔ آزادی کیا ہوتی ہے، کسے کہتے ہیں آزادی اور جب آزادی مل جائے تو اس کی حفاظت کیسے کرتے ہیں ؟
کیا آج کا پاکستانی اس آزادی کی روح سے آشنا ہے؟ کیا ہمارے جشنِ آزادی منانے کے انداز اس عظیم مقصد سے ہم آہنگ ہیں جس کے لیے لاکھوں جانیں قربان ہوئیں؟ ہم ہر سال جشن آزادی پر کیا کرتے ہیں ؟ رات کے بارہ بجتے ہی آتش بازی، ڈھول باجے و تماشے کرتے ہیں اور صبح سویرے اخبارات آزادی پر خصوصی ایڈیشن شایع کرتے ہیں، ٹیلی وژن چینلز آزادی کا جشن منانے کے لیے نت نئے پروگرامز ترتیب دیتے ہیں، قومی ترانے، ملی نغمے، بچوں کے ٹیبلوز، لوک فنکاروں کے والہانہ رقص، فیس پینٹنگ، ہلا گلا اور نہ جانے کیا کچھ۔ ہر طرف سبز ہلالی پرچموں کی بہار، ہمارا پرچم، یہ پیارا پرچم، یہ پرچموں میں عظیم پرچم، عطائے رب کریم پرچم، میرا مالک اس عظیم پرچم کو سدا سر بلند رکھے۔ آمین
زندہ قومیں اپنی آزادی کا دن اسی جوش و جذبے سے مناتی ہیں، منانا بھی چاہیے، لیکن وہ آزادی کا جشن ہی نہیں مناتیں بل کہ اپنی ذمے داریوں کا احساس بھی اجاگر کرتی ہیں اس لیے وہ اس دن اپنا احتساب بھی کرتی ہیں، اپنا جائزہ بھی لیتی ہیں، ان سے جو غلطیاں ہوئی ہیں ان سے سبق سیکھتی اور آئندہ ان سے بچنے کا عہد بھی کرتی ہیں۔ ان کے راہ نما اس دن اپنی سال گزشتہ کی غلطیوں کا کھلے دل سے اعتراف کرتے اور اپنی قوم سے معذرت کرتے ہیں، اور اگلے دن اپنی پوری توانائی سے ملک و ملت کی تعمیر و ترقی کے لیے پہلے سے زیادہ تندہی سے مصروف کار ہوجاتے ہیں۔
لیکن کیا کہیے اسے کہ ہم آزادی کا جشن مناتے ہیں لیکن اس آزادی کی روح کو سمجھے بغیر، شعور آزادی کے بغیر، اپنی ذمے داریوں کو سمجھے اور ادا کیے بغیر۔ بدنصیبی کہیے کہ ہم کبھی سنجیدہ نہیں ہوتے۔ کبھی غور نہیں کرتے، سوچتے نہیں اور نہ ہی سمجھتے ہیں اور کوشش بھی نہیں کرتے کہ آزادی ہوتی کیا ہے اور اس کے ثمرات سے ہم اب تک محروم کیوں ہیں۔
چلیے اس پر چند لمحے سوچتے ہیں !
آزادی کسی بھی قوم کے لیے وہ نعمت عظمی اور وہ بیش بہا سرمایہ افتخار ہوتی ہے جو اس قوم کی زندگی اور اس کے تاب ناک مستقبل کی ضامن حیات ہوتی ہے۔ غلام قومیں اور محکوم معاشرے نہ صرف اصل لطف زندگی سے محروم رہ جاتے ہیں بل کہ زمین پر ایک بوجھ بھی ہوتے ہیں۔ غلامی وہ مرض کہن ہے کہ جو دلوں کو یک سر مردہ کردیتا ہے شاید اسی لیے غلامی کو آزادی میں بدلنے کا زریں نسخہ بتاتے ہوئے علامہ اقبال نے بجا طور پر فرمایا تھا:
دل مردہ، دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ!
کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ!
آزادی صرف ایک دن کی خوشی نہیں بل کہ مسلسل شعور، قربانی، اور ذمہ داری کا سفر ہے۔ آج جب ہم 78 واں یومِ آزادی منانے جا رہے ہیں، تو ہمیں جھانک کر دیکھنا ہوگا کہ جشن کی چکا چوند روشنیوں کے پیچھے کہیں ہمارا قومی ضمیر اندھیرے میں تو نہیں ڈوبا ہوا۔
یوم آزادی کے قریب آتے ہی بازار جھنڈیوں، پرچموں اور جھنڈے سے مماثلت رکھتے کپڑوں و دیگر زیبائش کی چیزوں سے بھر جاتے ہیں۔ سڑکوں پر ہلہ گلہ کرتے نوجوانوں کا ہجوم بڑھ جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر وطن عزیز کے متوالوں کی تعداد ان کا جوش و خروش دیکھنے کے قابل ہوتا ہے
لیکن کیا یہی جشنِ آزادی ہے؟ کیا آزادی صرف آتش بازی، گانوں، ہلا گلہ اور سیلفیوں کا نام ہے؟ ہم قیام پاکستان کے مقصد کو سمجھ ہی نہیں سکے۔ ہمارے لوگ خط غربت سے نیچے زندگی کے اذیت ناک دن گزار رہے ہیں۔ انصاف و مراعات صرف اشرافیہ کے لیے ہیں، ہم اپنی ملی غیرت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، ہم عالمی ساہوکار اداروں سے بھیک مانگ مانگ کر گزر بسر کر رہے ہیں اور بھیک بھی ایسی جو وہ اپنی شرائط پر ہمیں دیتے ہیں، ہم ان کی مرضی کے خلاف سانس بھی نہیں لے سکتے، ہماری سرحدیں محفوظ نہیں ہیں، بلوچستان کے حالات سے کون بے خبر ہے۔ ہمارے ہاں ہر روز ایک نیا حادثہ ہے و سانحہ جنم لے رہا ہے۔ ناگہانی اموات و قدرتی آفات نے ہمیں گھیرا ہوا ہے اور ہم پھر بھی خود کو بدلنے کو تیار نہیں۔ ہم آخر کب تک اپنے اس سفاک رویے کو ترک کریں گے؟ اور کریں گے بھی کہ نہیں ؟
یوم آزادی سے پہلے ہمیں محاسبہ کرنا ہوگا اور تجدید کرنا ہوگا کہ ہم بطور قوم ایمان دار بنیں۔ اپنے ملک سے مذہب سے وفادار ہوں گے، آئین کی پاسداری کریں گے،قومیں نعرے لگانے ، تقاریر کرنے گانے گانے سے نہیں بنتیں خود کو بدلنے سے بنتی ہیں۔
تعلیمی اداروں کو بھی چاہیے کہ یوم آزادی کو صرف جذباتی نغموں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اس دن کو علم، شعور، اور کردار سازی کا دن بنائیں۔ ہمیں اپنے نوجوان کے اندر مفادات سے باہر آکر پاکستان کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا اور حقیقی آزادی دلوا کر سبز رنگ کے نیچے چھائی سیاہی کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ اس یوم آزادی پر آتش بازیاں اور گھروں میں چراغاں ہی نہیں دلوں میں چراغ جلائیں محبت کے وفا کے اور ایمان کے۔
چلیے احمد ندیم قاسمی یاد آئے، اسے پڑھتے ہیں اور اس پر آمین بھی کہتے ہیں:
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو
خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو
ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو